Friday, October 25, 2013

پیش لفظ



 یا حی        بسم الله الرحمن الرحیم              یا قیوم 





   جب کچھ نہ تھا تو الله تھا .. اس واحد اور یکتا ذات نے چاہا کہ کوئی اسے جانے کوئی اسے پہچانے .. کوئی اس کی ربوبیت کا اقرار کرے .. کوئی اس کی عظمت کا اعتراف کرے .. کوئی اس کی بڑائی کو تسلیم کرے اور اس کی خالقیت اور اس کی صناعی کا اظہار ہو - اس عظیم ہستی نے تخلیق کا ارادہ کیا اور جو کچھ ذات اکبر کے ارادہ میں تھا اس کو عملی جامہ پہنایا اور جیسے ہی   کن .... فیکون    ہوا ساری کائنات وجود میں آگئی - 

کائنات کی تمام دوسری نوعوں کے ساتھ انسان بھی وجود میں آگیا - انسان دنیا میں آیا .. یہاں اس کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا .. تعداد میں اضافے کے ساتھ آبادیاں بننے لگیں بے شمار مسائل پیدا ہوئے - سکون بے سکونی میں تبدیل ہوا .. یقین ٹوٹنے لگا .. ذات اکبر کو انسان پر رحم آیا ...  ہدایت کا سلسلہ جاری ہوگیا اور انبیاء بھیجے جانے لگے ..  یہاں تک کہ آخری نبی   حضرت محمّد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآ له وسلّم   تشریف لائے اور نبوت کا سلسلہ  ختم ہوگیا -

 لیکن رہنمائی کا سلسلہ جاری رہا - نبی مکرم صلّ الله علیہ وسلّم   کے وارث علماء ... اولیاء الله انسانوں کی رہنمائی کرتے رہے - قدرت کی فیاضی اپنا فیض جاری رکھنے کے لئے ایسے بندے منتخب کرتی ہے جو بندوں کو دنیا کی حقیقت سے روشناس کراتے ہیں -


ﷲ تعا لیٰ اپنا پیغام پہنچانے کے لئے چراغ سے چراغ جلاتے ہیں - معرفت کی مشعل ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پہنچتی رہتی ہے .. تمام روحانی لوگ قدرت کے وہ ہاتھ ہیں جو یہ مشعل لے کر چلتے ہیں .. اس روشنی سے وہ لوگ اپنی ذات کو بھی روشن رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہ روشنی پہنچاتے ہیں --





یہ تذکرہ ہے الله کے دوست ...حضور قلندر بابا اولیاؒء کے منظور نظر اور شاگرد رشید ... روحانی اسکالر حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا ...  آپ خانوادہ سلسلہ عظیمیہ ہیں اور حضور قلندر بابا اولیاؒء کے بعد آپ ہی سربراہ سلسلہ عظیمیہ ہیں --

No comments:

Post a Comment