Thursday, October 31, 2013

حالات زندگی




مختصر حالات زندگی    


  خواجہ شمس الدین عظیمی کے والد ماجد کا نام حاجی انیس احمد انصاری اور والدہ ماجدہ کا نام امت الرحمن ہے - آپ کی پیدائش بروز پیر مورخہ 17 اکتوبر 1927ء مطابق 1346ھ بمقام قصبہ انبیٹھہ ضلع سہارنپور( یو- پی )  بھارت میں ہوئی-  سلسلہ نسب میزبان رسول صلّ الله علیہ وسلّم  حضرت خالد ابو ایوب انصاریؓ سے ملتا ہے -

 آپ کے آباؤ اجداد میں سے ایک صاحب حضرت خواجہ مبارک انصاری جو صوبہ ہرات افغانستان کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ عبدللہ انصارؒی ( پیر ہرات ) کی اولاد میں سے تھے ... ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے .. خواجہ شمس الدین انصاری انہی خواجہ مبارک انصاری صاحب کی اولاد میں سے ہیں -  

 حضرت رشید احمد گنگوہؒی کے خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپورؒی نے آپ کے والد جناب انیس احمد انصاری کے بچپن میں یتیم ہوجانے کے بعد ان کی پرورش فرمائی آپ ان کے پھوپھا تھے - جناب انیس احمد انصاری حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ سے بیعت بھی تھے اس حوالے سے بھی آپ جناب الشیخ عظیمی صاحب کے دادا ہیں -

شمس الدین انصاری صاحب کا بچپن سہارنپور میں ہی گزرا - آپ بچپن میں اپنی دادی جان سے بہت قریب تھے - اس دور کا مختصر تذکرہ انہوں نے اپنی کتاب آواز دوست میں اس طرح کیا ہے :

  میں نے شعور کے زینے پر پہلا قدم رکھا تو یہ دیکھا کہ دادی اماں کی گود میں ہوں اور دادی اماں الله کے کلام کے ورد میں مگن ہیں - یہ بھی دیکھا کہ رات کو سونے سے پہلے کلمہ شہادت پڑھوایا جارہا ہے اور صبح بیدار ہونے کے وقت لازم تھا کہ آنکھ کھلتے ہی کلمہ طیبہ پڑھا جائے -

 دادی اماں کہانیاں بھی سناتی تھیں .. ہر کہانی کا ایک ہی مفہوم ہوتا تھا کہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ، خدا کا بنایا رسول بادشاہ - الله نے اپنے رسول کے پاس فرشتہ بھیجا -
 میں نے  پوچھا اماں فرشتہ کیا ہوتا ہے ؟
 بیٹا فرشتہ بھی ہماری طرح الله کی بنائی ہوئی مخلوق ہے -                 اماں آپ نے فرشتہ دیکھا ہے ؟
 نہیں لیکن سنا ہے کہ وہ جگمگ کرتی روشنیوں سے بنا ہوتا ہے .. جب وہ اڑتا ہے تو اس کے پروں میں سے چاند ، سورج اور ستاروں کی طرح روشنیاں نکلتی ہیں -

اماں آپ نے ہمارے حضورصلّ الله علیہ وسلّم   کو دیکھا ہے ؟ 
ہاں بیٹے دیکھا ہے ...ایک بار-
 اماں ہمارے حضور صلّ الله علیہ وسلّم کیسے ہیں ؟
بیٹے چاند کی طرح ہیں - اتنے خوبصورت کے بس الله ہی جانے -

بچے کی تربیت کا پہلا گہوارہ اس کا گھر ہوتا ہے .. بچہ جو سنتا ہے وہی بولتا ہے .. جو دیکھتا ہے وہی اس کا علم بن جاتا ہے - دادی اماں کی قربت نے شمس الدین انصاری کی ابتدائی ذہنی تربیت میں اہم کردار ادا کیا -

