Tuesday, January 13, 2026

وولٹیج


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


وولٹیج 

 

 الشیخ عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں  ..."   قرآن میں جن اشیاء کا تذکرہ کیا گیا ہے  ،  وہ

 سب انسان کے لئے مفید  ہیں اور اس کو فائدہ دیتی ہیں - زیتون کو دیکھیں اس کے تیل میں

 کولیسٹرول نہیں ہوتا  ،  زیتون کا تیل انگلیوں پر لگ جائے تو صرف پانی سے ہاتھ دھولینا ہی کافی

 ہوتا ہے  ... صابن کے بغیر بھی ہاتھ صاف ہوجاتے ہیں - پھر یہ کہ اس کے تیل کو جلائیں تو وہ دھواں نہیں دیتا - 

اسی طرح شہد کی مکھی کی بابت یہ کہا گیا ہے کہ اس کو وحی کی جاتی ہے یعنی جب ہم شہد کھاتے

 ہیں تو وحی کی مقداریں ہی تو کھاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وحی کو سمجھنے والا ذہن بنتا ہے -

 ہم یوں بھی تو مقداریں ہی تو کھاتے ہیں - یہ مقداریں ہی تو ہیں جن کی وجہ سے ایک چیز دوسری

 سے مختلف ہوجاتی ہے - 

نمک اور سنکھیا دونوں سفید ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں - دراصل

 ان کی وولٹیج میں فرق ہوتا ہے -

 فرمایا  ... مختلف لوگوں میں مختلف وولٹیج کی لہریں کام کرتی ہیں - بعض اوقات آدمی ...  کسی

 روحانی آدمی سے گلے ملتا ہے تو ساری زندگی اس کیف کو یاد کرتا ہے - ایک دوسرے سے گلے 

 ملنے میں یہ لہریں ایک دوسرے میں منتقل ہوتی ہیں -

 بعض لوگ پوری طرح گلے نہیں ملتے  ... دراصل انہیں جھٹکا لگتا ہے ،  ان میں وولٹیج کی کمی

 ہوتی ہے اور جب وہ کسی سے گلے ملتے ہیں تو انہیں جھٹکا لگتا ہے - بچوں میں بڑوں کی نسبت

 وولٹیج زیادہ ہوتی ہے اس لئے انہیں گلے  لگانے سے سکون ملتا ہے  ،  یوں لگتا ہے جیسے باقاعدہ

 کوئی چیز اندر جارہی ہو - آپ بچے کو سینے پر لٹائیں تو نیند آجاتی ہے -

 گالی دینے سے یہ وولٹیج ضا  ئع ہوتی ہے - فرمایا ... علی الصبح اٹھنے کا ایک بڑا فائدہ اس وولٹیج کا

 زیادہ ہونا بھی ہے  "...✦    BMMK





Monday, January 12, 2026

سوئی


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


سوئی 

  

 عظیمی صاحب اپنے مرشد کریم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں  ... ایک بار حضور قلندر بابا اولیاءؒ

 نے کسی سے فرمایا  ... خواجہ صاحب تو سوئی ہیں  -

 فرمایا  ... یہ بات سن کر مجھے کچھ رنج سا ہوا کہ میں اتنا حقیر ہوں -

 جب حضور کو خبر ہوئی تو فرمایا  ... ارے بھئی  میرا مطلب یہ تھا کہ خواجہ صاحب ہر طرح کے

 حالات سے گزر جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں - سوئی سے مخمل سی لو  ،  ٹاٹ سی لو  ،  وہ ہر طرح

 کے کپڑے سے گزر جاتی ہے -     BMMK

Sunday, January 11, 2026

رات اور دن


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


رات اور دن 


 ایک محفل مراقبہ کے موقع پر  ، وہاں موجود حاضرین سے عظیمی صاحب نے سوال پوچھا  ...

