ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
انرجی
خانوادہ سلسلہ عظیمیہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں ... ایک آدمی
جوتے گانٹھتا ہے ... پھر وہی آدمی خود نیا جوتا بناتا ہے ... پھر وہی آدمی مشین پر جوتے بناتا ہے
اور دن بھر میں دس بارہ جوڑے بنا لیتا ہے -
اس نے یہ سب کیسے کیا ؟ اتنے ہی وقت میں ... اسی توانائی اور انہی صلاحیتوں کے ساتھ وہ
چند ایک جوتے مرمت کرکے گزارا کرتا ہے ... تب بھی اور اگر دس بارہ جوڑے جوتے نئے
بنا کر بیچتا ہے تب بھی ... اور اگر فیکٹری لگا کر سینکڑوں جوتے روزآنہ بناتا ہے تب بھی ...
وہ ایسا کرسکتاہے -
فرمایا ... گھر میں تھری فیز وائرنگ کی طرح کی بات ہے ، بجلی کی مقدار تو ایک ہی ہے ... آپ
اس سے دو دو اے سی چلائیں اور چاہے محض پندرہ واٹ کا بلب جلا کر گزارا کرتےر ہیں -
فرمایا ... مساوات مادی وسائل نہیں بلکہ صلاحیتوں کی یکساں تقسیم کا نام ہے -
اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک مساوات کا مفہوم انسان کو توانائی کا ذخیرہ مساوی مقدار میں فراہم کیا جانا
ہے - اس توانائی کو بروئے کار لانے کا پورا اختیار انسان کو دیا گیا ہے - آپ چاہیں تو اس توانائی
کو استعمال کرکے بھکاری بن جائیں اور چاہیں تو سائنسدان اور چاہیں تو قارون آپ کو روکا کس
نے ہے کہ آپ ریسرچ نہ کریں -
بھکاری بننے میں کیا توانائی نہیں صرف کرنا پڑتی ... آپ دیکھیں بھکاری دن بھر کتنی سخت
محنت کرتے ہیں -
اللّٰہ نے انسان کو انرجی دے دی ... اس انرجی کو استعمال کرنے کا اختیار دے دیا - اب فیصلہ
آپ نے کرنا ہے کہ اس توانائی کو ... اس انرجی کو کیسے اور کیونکر استعمال کرنا ہے ، کرنا بھی
ہے یا نہیں - BMMK
No comments:
Post a Comment