تقسیم ہند سے قبل کے دور میں اسکول کالج کی تعلیم عام نہیں ہوئی تھی - ابتدائی تعلیم عموما گھروں پر دی جاتی تھی یا پھر دینی مدارس مسلمانوں میں حصول تعلیم کا ایک اہم ذریعہ تھے -
  شمس الدین انصاری کی ابتدائی تعلیم جس میں اردو اور فارسی کی تعلیم شامل تھی گھر پر ہی ہوئی - آپ کی بڑے بھائی مولانا محمّد ادریس انصاری اردو اور فارسی میں آپ کے استاد بنے - قرآن پاک ناظرہ پڑھنے اور حفظ کرنے کے لئے آپ کو مدرسہ بھیجا گیا - آپ نے بارہ (12) سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا -

آپ نے منشی فاضل کے امتحان کی تیاری کی لیکن ایک مرتبہ قیام پاکستان سے قبل اور ایک مرتبہ قیام پاکستان کے بعد امتحان فارم بھیج دینے کے باوجود کسی نہ کسی وجہ سے امتحان میں شریک نہ ہو سکے -

 اپنی نوجوانی کے ایام میں آپ سہارنپور سے دہلی آگئے -  یہاں حکیم امتیاز الدین کی طبابت کا بہت چرچا تھا .. دہلی میں آپ نے حکیم امتیاز الدین کی شاگردی اختیار کی اور ان سے دواسازی اور نسخہ نویسی سیکھی -

 شمس الدین انصاری کے بڑے بھائی محمّد ادریس انصاری نے دہلی سے ایک رسالہ آفتاب نبوت جاری کیا اور اپنے چھوٹے بھائی  شمس الدین انصاری کو اپنی معاونت کے لئے کہا - چنانچہ آپ رسالہ آفتاب نبوت سے منسلک ہوگئے .. اس دوران آپ نے رسالہ کے منتظم اور معاون مدیر کے فرائض انجام دیئے -1946ء کے آخر میں روزنامہ" خلافت" بمبئی اور مولانا اختر علی خان کے اخبار "زمیندار" میں قیام پاکستان کے  حق میں مضامین لکھے -

 شمس الدین انصاری دور شباب (بیس سال کی عمر ) میں تھے کہ تقسیم ہند عمل میں آئی -ان دنوں آپ پٹیالہ میں مقیم تھے - شمس الدین انصاری پٹیالہ بھارت سے ہجرت کر کے لاہور آگئے اور وہاں سے ریاست بہاولپور کے شہر صادق آباد ..... یہاں پہنچے تو کئی دن کے بھوکے پیاسے تھے اور پیروں میں جوتے بھی نہ تھے -

 پاکستان میں آپ کے ابتدائی دن بہت سخت حالات میں گزرے -صادق آباد میں کاروبار شروع کیا لیکن وہاں آپ کا دل نہ لگا اور بہتر مستقبل کے لئے کراچی آگئے - کراچی آکر حکیم محمّد سعید کے قائم کردہ ہمدرد دواخانہ کے شعبہ تشخیص و تجویز میں ملازمت اختیار کی -کچھ عرصہ بعد کراچی میں اپنے ذاتی کاروبار کا آغاز کیا -

کراچی میں ایک دن شمس الدین انصاری  کسی دوست سے ملاقات کے لئے روزنامہ ڈان کے دفتر گئے تو وہاں پر محمّد عظیم صاحب( حضور قلندر بابا اولیاؒء) سے ملاقات ہوگئی - بغیر کسی پیشگی تعارف کے پہلی ملاقات کے باوجود محمّد عظیم صاحب ان سے بہت خوش اخلاقی سے پیش آئے اور چائے کی پیشکش بھی کی - محمّد عظیم صاحب کے حسن سلوک سے  شمس الدین انصاری بہت متاثر ہوئے -

 پھر ان دونوں حضرات کے درمیان ربط ضبط بڑھتا چلا گیا -اس دوران انصاری صاحب کو محمّد عظیم صاحب کے روحانی مقام و مرتبہ کا اندازہ ہوا -کچھ عرصے بعد  شمس الدین انصاری باقاعدہ  محمّد عظیم صاحب ( حضور قلندر بابا اولیاؒء) کی روحانی شاگردی میں آگئے -

مزید تفصیلات کے لئے کتاب  " تذکرہ خواجہ شمس الدین عظیمی " مرتبہ  شہزاد احمد  کا مطالعہ کریں -- 

Monday, October 28, 2013

اسم گرامی

  