 یہ کیسے پتہ چلے کہ پہلے دن نہیں بلکہ رات تھی  ؟ 

 ایک مرید نے عرض کیا  ... اس کے لئے دو دلائل دیئے جاسکتے ہیں -پہلی دلیل تو یہ ہے کہ  قمری

 تاریخ شام کو سورج ڈھلنے کے بعد آغاز ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ بائبل میں آتا ہے کہ خدا نے

 کہا  ... روشنی اور روشنی ہوگئی -

 یعنی پہلے تاریکی اور رات ہی تھی ،  روشنی کو اللّٰہ نے بعد میں تخلیق کیا -

 فرمایا  ... جی ہاں  ،  اب یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں کیا ہیں  ؟  فرمایا  ... دراصل یہ دونوں خلا ہیں  -

 دن میں رات نکالتے ہیں اور رات میں سے دن ادھیڑ لیتے ہیں  - دن پر سے رات اور رات پر

 سے دن  ،  یعنی ادھیڑ اور بن رہے ہیں -

 ہاتھ سے ادھیڑنے کے عمل کا اشارہ کرکے دکھاتے ہوئے پوچھا  ... اگر کسی بنے ہوئے کپڑے یا

 سوئیٹر کو ادھیڑ یں تو کیا بچے گا  ؟

  فرمایا  ... کچھ نہیں  ،  یعنی کچھ باقی نہیں بچا  ،  یہ سب خلا ہے - خلا میں ایک قسم کے حواس بھر

 جاتے ہیں تو وہ دن کہلاتا ہے اور جب دوسری قسم کے حواس بھر جاتے ہیں تو وہ رات کہلاتی

 ہے - یہ دن اور رات دراصل حواس کی اسپیڈ کے نتیجے میں بنتے ہیں اور دونوں ہی دھوکہ ہیں -

 جب حواس کی رفتار کم ہوجاتی ہے تو دن کہلاتا ہے اور جب حواس کی رفتار تیز ہوجاتی ہے تو اس

 کو رات کہہ دیتے ہیں - یہ سب لطائف وغیرہ بھی خلا ہی تو ہیں -     BMMK





Saturday, January 10, 2026

فیض


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


فیض 

 

  ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب نے اپنے مرشد کریم حضرت عظیمی صاحب سے دریافت کیا 

 ... حضور یہ فیض سے کیا مراد ہے  ؟

  فرمایا  ... لوگ نہ جانے فیض کسے کہتے ہیں - فیض سے مراد ہے رنگ چڑھنا  ، اگر کسی پر کسی کا

 رنگ چڑھ گیا تو یہ فیض ہوا  ... ویسے طرز فکر میں تبدیلی ہونا ہی فیض ہے لیکن یہ تو ایسے ہی ہے

 جیسے کسی پہ چند چھینٹے اس رنگ کے پڑگئے  ... 

 جیسے کوئی ہاتھ دھو کر جھٹک دے اور چند قطرے آپ پر آن  گریں  ،  ویسے لوگ تو فائدہ کی بات

 کو ہی فیض مانتے ہیں -    BMMK

Wednesday, January 7, 2026

جمال و جلال


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


جمال و جلال 

 

سربراہ سلسلہ عظیمیہ خواجہ صاحب ارشاد فرماتے ہیں ...   انسان میں بھی زمین ہی کی مانند تین حصے

 پانی ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کو یہ صلاحیت ودیعت کردی گئی ہے کہ وہ ہر 

حال میں ایڈجسٹ کرسکتا ہے - 

پانی میں فطرتاً جلال نہیں ہوتا لہٰذا انسان میں بھی نہیں ہونا چاہیئے - اگر انسان  کی ساخت میں

 جلال شامل ہوتا تو اس میں آ  گ زیادہ ہوتی - 

مائع کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے - دنیا میں سب سے زیادہ رنگ  ...

 ہرا رنگ ہے - یہ ہرا رنگ ہی زندگی اور جمال ہے - جمال ہی اللّٰہ ہے اور اللّٰہ ہی جمال ہے - 

اللّٰہ میں غصہ یا جلال نہیں - اگر ہوتا تو ہر طرف سرخ رنگ کی زیادتی ہوتی  -

آسمان کو دیکھ لیں  ، سمندر کو دیکھ لیں  ، جلال کی سرخی کہیں نہیں - پھولوں کو دیکھیں  ،  ان میں

 ترتیب اور رنگ آفرینی جمال نہیں تو اور کیا ہے  ؟  جمال ہی جمال کا  پھیلاؤ ہے ہر سو  ، ہر سمت -  BMMK





