Wednesday, December 31, 2025

یقین اور بے یقینی


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


یقین اور بے یقینی 


  عظیمی صاحب فرماتے ہیں   ..."     یقین بھی ایک کیفیت ہے  ... بے یقینی بھی ایک کیفیت 

ہے اور کیفیت اطلاع میں معنی پہنانے کو کہتے ہیں  - 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے غور و فکر سے بتوں کی بےچارگی کا سراغ لگایا  - بتوں کی

 بے چارگی دیکھ کر انہوں نے  اپنے رب کی تلاش میں غور و فکر کرنا شروع کردیا  - ستارہ دیکھ کر

 کہا  ... یہ میرا رب ہے مگر جب وہ غروب ہوگیا تو کہا  ،  نہیں  ... غروب ہونے والی چیز میرا رب

 نہیں ہوسکتی  - 

چاند دیکھا تو کہا  ... گھٹتی بڑھتی شے میرا رب نہیں ہوسکتی  پھر سورج دیکھ کر فرمایا  ... ڈوب

 جانے والا میرا رب کیونکر  ہوسکتا ہے  یعنی اب ان کو لا متغیر کی تلاش ہوئی  - اس ذات سے

 دوری ہونا جو گھٹتی بڑھتی نہیں  ... بے یقینی ہے اور اس کا قرب ہی یقین ہے  - 

تقرب الٰہیہ یہ یقین عطا کرتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ سب اللّٰہ کی طرف سے ہے  - انسان کی

 ساری زندگی اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہے  ،  جب انسان کو یہ بات سمجھ آجاتی ہے تو وہ پر یقین

 ہوجاتا ہے  - 

وسوسوں کا تعلق بے یقینی سے ہے اور وسوسہ سے بےیقینی   پیدا ہوتی ہے  ... بے یقینی نفرت کو

 جنم دیتی ہے اور نفرت انتقام   پیدا کرتی ہے  ... انتقام غصہ   پیدا کرتا ہے  اور غصہ کرنے سے

 جسمانی نظام میں ٹوٹ پھوٹ ہونا لازم ہے  - اس ٹوٹ پھوٹ سے دماغ متاثر ہوتا ہے اور 

انسان کا ہر قدم اندھیروں کی طرف اٹھتا ہے  - 

مزید فرمایا  ... وسوسہ  ،  شیطان کا عمل دخل ہے  ،  ذہن میں یقین ہے تو اندیشہ نہیں ہوگا  ،  اندیشہ

 نہیں ہوگا تو بے یقینی اور اس سے جڑے لازمی نتائج بھی نہیں ہوں گے  - یقین کا  پیٹرن جتنا

 ار  فع ہو گا خوف اور غم سے اسی قدر نجات ہوگی  - آپ جتنا اللّٰہ کے قریب ہوں گے اتنا ہی

 آپ پر یقین ہوں گے   "... BMMK




 

Tuesday, December 30, 2025

حقیقت اور فکشن


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر

 

حقیقت اور فکشن 


  خانوادہ سلسلہ عظیمیہ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں ..." 

حقیقت بدلتی نہیں  ،  اس میں تغیر نہیں ہوتا اور جس میں تغیر ہے وہ سب فکشن ہے  - فرمایا...

  اِنَّماَ  اَمرُہُ   اِذَآ   اَرَادَہ  شئیاً   .. یعنی جب اس کا امر کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو حکم دیتا ہے

  ... ہوجا  اور وہ ہوجاتی  ہے -

یعنی اللّٰہ کن نہیں کہتا  ،  اس کا امر کن کہتا ہے  ... یہاں اللّٰہ نے خود کو الگ کرلیا ہے  ،  یعنی تغیر 

ذات میں نہیں ہوتا  ... صفات میں ہوتا ہے  - صفات کا تغیر ہی رنگینی کائنات  کا سبب ہے اور

 یہ سب فکشن ہی تو ہے  "...  BMMK

Monday, December 29, 2025

شعور-1


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


شعور 

 

