علمی سرمایہ
سلسلہ عظیمیہ کے پیغام کو عوام الناس میں زیادہ سے زیادہ متعارف کرانے کے لئے آپ نے اپنے مرشد قلندر بابا اولیاؒء کی زیر سرپرستی ان کی زندگی میں اور بعد از وصال دونوں ادوار میں نہایت سرگرم کردار ادا کیا ... اس دوران آپ نے اپنے قلم کو خوب استعمال کیا .. اخبارات و رسائل میں کالم و مضامین تحریر کئے ... ایک ماہنامہ رسالہ روحانی ڈائجسٹ کا اجراء کیا ... پمفلٹس لکھے کتابیں تحریر کیں -
تصوف اور روحانی علوم کا فروغ سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات کا تعارف ، ان تعلیمات کی تفہیم اور تدریس ، اسلامیات ، علاج معالجہ اور دیگر موضوعات پر تصنیف و تالیف کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جو خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے قلم سے نکل کر خواص و عوام کے استفادہ کے لئے عام ہے -
ان کی تحریر کردہ کتابوں کی تعداد پینتیس سے زائد ہے .. ان میں کئی کتابوں کے انگریزی ، عربی ، فارسی ، روسی ، تھائی ، اور سندھی زبانوں میں تراجم شایع ہوچکے ہیں - آپ نے ساٹھ سے زائد کتابچے تحریر کئے ... ان کے علاوہ مختلف موضوعات پر بارہ کتابوں کے پیش لفظ تحریر کئے -
آپ کی تین کتب کے انگریزی تراجم برطانیہ کی سالفورڈ یونیورسٹی برمنگھم کے Department of Rehabilitation میں گریجویشن اور ماسٹرز ڈگری کے نصاب میں شامل ہیں -
کتاب احسان و تصوف بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ علوم اسلامیہ کے ماسٹرز ڈگری کے نصاب میں شامل ہے -
No comments:
Post a Comment