Monday, January 5, 2026

سماعت


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


سماعت 


 عظیمی صاحب کا ارشاد ہے  ... اس د نیا میں آنے کے بعد بچہ سب سے پہلے حواس سے واقف 

ہوتا ہے  - اس کی سماعت الست بربکم کی آواز سے متحرک ہونے والی سماعت ہوتی ہے  -

 آپ دیکھیں کہ چند روز کے بچے کے قریب آپ اخبار کھولیں  ... اس کی سرسراہٹ سے بھی

 بچہ  چونک جاتا ہے لیکن اس کی نظر ایک جگہ ٹکی رہتی ہے  ، یعنی پہلے سماعت متحرک ہوتی ہے 

اس کے بعد کہیں جاکر بصارت کام کرتی ہے  - BMMK

Sunday, January 4, 2026

مشفق و مہربان


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


مشفق و مہربان 

 

 خانوادہ سلسلہ عظیمیہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب  ،  واقعہ سناتے ہوئے فرماتے

 ہیں    ..."    ایک بار ایک صاحب نے حضور قلندر بابا اولیاء سے کہا کہ  آپ خواجہ صاحب پہ

 اتنے مشفق اور مہربان کیوں ہیں  ؟ 

 اس پر حضور نے انہیں کہا  ... آپ مسجد قدوسیہ کے باہر کھڑے ہوکر بھیک مانگ کر دکھا دیں   -

 وہ صاحب تو یہ کہہ کر کہ ہم سمجھ گئے  ، خاموش ہوگئے  - مگر جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو

 میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگر کبھی حضور نے مجھ سے کہہ ہی دیا   ... تو کیا میں یہ کام کر بھی 

پاؤں گا  ؟   چنانچہ میں جاکر مسجد کے باہر کھڑا ہوگیا اور بھیک مانگنے لگا  -

 اگلے روز وہ پیسے جو اس طرح اکھٹے ہوئے  ،  ان میں کچھ اور پیسے شامل کرکے دیگ پکائی اور

 لوگوں میں تقسیم کردی    "...✦ BMMK





Saturday, January 3, 2026

روح


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


روح 


 حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب  روح کے متعلق بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں   ...

  علم الاسماء کے مطابق خیال کا آنا ایک اطلاع ہے  -  یہ اطلاع کہاں سے وارد ہوتی ہے  ؟

  یہ اطلاع  ہمیں ہماری روح دیتی ہے  ... ہماری روح ہی اصل انسان ہے -

 انسان کے اندر اگر روح ہے تو اس کے اندر حرکت ہے - موت کے بعد یعنی جب روح اس

 جسم کو چھوڑ دیتی ہے  ... تو سب اعضاء ہونے کے باوجود انسان کسی بھی قسم کی کوئی حرکت

 نہیں کرسکتا - ہمارا مادی جسم  ،  ہمارے لباس کی مانند ہے - یہ ہماری روح کا لباس ہے -

 جب تک ہماری روح اس لباس کو پہنے رہتی ہے  ... اس کو سنبھال رکھتی ہے  ... یہ جسم حرکت

 کرتا ہے - 

روح امر رب ہے  ... اور امر رب یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کن کہہ کر اس کو

 وجود بخش دیتاہے - جب اللّٰہ نے کن کہا تو روح بنی  ،  اور فیکون کی صورت میں اس کا مظاہرہ

 ہوا -

اللّٰہ نے عالم ارواح  میں پوچھا  ...  کیا نہیں ہوں میں تمہارا رب   .. تو روحوں نے اقرار کیا  اور کہا

  ... جی ہاں  ،  آپ ہی ہمارے رب ہیں -  روح جو ہماری اصل ہے  ،  وہ روح اللّٰہ کی ربوبیت کا

 اقرار بھی کرچکی ہے  ...  اس کو دیکھ بھی چکی ہے - ہمارا مادی جسم اس روح کے تا بع ہے -

آج کا سائنسدان اگر روح نہیں  ،  اگر اس میں حرکت نہیں  ،  اگر اس میں اوپر سے آنے والی

 انسپائریشن کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں  ... تو  وہ ایجاد کیسے کرسکتا ہے  ؟

  سائنسدان جو کچھ بھی کرتا ہے  ،  اس روح کی بنیاد پر کرتا ہے - اب وہ اس بات کو تسلیم کرتا