 عظیمی صاحب فرماتے ہیں  ...  ایک آدمی جس کی عمر بیس سال ہے اس کی زندگی کا ہر لمحہ انسانی

 جسم سے تعلق اور دلچسپی کی داستان ہے  ،  جسم بیمار ہوتا ہے تو یہ محض ایک کیفیت کا اظہار

 ہے  ،  جسم تو محض ایک ذریعہ ہے کسی وجود کے اظہار کا  -  

جسم انسانی بے اختیار ہے  ... شعور اگر اطلاع فراہم نہ کرے تو جسم اس لاؤڈ اسپیکر کی طرح 

ہے جس پر کوئی تقریر نہ کی جارہی ہو - جسم کی بنیاد شعور ہے اور شعور کی بنیاد کہیں سے موصول

 ہونے والی اطلاع ہے  - 

جسم بعض اوقات اطلاعات سے بلند ہوجاتا ہے جیسے سونے کی حالت - اس جیتی جاگتی تصویر

 یعنی اس جسم کی اپنی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے  - اس جسم کو کوئی ایجنسی متحرک رکھے ہوئے 

ہے اور اس ایجنسی کا نام شعور ہے  ... محض شعور ہی کی بنیاد پر زندگی کا تسلسل جاری ہے  -

 جب شعور عالم ناسوت کی زندگی سے عارضی طور پر رشتہ منقطع کرلیتا ہے اور دوسرے عالم میں

 منتقل ہوجاتا ہے  تو وہ اس مصدر اطلاعات کے قریب ہوجاتا ہے جو انسان کی اصل ہے اور 

اس عالم میں چونکہ کوئی تغیر نہیں ہے  ،  اس لئے وہ جو اطلاعات وصول کرتا ہے وہ براہ راست 

موصول کرتا ہے  -   BMMK






Sunday, December 28, 2025

خوشی - - 2


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


خوشی  

 

 مرکزی مراقبہ ہال سرجانی ٹاؤن میں قلندر شعور کی کلاس میں لیکچر دیتے ہوئے عظیمی صاحب نے

 ارشاد فرمایا ..."    انسان خوشی کے بارے میں ان نابیناؤں جیسا وطیرہ رکھتا ہے جو ہاتھی سے

 واقف نہ تھے  اور اسے ٹٹول کر اس کے بارے میں اندازے لگا رہے تھے  - خوشی کیا ہے  ؟  

حقیقت یہ ہے کہ انسان خوشی سے واقف ہی نہیں  ،  خوشی تو جنت کی ایک کیفیت ہے جو بدلتی

 نہیں  ،  متغیر نہیں  ،  لا متغیر  و لا متبدل ہے  - تغیر میں خوشی نہیں ہوتی  - 

زندگی ایک کیفیت ہے اور کیفیت کے سوا کچھ نہیں جس میں ہر لحظہ تغیر واقع ہوتا ہے  ... اس

 کیفیت میں وہ عنصر جس میں تغیر واقع نہیں ہوتا  ... خوشی ہے  -

حضور قلندر بابا اولیاءؒ   کا فرمان ہے  ... انسان اگر شعوری کیفیات و واردات سے آزاد ہوکر بے 

کیف ہوجائے تو یہ اصل خوشی ہے  - 

اب یہ کیسے ممکن ہے  ؟   یہ اس طرح ممکن ہے کہ ہمارے لئے ہمارا جسم اہم ہے - ہم زندگی کو

 جسم سے منسلک سمجھتے ہیں   ... لاشعور ہمیں ہمارے جسم کے بارے میں اطلاع فراہم کرتا ہے

 اور یہی اطلاع شعور ہے  - خوشی اور غم  ،  کسی چیز سے ہماری   Attachment  کی مناسبت 

سے ہوتا ہے  - 

آپ کسی کو اپنی مرضی سے پانچ ہزار روپے دے دیں  ،  آپ کو دکھ نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات

