Monday, November 25, 2013

نظریہ رنگ و نور1




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


نظریہ رنگ و نور 


ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک بار مرشد کریم حضور خواجہ صاحب سے نظریہ رنگ و نور کے حوالے سے بات کی تو     فرمایا ..." روحانی علوم کے تین شعبے ہوتے ہیں .. اجمال ، تفصیل اور اسرار - اجمال خلاصہ کو کہتے ہیں آپ اسے کتاب کے دیباچے سے تشبیہ دے سکتے ہیں - تفصیل .. کتاب کا پورا متن ہوا اور اسرار .. کتاب کا مفہوم ہوا -

 اجمال کے معلمین گروہ جبرائیل جیسے مقرب فرشتے ہیں - تفصیل حضور صلّ الله علیہ وسلّم خود پڑھاتے ہیں اور اسرار الله تعالیٰ - اجمال خلاصہ ہے اور تفصیل اور اسرار تعلیمات ہیں - 

علم لدنی میں الله تعالیٰ جس بندے کو خود ہی منتخب کرکے اسے جو چاہیں تعلیم کردیں -  نظریہ رنگ و نور روحانی علوم کا خلاصہ نہیں ہے .. یہ خلاصے اور تفصیل کے بین بین ہے -

قلندر بابا اولیاؒء نے اسرار کو مغیبات اکوان کا نام دیا ہے ، یعنی غیب کے سسٹم کا خلاصہ .. سمری ہوا ، تفصیل Details  کو کہہ لیں تو اسرار کسی سسٹم کے پیچھے کام کرنے والی مقصدیت ہی قرار پاتی ہے -

حضور قلندر بابا اولیاؒء نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ کی تعلیمات ساٹھ سال کی عمر میں شروع ہوں گی -حضور قلندر بابا اولیاؒء کی اپنی تعلیمات ساڑھے تین سال میں مکمل ہوگئی تھیں "...BMMK

 -


Thursday, November 7, 2013

علمی سرمایہ




علمی سرمایہ



        سلسلہ عظیمیہ کے پیغام کو عوام الناس میں زیادہ سے زیادہ متعارف کرانے کے لئے آپ نے اپنے مرشد  قلندر  بابا اولیاؒء  کی  زیر سرپرستی ان کی زندگی میں اور بعد از وصال دونوں ادوار میں نہایت سرگرم کردار ادا کیا ... اس دوران آپ نے اپنے قلم کو خوب استعمال کیا .. اخبارات و رسائل میں کالم و مضامین تحریر کئے ... ایک ماہنامہ رسالہ روحانی ڈائجسٹ کا اجراء کیا ... پمفلٹس لکھے کتابیں تحریر کیں -

            تصوف اور روحانی علوم کا فروغ سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات کا تعارف ، ان تعلیمات کی تفہیم اور تدریس ، اسلامیات ، علاج معالجہ اور دیگر موضوعات پر تصنیف و تالیف کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جو  خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب  کے قلم سے نکل کر خواص و عوام کے استفادہ کے لئے عام ہے -

          ان کی تحریر کردہ کتابوں کی تعداد پینتیس سے زائد ہے .. ان میں کئی کتابوں کے انگریزی ، عربی ، فارسی ، روسی ، تھائی ، اور سندھی زبانوں میں تراجم شایع ہوچکے ہیں - آپ نے ساٹھ سے زائد کتابچے تحریر کئے ... ان کے علاوہ مختلف موضوعات پر بارہ کتابوں کے پیش لفظ تحریر کئے -

         آپ کی تین کتب کے انگریزی تراجم برطانیہ کی سالفورڈ یونیورسٹی برمنگھم کے Department of Rehabilitation    میں گریجویشن اور ماسٹرز ڈگری کے نصاب میں شامل ہیں - 
کتاب احسان و تصوف بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ علوم اسلامیہ کے ماسٹرز ڈگری کے نصاب میں شامل ہے -

Saturday, November 2, 2013

روحانی تربیت



روحانی تربیت


 حضرت سید محمّد عظیم برخیا کے در معرفت سے وابستہ ہونے کے بعد شمس الدین انصاری کی  روحانی و صوفیانہ تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا - آپ نے اپنے استاد کی خدمت میں 16 سال تک  رہ کر روحانی علوم حاصل کئے -




قلندر بابا اولیاء نے روحانیت سے شغف رکھنے والے اپنے تمام مریدین  کی تعلیم و تربیت فرمائی ... تا ہم اپنے مرید  شمس الدین انصاری کی روحانی تربیت پر بہت زیادہ توجہ دی اس دوران قلندر بابا اولیاء نے انہیں خواجہ کا لقب بھی عطا فرمایا -

چانچہ سلسلہ عظیمیہ کے ارکان نے انہیں خواجہ صاحب کہنا شروع کردیا ..  خواجہ شمس الدین عظیمی کو اپنی روحانی نسبت پر بہت زیادہ فخر ہے .. اس فخر کا اظہار انہوں نے اپنے نام کے ساتھ عظیمی لکھ کر بھی کیا ہے -

 1969ء میں روزنامہ حریت کراچی میں روحانی علوم اور تصوف کے حوالہ سے خدمت خلق کے لئے ایک ہفتہ وار کالم بعنوان روحانی علاج کی اشاعت کا آغاز ہوا - اس کالم میں بھی آپ نے اپنا نام  خواجہ شمس الدین عظیمی ہی لکھا - اس طرح حضور قلندر بابا اولیاؒء  کے اس عاشق صادق کو لوگ  خواجہ شمس الدین عظیمی کے نام سے جاننے اور پکارنے لگے -

سلسلہ عظیمیہ کے بانی و مرشد حضرت  قلندر بابا اولیاؒء 27 جنوری 1979ء کو واصل بحق ہوئے - آپ کے انتقال کے بعد  سلسلہ عظیمیہ کی سربراہی کا مرتبہ آپ کے خصوصی تربیت یافتہ روحانی فرزند  خواجہ شمس الدین عظیمی کو ملا -