ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
روح
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب روح کے متعلق بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں ...
علم الاسماء کے مطابق خیال کا آنا ایک اطلاع ہے - یہ اطلاع کہاں سے وارد ہوتی ہے ؟
یہ اطلاع ہمیں ہماری روح دیتی ہے ... ہماری روح ہی اصل انسان ہے -
انسان کے اندر اگر روح ہے تو اس کے اندر حرکت ہے - موت کے بعد یعنی جب روح اس
جسم کو چھوڑ دیتی ہے ... تو سب اعضاء ہونے کے باوجود انسان کسی بھی قسم کی کوئی حرکت
نہیں کرسکتا - ہمارا مادی جسم ، ہمارے لباس کی مانند ہے - یہ ہماری روح کا لباس ہے -
جب تک ہماری روح اس لباس کو پہنے رہتی ہے ... اس کو سنبھال رکھتی ہے ... یہ جسم حرکت
کرتا ہے -
روح امر رب ہے ... اور امر رب یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کن کہہ کر اس کو
وجود بخش دیتاہے - جب اللّٰہ نے کن کہا تو روح بنی ، اور فیکون کی صورت میں اس کا مظاہرہ
ہوا -
اللّٰہ نے عالم ارواح میں پوچھا ... کیا نہیں ہوں میں تمہارا رب .. تو روحوں نے اقرار کیا اور کہا
... جی ہاں ، آپ ہی ہمارے رب ہیں - روح جو ہماری اصل ہے ، وہ روح اللّٰہ کی ربوبیت کا
اقرار بھی کرچکی ہے ... اس کو دیکھ بھی چکی ہے - ہمارا مادی جسم اس روح کے تا بع ہے -
آج کا سائنسدان اگر روح نہیں ، اگر اس میں حرکت نہیں ، اگر اس میں اوپر سے آنے والی
انسپائریشن کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ... تو وہ ایجاد کیسے کرسکتا ہے ؟
سائنسدان جو کچھ بھی کرتا ہے ، اس روح کی بنیاد پر کرتا ہے - اب وہ اس بات کو تسلیم کرتا
ہے یا نہیں ... یہ ایک الگ بات ہے -
عظیمی صاحب مزید ارشاد فرماتے ہیں ... اگر ہم اسلامی تعلیمات پر گہرائی میں غور کریں تو ہمیں
معلوم ہوگا کہ یہ سب انتظام ہمیں اپنی روح سے واقف کروانے کے لئے کیا گیا ہے - مثلاً جب
ہم نماز قائم کرتے ہیں اور اس میں ہمیں یک سوئی حاصل ہوجائے تو ہم اپنی روح کے قریب
ہوجاتے ہیں -
ایک طریقه اسلامی تعلیمات پر غور و فکر کرکے روح سے آشنائی پیدا کرنا ہے اور
دوسرا طریقہ حضورعلیہ الصلوٰة والسلام کی سنت کا اتباع کرکے اپنی روح سے واقف ہونا ہے -
آپ صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم نے تین سال تک غار حرا میں اللّٰہ کی نشانیوں پر غور و فکر کیا ... اتنا
عرصہ ذہن ایک ہی نکتہ پر مرتکز رہا ... تو اللّٰہ تعالیٰ نے گروہ ملائے اعلیٰ کے فرشتے حضرت جبرائیلؑ
کو حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم کے پاس بھیجا اور وہ ... اقراء بسم ربک الذی خلق ... کا پیغام
لے کر آپ کے پاس آئے -
ہم نے اس بات کو بنیاد بناتے ہوئے غور و فکر کرنے کے نظام ... مراقبہ پر کام کیا ہے -
اس کے باقاعدہ سلیبس مرتب کئے ہیں - مراقبہ کی باقاعدہ کلاسیں منعقد کرکے انسان کو اپنی روح
کا کھوج لگانے کا طریقہ سکھا رہے ہیں -
اگر ہم عرفان حاصل کرنے کی جدوجہد نہیں کریں گے تو سکون اور خوشی حاصل نہیں ہوگی -
روح کا ادراک حاصل کریں تو اللّٰہ سے دوستی ہوجاتی ہے - روحانیت تو لامحدودیت کا سفر ہے
- لوگ کہتے ہیں روح کا قلیل علم دیا گیا ہے ... یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اللّٰہ کا علم لامحدود ہے تو
لامحدود کا جزو بھی لامحدود ہوگا -
سب مظاہر کے پس پردہ ایک ہی روح کام کرتی ہے - روح ہر نوع کے لئے معین کی گئی
مقداروں کے مطابق اس کو بناتی اور چلاتی ہے -
ایک موقع پر عظیمی صاحب سے سوال کیا گیا کہ ... کیا روح کا کوئی تشخص ہوتا ہے اور کیا اس سے
رابطہ کیا جاسکتا ہے ؟
فرمایا ... روح کا ایک تشخص ہوتا ہے اور اس کی بنیاد ... اللّٰہ کی صفات ہیں - جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ
نے خود بیان فرمایا ہے کہ ... میں نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے ، یعنی انسان میں
اپنی صفات کا عکس پیدا کیا ہے -
جہاں تک روح کے تشخص سے رابطے کا تعلق ہے تو وہ اسی بات سے ثابت ہے کہ ، اہل قبور کو
سلام کہنے کا حکم حدیث شریف سے ثابت ہے - مزید فرمایا کہ ... خواب کا جسم یعنی انسان کا وہ
جسم جو حالت خواب میں متحرک ہوتا ہے وہ روح سے بہت قریب ہے -
ایک اور موقع پر عظیمی صاحب نے ارشاد فرمایا ... حیرت کی بات ہے سب کے اندر ایک ہی
روح ہے ... کہیں یہ روح پیغمبر بن جاتی ہے ، کہیں یہ مرشد اور کہیں مرید -
ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب نے عرض کیا ... جب سب کے اندر ایک ہی روح ہے ...
سب ایک ہی مسالے کے بنے ہوئے ہیں تو پھر یہ افراتفری ، اختلاف اور فساد کیوں ہے ؟
فرمایا ... یہ اسی بات سے لاعلمی کے سبب ہے -
ایک صاحب نے دریافت کیا ... کیا یہی آواگون ہے ؟
فرمایا ... اس بات کو یعنی سب میں ایک ہی روح ہونے کی بات کو انہوں نے کچھ اور ہی طرح
سمجھا ہے کہ ... ایک ہی روح ہے جو بار بار عود کرتی ہے اور مختلف روپوں میں سامنے آتی ہے
، حالانکہ ایک ہی روح کا سب مظاہر میں کارفرما ہونا اور ایک ہی روح کا بار بار روپ بدلنا ...
دو مختلف باتیں ہیں - روح تو ایک کرنٹ کی مانند ہے جو سب مظاہر میں زندگی کا باعث ہے تو وہ
بار بار روپ کیوں بدلے گی - BMMK
خبرِ غم ...
سلسلہ عظیمیہ کے بہت ہی سینئر اور سرگرم رکن ، ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب
رضائے الٰہی سے انتقال کرگئے - اِنّا للّٰہ و انِّا الیہِ رَاجعُون - اللّٰہ تعالیٰ ... ڈاکٹر صاحب کو
اعلٰی علیین میں مقام عطا فرمائے - آمین - 2026-1 - 3