 شمس الدین انصاری :
 آپ کی پیدائش کے بعد آپ کے والدین نے آپ کا نام شمس الدین انصاری رکھا - میزبان رسول صلّ الله علیہ وسلّم   حضرت خالد ابو ایوب انصاریؓ  سے نسبی تعلق کی بناء پر آپ انصاری کہلائے جاتے ہیں -

عظیمی :
  آپ نے اپنے مرشد حضرت سید محمّد عظیم برخیا حضور قلندر بابا اولیاؒء کے ساتھ اپنی نسبت کے اظہار کے لئے اپنے نام کے ساتھ عظیمی لکھنا اور کہلوانا شروع کیا -

خواجہ صاحب :
 آپ کے مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیاؒء نے آپ کو خواجہ صاحب کا لقب عطا کیا -

احمد :
دربار رسالت  صلّ الله علیہ وسلّم میں آپ احمد کے نام سے مخاطب کئے جاتے ہیں -

عظیمی صاحب ،الشیخ عظیمی :
  عوام و خواص میں آپ عظیمی صاحب اور الشیخ عظیمی کے نام سے پکارے جاتے ہیں -

حضور ابّا جی ،حضور بابا جی :
 سلسلہ عظیمیہ سے وابستہ افراد آپ کو حضور ابّا جی ،حضور بابا جی کے القاب سے پکارتے ہیں -

Friday, October 25, 2013

پیش لفظ



 یا حی        بسم الله الرحمن الرحیم              یا قیوم 





   جب کچھ نہ تھا تو الله تھا .. اس واحد اور یکتا ذات نے چاہا کہ کوئی اسے جانے کوئی اسے پہچانے .. کوئی اس کی ربوبیت کا اقرار کرے .. کوئی اس کی عظمت کا اعتراف کرے .. کوئی اس کی بڑائی کو تسلیم کرے اور اس کی خالقیت اور اس کی صناعی کا اظہار ہو - اس عظیم ہستی نے تخلیق کا ارادہ کیا اور جو کچھ ذات اکبر کے ارادہ میں تھا اس کو عملی جامہ پہنایا اور جیسے ہی   کن .... فیکون    ہوا ساری کائنات وجود میں آگئی - 

کائنات کی تمام دوسری نوعوں کے ساتھ انسان بھی وجود میں آگیا - انسان دنیا میں آیا .. یہاں اس کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا .. تعداد میں اضافے کے ساتھ آبادیاں بننے لگیں بے شمار مسائل پیدا ہوئے - سکون بے سکونی میں تبدیل ہوا .. یقین ٹوٹنے لگا .. ذات اکبر کو انسان پر رحم آیا ...  ہدایت کا سلسلہ جاری ہوگیا اور انبیاء بھیجے جانے لگے ..  یہاں تک کہ آخری نبی   حضرت محمّد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآ له وسلّم   تشریف لائے اور نبوت کا سلسلہ  ختم ہوگیا -

 لیکن رہنمائی کا سلسلہ جاری رہا - نبی مکرم صلّ الله علیہ وسلّم   کے وارث علماء ... اولیاء الله انسانوں کی رہنمائی کرتے رہے - قدرت کی فیاضی اپنا فیض جاری رکھنے کے لئے ایسے بندے منتخب کرتی ہے جو بندوں کو دنیا کی حقیقت سے روشناس کراتے ہیں -


ﷲ تعا لیٰ اپنا پیغام پہنچانے کے لئے چراغ سے چراغ جلاتے ہیں - معرفت کی مشعل ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پہنچتی رہتی ہے .. تمام روحانی لوگ قدرت کے وہ ہاتھ ہیں جو یہ مشعل لے کر چلتے ہیں .. اس روشنی سے وہ لوگ اپنی ذات کو بھی روشن رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہ روشنی پہنچاتے ہیں --





یہ تذکرہ ہے الله کے دوست ...حضور قلندر بابا اولیاؒء کے منظور نظر اور شاگرد رشید ... روحانی اسکالر حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا ...  آپ خانوادہ سلسلہ عظیمیہ ہیں اور حضور قلندر بابا اولیاؒء کے بعد آپ ہی سربراہ سلسلہ عظیمیہ ہیں --