 ہے یا نہیں  ... یہ ایک الگ بات ہے - 

عظیمی صاحب مزید ارشاد فرماتے ہیں  ... اگر ہم اسلامی تعلیمات پر گہرائی میں غور کریں تو ہمیں

 معلوم ہوگا کہ یہ سب انتظام ہمیں اپنی روح سے واقف کروانے کے لئے کیا گیا ہے -  مثلاً  جب

 ہم نماز قائم کرتے ہیں اور اس میں ہمیں یک سوئی حاصل ہوجائے تو ہم اپنی روح کے قریب

 ہوجاتے ہیں -

 ایک طریقه اسلامی تعلیمات پر غور و فکر کرکے روح سے آشنائی   پیدا کرنا ہے اور

 دوسرا طریقہ حضورعلیہ الصلوٰة والسلام کی سنت کا اتباع کرکے اپنی روح سے واقف ہونا ہے - 

آپ صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم  نے تین سال تک غار حرا میں اللّٰہ کی نشانیوں پر غور و فکر کیا  ... اتنا

 عرصہ ذہن ایک ہی نکتہ پر مرتکز رہا  ... تو اللّٰہ تعالیٰ نے گروہ ملائے اعلیٰ  کے فرشتے حضرت جبرائیلؑ

 کو  حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم  کے پاس بھیجا اور وہ  ...  اقراء بسم ربک الذی خلق  ... کا  پیغام

 لے کر آپ کے پاس آئے - 

ہم نے اس بات کو بنیاد بناتے ہوئے غور و فکر کرنے کے  نظام  ... مراقبہ پر کام کیا ہے -

 اس کے باقاعدہ سلیبس مرتب کئے ہیں - مراقبہ کی باقاعدہ کلاسیں منعقد کرکے انسان کو اپنی روح

 کا کھوج لگانے کا طریقہ سکھا رہے ہیں - 

اگر ہم عرفان حاصل کرنے کی جدوجہد نہیں کریں گے تو سکون اور خوشی حاصل نہیں ہوگی -

 روح کا ادراک حاصل کریں  تو اللّٰہ سے دوستی ہوجاتی ہے - روحانیت تو لامحدودیت کا سفر ہے

 - لوگ کہتے ہیں روح کا قلیل علم دیا گیا ہے  ... یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اللّٰہ کا علم لامحدود ہے تو

 لامحدود کا جزو بھی لامحدود ہوگا  -

  سب مظاہر کے پس پردہ ایک ہی روح کام کرتی ہے - روح ہر نوع کے لئے معین کی گئی

 مقداروں کے مطابق اس کو بناتی اور چلاتی ہے - 


ایک موقع پر عظیمی صاحب سے سوال کیا گیا کہ  ... کیا روح کا کوئی تشخص ہوتا ہے اور کیا اس سے

 رابطہ کیا جاسکتا ہے  ؟ 

فرمایا  ...  روح کا ایک تشخص ہوتا ہے اور اس کی بنیاد  ... اللّٰہ کی صفات ہیں  - جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ

 نے خود   بیان فرمایا ہے کہ  ... میں نے انسان کو اپنی صورت پر   پیدا کیا ہے  ،  یعنی انسان میں

 اپنی  صفات کا عکس   پیدا کیا ہے -

  جہاں تک روح کے تشخص سے رابطے کا تعلق ہے تو وہ اسی بات سے ثابت ہے کہ  ،  اہل قبور کو

 سلام کہنے کا حکم حدیث شریف سے ثابت ہے - مزید فرمایا کہ  ... خواب کا جسم یعنی انسان کا وہ

 جسم جو حالت خواب میں متحرک ہوتا ہے وہ روح سے بہت قریب ہے - 


ایک اور موقع پر عظیمی صاحب نے ارشاد فرمایا  ... حیرت کی بات ہے سب کے اندر ایک ہی

 روح ہے  ... کہیں یہ روح   پیغمبر بن جاتی ہے ،  کہیں یہ  مرشد اور کہیں مرید  -

ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب نے عرض کیا  ... جب سب کے اندر ایک ہی روح ہے ...