 خوشی ہوتی ہے لیکن اگر آپ سے پانچ سو روپے کھو جائیں تو وہ بھول کر نہیں دیتے  ،  یعنی آپ

 نے پانچ سو روپے سے اپنا تعلق شعوری طور پر ختم نہیں کیا  اس لئے دکھ ہوا  "...   BMMK





Friday, December 26, 2025

مذہب


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


مذ ہب 

 

  خانوادہ  سلسلۂ عظیمیہ جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب  مذہب کے موضوع پر تبصرہ

 کرتے ہوئے فرماتے ہیں  ...  ہر مذہب شخصیت پرستی ہی کا آئینہ دار ہے  ،  لوگ شخصیت سے

 لگاؤ ہی کے سبب نظریات کو اپناتے اور لے کر اٹھتے ہیں  -  قر ة العین طاہرہ کے بارے میں

 بتایا کہ  کس طرح اس نے بہاء اللّٰہ سے ایک ہی ملاقات کے بعد اپنے   پیر و مرشد کے لئے ان

 کے نام سے ایک علحیدہ مذہب  ' بہائی مذہب  ' کی بنیاد رکھی  -  

وہ انتہائی حسین و جمیل اور قابل تھی  ،  ایسی شعلہ بیان مقررہ  ،  خطیب اور شاعرہ تھی کہ اس 

نے ایران کے طول و عرض میں آگ لگادی - اس مذہب کے تمام اصول و ضوابط اسی کے

 مرتب کردہ ہیں - 

اس مذہب میں عبادات زیادہ نہیں ہیں  ... وہ دعاؤں پر ہی زیادہ زور دیتے ہیں  ،  ان کی عبادت

 گاہیں کھلی اور کشادہ ہوتی ہیں  ،  عام طور پر سمندر کنارے یا کسی پہاڑی مقام پر بناتے ہیں  - 

امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا کے لئے جس مذہب کا انتخاب کیا ہے وہ بہائی مذہب ہی ہے  - 

اسی طرح چین میں ایک نبی گزرے ہیں لیو شاؤ چی  - جب انہیں کوئی بندہ نہ ملا تو انہوں نے

 ہجرت کی ٹھانی اور گدھے پر سامان لاد چل دیئے - شہر سے باہر چونگی والے نے ان سے

 دریافت کیا ...  تو بتایا کہ یہاں کوئی میری بات ہی نہیں سنتا لہٰذا میں ہجرت کررہا ہوں -

 اس چونگی والے نے کہا اگر میں آپ کی بات سنوں تو کیا آپ میرے پاس ٹھہرنا پسند فرمائیں

 گے - فرمایا  ... لیو شاؤ چی کا مذہب اور ان کی تعلیمات اسی ایک چونگی والے کی بدولت باقی ہیں -     BMMK





شکر


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


شکر 


  شکر کی تعریف کرتے ہوئے عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں  ..."  اللّٰہ کی دی ہوئی نعمت کو 

استعمال کرنا  ... شکر ہے  -  منہ سے شکر ہے کہنا یا شکر الحمد للّٰہ  کہتے رہنا اور عطا کی گئی نعمت  ،

  خواہ وہ کوئی چیز ہو یا صلاحیت  ... اس کو استعمال نہ کرنا  ،  اس کو ضا ئع   کرنا  ،  شکر کرنے کا حق

 ادا ...  نہ کرنا ہی ہوا   "...   BMMK

Thursday, December 25, 2025

بارہ کھرب خلیات


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 بارہ کھرب خلیات


  حضرت عظیمی صاحب فرماتے ہیں   ... انسان میں بارہ کھرب خلیات ہوتے ہیں  ... جن میں سے

 دو کھرب صرف ذہن سے متعلق ہوتے ہیں  - ایک عام آدمی میں ان میں سے ڈیڑھ دو سو سیلز

 ہی چارج ہوتے ہیں   ،  جینئیس  ( نابغہ ) لوگوں میں یہ تعداد سوا دو سو تک ہوجاتی ہے  ... روحانی

