Friday, March 27, 2026

عرفان


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


عرفان 


 سربراہ سلسلہ عظیمیہ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب عرفان کی بابت بات کرتے ہوئے

 فرماتے ہیں  ... ایک بار  حضور  صلی اللّٰه علیہ وآ له وسلّم نے حضرت علی کرم اللّٰه  وجہہ سے

 دریافت کیا  ... 

علیؑ  ! تم نے مجھے دیکھا 

حضرت علیؑ نے فرمایا  ...  جی ہاں  ،  میں نے آپؐ کو بدر میں دیکھا 

محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا  ... تم نے مجھے نہیں دیکھا 

مولا علی علیہ السلام نے فرمایا  ... میں نے آپؐ کو احد میں دیکھا 

سیدنا حضورعلیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا  ... تم نے مجھے نہیں دیکھا 

پھر کہا  ... اچھا آؤ اب دیکھو  - حضرت مولا علی علیہ السلام تاب نظارہ نہ لاسکے اور بے ہوش

 ہوکر گر پڑے - 

عظیمی صاحب فرماتے ہیں  ... یہ تو ذکر ہے حضرت علی علیہ السلام جیسی برگزیدہ ہستی کا ، 

 جنہیں حضور  صلی اللّٰه علیہ وآ له وسلّم کا اتنا قرب حاصل رہا ... داماد رسول ہیں  ،  ان کی تربیت

 خود  حضورعلیہ الصلوٰة والسلام نے فرمائی ، مگر وہ بھی نہیں دیکھ سکے - بھئی عرفان کی کوئی حد ہی

 نہیں  ،  جتنا بھی ہوجائے کم ہی رہتا ہے - BMMK






Saturday, March 21, 2026

لطائف


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


لطائف 

 حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب لطائف کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں  ...

 دراصل کسی اطلاع  کی نزولی اور صعودی حرکات ہی لطائف ہیں - لطائف کی رنگینی سے مراد

 ہے کہ لاشعوری تحریکات کو کس درجہ پر کس قدر وضاحت سے وصول کیا جاتا ہے - 

پیر و مرشد شعور سے بعد کے تصور کو لطائف سے اور  اس میں گہرائی کو رنگینی سے واضح کرتا ہے -

 پیر و مرشد اصل میں صرف مرید کے لطیفہ نفسی کو رنگین کرتا ہے  ... اس کی اتنی صفائی کرتا ہے کہ

 وہ صیقل ہوجائے  ،  ورنہ جو کچھ سامنے آئے گا اس میں آمیزش ہوگی -

 جب لطیفہ نفسی کے رنگین ہونے یعنی اس کی صفائی مکمل ہونے سے پہلے لطیفہ قلبی رنگین

 ہوجائے یعنی کام کرنا شروع کردے اور اس کی تحریکات شروع ہوجائیں تو آدمی شیطان کو

 فرشتہ دیکھتا ہے - اس کی بہت سے مثالیں ہیں  ،  ایک مثال غلام احمد قادیانی بھی ہے  ... وہ

 شیطان کو فرشتہ ہی سمجھتا رہا -

فرمایا نزولی کیفیت میں ذات کا عرفان ہوتا ہے جب کہ صعودی میں صفات کا ،  مثال کے طور پر

 پھول کا ادراک ہونا کہ یہ گلاب ہے  ،  یہ پھول کی ذات کا عرفان ہوا  ،  ..اور یہ سرخ رنگ ہے ..

 ایسی خوشبو ہے ، اس میں کانٹے ہیں وغیرہ یہ سب اس کی صفات کا عرفان ہوا -

مزید ارشاد فرمایا .. تصوف میں بیان کردہ مختلف لطائف خلا کے مختلف نام ہیں - خلامیں کوئی درجہ

 بندی نہیں ہوتی یہ سب اصطلاحی نام ہیں یعنی   Technical term   ہیں - تصوف کی کتابوں میں

 اکثر لطائف کا نام ہی بتایا گیا ہے -

 حضرت امداد اللّٰه مہاجر مکّیؒ کی لکھی ہوئی کتاب بہت عمدہ کتاب ہے لیکن اس میں لطائف

 کے رنگ مختلف بتائے گئے ہیں - پھر فرمایا .. در اصل لطائف اس طرح نہیں ہیں جس طرح

 بتایا جاتا ہے .. یہ سب لوگوں کو بات سمجھانے کے طریقے ہیں -

ایک اور موقع پر لطائف کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ... کائنات میں 

دور کرنے والے کرنٹ کی لہریں دو طرح کی ہوتی ہیں .. ایک افقی اور دوسرے عمودی - ایک کو

 طولانی حرکت کہتے ہیں اور دوسری کو گردشی ، ایک شعور ہوا اور دوسرا لاشعور .. جب یہ دو لہریں

 آپس میں مرکب ہو جاتی ہیں تو بارہ  کھرب پوائنٹس بن جاتے ہیں .. ان پوائنٹس کو ان کی کارکردگی

 کی بنیاد پر چھ گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے .. تصوف میں انہیں لطائف کہا جاتا ہے .. یہ انسان 

ہوا -جب ان لہروں میں تھوڑا فاصلہ در آتا ہے اور گردشی حرکت غالب آجاتی ہے تو ہم سو

 جاتے ہیں  اور جب یہ فاصلہ اور زیادہ ہوجاتا ہے تو ہم اس کو مرنا کہتے ہیں .. روحانی آدمی اس

 فاصلے کو ختم کردیتے ہیں یعنی ان دونوں لہروں کو واپس جوڑ دیتے ہیں تو آدمی زندہ ہوجاتا ہے 

-جب کبھی کسی ایک عضو کے پوائنٹس میں کرنٹ کا بہاؤ رک جاتا ہے تو وہ عضو بے کار ہو جاتا

 ہے جیسے کسی ٹیوب لائٹ کی تار خراب ہوجائے تو ٹیوب لائٹ روشن نہیں ہوتی حالانکہ

 بجلی موجود ہوتی ہے .. اب اگر آپ ٹوٹے ہوئے تار کو جوڑ دیں تو بجلی کا بہاؤ شروع ہوجائے گا

 اور بلب ، ٹیوب یا پنکھا دوبارہ کام شروع کردے گا - BMMK