ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
عظیمی صاحب فرماتے ہیں ✦..." یقین بھی ایک کیفیت ہے ... بے یقینی بھی ایک کیفیت
ہے اور کیفیت اطلاع میں معنی پہنانے کو کہتے ہیں -
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے غور و فکر سے بتوں کی بےچارگی کا سراغ لگایا - بتوں کی
بے چارگی دیکھ کر انہوں نے اپنے رب کی تلاش میں غور و فکر کرنا شروع کردیا - ستارہ دیکھ کر
کہا ... یہ میرا رب ہے مگر جب وہ غروب ہوگیا تو کہا ، نہیں ... غروب ہونے والی چیز میرا رب
نہیں ہوسکتی -
چاند دیکھا تو کہا ... گھٹتی بڑھتی شے میرا رب نہیں ہوسکتی پھر سورج دیکھ کر فرمایا ... ڈوب
جانے والا میرا رب کیونکر ہوسکتا ہے یعنی اب ان کو لا متغیر کی تلاش ہوئی - اس ذات سے
دوری ہونا جو گھٹتی بڑھتی نہیں ... بے یقینی ہے اور اس کا قرب ہی یقین ہے -
تقرب الٰہیہ یہ یقین عطا کرتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ سب اللّٰہ کی طرف سے ہے - انسان کی
ساری زندگی اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہے ، جب انسان کو یہ بات سمجھ آجاتی ہے تو وہ پر یقین
ہوجاتا ہے -
وسوسوں کا تعلق بے یقینی سے ہے اور وسوسہ سے بےیقینی پیدا ہوتی ہے ... بے یقینی نفرت کو
جنم دیتی ہے اور نفرت انتقام پیدا کرتی ہے ... انتقام غصہ پیدا کرتا ہے اور غصہ کرنے سے
جسمانی نظام میں ٹوٹ پھوٹ ہونا لازم ہے - اس ٹوٹ پھوٹ سے دماغ متاثر ہوتا ہے اور
انسان کا ہر قدم اندھیروں کی طرف اٹھتا ہے -
مزید فرمایا ... وسوسہ ، شیطان کا عمل دخل ہے ، ذہن میں یقین ہے تو اندیشہ نہیں ہوگا ، اندیشہ
نہیں ہوگا تو بے یقینی اور اس سے جڑے لازمی نتائج بھی نہیں ہوں گے - یقین کا پیٹرن جتنا
ار فع ہو گا خوف اور غم سے اسی قدر نجات ہوگی - آپ جتنا اللّٰہ کے قریب ہوں گے اتنا ہی
آپ پر یقین ہوں گے "...✦ BMMK