 لوگوں میں یہ تعداد کروڑوں اربوں میں ہوتی ہے  -

 صرف ایک ہستی سیدنا حضورعلیہ الصلوٰة والسلام  کی ذات اقدس کے تمام سیل چارج تھے -


عظیمی صاحب سے سوال کیا گیا کہ ان سیلز یا خلیات کو زیادہ سے زیادہ چارج کرنے کی ترکیب کیا ہے  ؟  

فرمایا  ... ان کاموں سے بچیں جن سے سیل ڈسچارج ہوتے ہیں  - غصہ اور شک ان روشنیوں 

کو ضائع  کردیتے ہیں جن سے سیل چارج ہوتے ہیں  - کبر اور خواہش اقتدار غصہ کی بنیادی وجوہ

 ہیں  ... برسوں کی ریاضت ایک بار غصہ کرنے سے ضائع   ہوجاتی ہے  -جب غصہ آتا ہے تو آدمی

 کے اندر سے اللّٰہ نکل جاتا ہے شیطان داخل ہوجاتا  ہے - 

زیادہ سونے سے بھی یہ سیل چارج نہیں ہوتے  ،  اسی لئے کہتے ہیں ڈھائی پونے تین گھنٹے سے

 زیادہ سونے والا مومن ہو ہی نہیں سکتا  - BMMK






Tuesday, December 23, 2025

قرض


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


قرض  


  ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب اپنے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب 

سے اپنی ایک ملاقات کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  ...  کراچی مراقبہ ہال میں مسجد کی تعمیر 

تکمیل کے مراحل میں داخل ہوچکی تھی  ،  ساتھ میں مراقبہ ہال کی عمارت کی تعمیر بھی آغاز ہوچکی

 تھی  - میں نے مبارک باد  دی کہ تعمیر کا کام ماشاء اللّٰه تیزی سے ہورہا ہے -  

عظیمی صاحب نے فرمایا  ... آپ نے دیکھا  ،  اللّٰه نے کرم کیا کام ہورہا ہے  ... قرض لینا پڑ گیا

 ہے - میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں ازراہ تبصرہ کہا  ... واقعی قرضہ کا بوجھ بہت ہوتا ہے  - 

ایک جھٹکے سے فرمایا  ... اجی بوجھ ھوگا تو اللّٰه پر  ،  مجھ پر کاہے کا بوجھ  ؟   اس کا کام ہے  ،  وہ 

جانے قرضہ جانے  ،  بھئی ہمیں کام دیا  ،  وسائل دیئے  ،  جب کام مکمل ہوجائے گا تو لوگ کہیں

 گے عظیمی صاحب نے کیا  ... کرتا اللّٰہ ہے نام بندے کا کردیتا ہے  ،  بھئی وسائل اللّٰہ ہی دیتا

 ہے  - حضورعلیہ الصلوٰة والسلام  تک نے ادھار لیا  ،  اپنے لئے نہیں لیا  ،  اللّٰہ کے کسی کام کے

 لئے لیا   ،  اللّٰہ نے اسے چکا دیا   ... اب جیسے بھی وہ چاہے - 

پھر نرمی اور    پیار بھرے لہجے میں قرض کے حوالے سے بتایا کہ اللّٰہ نہ اپنے ذمے کبھی کوئی قرض

 چھوڑتا ہے نہ فقیر کے  ،  نہ اچھا نہ برا  ،  ایک پورا نظام قائم ہے اس کے لئے  - اللّٰہ کے بندے

 بھی اسی ذیل میں آتے ہیں  - اللّٰہ ان کے ذمے بھی کبھی کوئی قرض نہیں چھوڑتا   ،  نہ اچھا نہ برا

  لیکن ہم اللّٰہ پر چھوڑیں تو سہی  ... ہم اللّٰہ پر چھوڑتے نہیں تو وہ بھی کہہ دیتا ہے  ... چلو ٹھیک

 ہے جیسے تم راضی  -

یہ بات بھی فرمائی کہ قرض لینا نہیں چاہیئے  ،  اس سے یقین متاثر ہوتا ہے لیکن یہ گھر کا سودا سلف

 وقتی طور پر ادھار آنا قرض کی تعریف میں نہیں آتا  - BMMK






Monday, December 22, 2025

راہ حق


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 راہ حق 


  اپنے والد صاحب کے متعلق بات کرتے ہوئے ایک موقع پر عظیمی صاحب نے فرمایا ... 