 سب ایک ہی مسالے کے بنے ہوئے ہیں تو پھر   یہ افراتفری  ،  اختلاف اور فساد کیوں ہے  ؟ 

فرمایا  ...  یہ اسی بات سے لاعلمی کے سبب ہے -

ایک صاحب نے دریافت کیا  ... کیا یہی آواگون ہے ؟ 

فرمایا  ...  اس بات کو یعنی سب میں ایک ہی روح ہونے کی بات کو انہوں نے کچھ اور ہی طرح

 سمجھا ہے کہ  ... ایک ہی روح ہے جو بار بار عود کرتی ہے اور مختلف روپوں میں سامنے آتی ہے  

،  حالانکہ ایک ہی روح کا سب مظاہر میں کارفرما ہونا اور ایک ہی روح کا بار بار روپ بدلنا  ...

 دو مختلف باتیں ہیں - روح تو ایک کرنٹ کی مانند ہے جو سب مظاہر میں زندگی کا  باعث ہے تو وہ

 بار بار روپ کیوں بدلے گی - BMMK


خبرِ غم  ...

سلسلہ عظیمیہ کے بہت ہی سینئر اور سرگرم رکن  ،  ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب

 رضائے الٰہی سے انتقال کرگئے - اِنّا للّٰہ و انِّا الیہِ رَاجعُون -  اللّٰہ تعالیٰ  ... ڈاکٹر صاحب کو

 اعلٰی علیین میں مقام عطا فرمائے  - آمین -                                                                      2026-1 - 3





 

Friday, January 2, 2026

خوشی اور غم


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


خوشی اور غم 

 

 خواجہ صاحب نے ایک مرتبہ خوشی اور غم پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا   ...  خوشی اور غم دو

 کیفیتوں کے نام ہیں  - ایک بات جو آپ کے لئے بہت ہی بڑی خوشی کی بات ہے وہی

 کسی اور کے لئے ناخوشی اور دکھ کی بات ہوسکتی ہے  -

 خوشی اور غم کو روحانی آنکھ سے دیکھنے والے کو یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سب معنی پہنانے کا کھیل ہے

 اور معنی پہنانے والی ایجنسی ہمارا ذہن ہے  -

 اگر وہ وصول ہونے والی اطلاع میں درست معنی پہناتی ہے تو اس کے نتیجے میں خوشی کی

 کیفیت مرتب ہوتی ہے اور غلط اور تخریبی معنی پہنائے جاتے ہیں تو ناخوشی اور تکلیف مقدر 

بن جاتی ہے  - 

مزید ایک شعر  سے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا  ... یہ لمبی بحر میں ہے  ... 

ہر  خوشی  اک  وقفۂ     تیارئ    سامان   غم 

ہر سکوں مہلت برائے اضطراب و امتحان 

یعنی ہر خوشی کے بعد غم اور ہر غم کے بعد خوشی آتی ہے یعنی یہ دونوں کیفیتیں ادل بدل ہوتی

 رہتی ہیں - بعض لوگ زیادہ حساس ہونے کے سبب پچاس (50)فیصد کے بجائے اسی  (80)

فیصدغمگین ہوتے ہیں -    BMMK





Thursday, January 1, 2026

سدرة المنتہٰی


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


سدرة  المنتہٰی 


خواجہ صاحب سدرة المنتہٰی  اور واقعہ معراج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ارشاد فرماتے

 ہیں  ...  سدرة المنتہٰی  ... بیری کا وہ درخت جو بہت ہی گھنا اور بڑا ہو  - در اصل یہ سب مثالیں

 ہیں بات کو بیان کرنے کے لئے جیسے سمندر کو بیان کرنا ہو تو کہتے ہیں  ،  پانی ہے  ، پانی میں بڑی

 بڑی لہریں اٹھتی ہیں  ... ساحل سے ٹکرا کر واپس پلٹ جاتی ہیں  - 

یعنی ایک بڑی چیز کو بیان کرنے کے لئے اس کو چھوٹی چھوٹی اشیاء سے واضح کیا جاتا ہے  -

 اسی طرح  سدرة المنتہٰی  ،  انتہائی گھنا  ،  بڑا اور وسیع درخت  ... لامحدودیت کا سمبل ہے لیکن

 اپنی تمام تر لامحدودیت کے باوجود محدود ہی ہے  ،  اس سے آگے قاب  قوسین ہے یعنی فاصلہ

 نہیں رہا  - جب فاصلہ نہیں رہا تو خدوخال اور ڈائمینشن ( ابعاد  ) بھی نہ رہے  ،  اسپیس بھی نہ رہا -

  BMMK