 ... جب میں نے حضور قلندر بابا اولیاء سے تعلق جوڑا تو یوں لگتا تھا کہ سب ہی مخالف

 ہوگئے ہیں  -  میرے والد صاحب نماز روزے کی پابندی میں بہت سختی فرماتے تھے   ... اس 

لئے سبھی سمجھتے تھے کہ وہ بہت زیادہ مخالفت کریں گے  لیکن انہوں نے اگر حمایت نہیں کی تو

 مخالفت بھی نہیں فرمائی بلکہ اپنے  پاس بٹھا کر ایک دو ذاتی  واقعات سنا کر سمجھایا کہ.. اب جب

 تم نے اس راہ پر چلنے کا قصد کرہی لیا ہے تو پھر دو باتوں کو پلے سے باندھ لو - 

اس راہ میں جو بھی مشکلات آ ئیں  ان سے گھبرانا نہیں اور دل نہیں ہارنا ورنہ ساری محنت

 اکارت چلی جائے گی اور دوسری بات یہ فرمائی کہ کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اپنے مرشد کی

 بات کبھی نہیں ٹالنا  ،  جو وہ کہیں جس قدر بھی ممکن ہو اس پہ بلا چوں و چرا عمل کرنا -

فرمایا  ... میرے والد صاحب حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ سے بیعت تھے - جب ان

 کے مرشد کریم نے شفقت فرمائی تو ان کی کیفیات بننے لگیں لیکن ساتھ میں یہ ہوا کہ ان کو غصہ

 بہت آنے لگا - وہ بات بے بات اکھڑ جاتے  ،  باہر بس نہ چلتا تو گھر میں تند و درشت لہجے میں

 بات کرتے - 

ہماری والدہ نے ابا کی شکایت کردی  ... دادا جان نے انہیں دو ایک بار تنبیہہ فرمائی   ،  انہوں نے

 کوشش کی لیکن قابو کھودیتے  نتیجتاً والدہ نے شکایت جاری رکھی تو ایک روز پاس بٹھا کر ان کی

 پشت پر ہاتھ پھیرا اور سب کیفیت سلب کرلی - 

والد صاحب کی اس بات سے سچی بات ہے مجھے حوصلہ ہوا اور تقویت ملی  - ماں باپ کو چاہیئے 

کہ وہ اپنی منوائیں لیکن جب دیکھیں کہ بچہ اب اس قابل ہوگیا ہے کہ وہ اپنے برے بھلے کو 

سمجھنے لگا ہے تو پھر اس کو سپورٹ کریں  ... اس طرز عمل سے اولاد باغی نہیں ہوتی - 

ماں باپ سمجھدار ہوں تو وہ اپنے بچوں کو خود اپنے   پیروں  پہ کھڑا ہونے میں مدد دیتے ہیں تاکہ وہ

 اپنے فیصلے خود کرسکیں     "...BMMK






Sunday, December 21, 2025

مرشد


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر 


مرشد 


عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں  ... مرشد کو مافوق الفطرت انسان نہیں سمجھنا چاہئیے  ،  وہ بھی

 ایک عام انسان ہی ہوتا ہے   ،  جو کھاتا ہے  ،  پیتا ہے  ... رفع حاجت کرتا ہے   ،  اونگھتا اور سوتا

 ہے  - یہ سمجھنا کہ وہ ہر وقت دوربین لگائے مریدوں کو دیکھتا رہتا ہے   ،  درست نہیں  - BMMK