Friday, April 11, 2014

الله تعالیٰ


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


الله تعالیٰ



      عظیمی صاحب فرماتے ہیں  ..." الله کا لغوی مطلب ہی حیران کردینے والا ہے .. یعنی جب کوئی بندہ حیران ہوتا ہے تو وہ الله کی طرف متوجہ ہوتا ہے - الله کی طرف متوجہ ہونے سے بندے کے اندر الله کی موجودگی کا احساس ابھرتا ہے اور جب بندے کے اندر الله کی موجودگی کا احساس جڑ پکڑ لے تو بندہ دیکھنے لگتا ہے کہ الله اس کو دیکھ رہا ہے  "...

   خواجہ صاحب سے سوال کیا گیا کہ ... یہ صوت سرمدی کیا ہے ؟

فرمایا  ..."  الله کو دیکھنے والوں کی کمی نہیں .. لیکن الله کو سننے والے چیدہ چیدہ ہی ہوتے ہیں - الله کی آواز کو ہی صوت سرمدی کہتے ہیں .. جس کسی نے ایک بار وہ آواز سن لی پھر وہ زندگی بھر اسی فکر میں رہتا ہے کہ کسی طور اس کو دوبارہ سنے - 

سننے والے کم ہیں .. دیکھنے والے زیادہ اور وہ خوش نصیب تو بہت ہی کم ہیں جو اس کو مسلسل سنتے رہتے  ہیں - الله کے کن کہنے سے جو صوت ابھری اسے بھی صوت سرمدی کہتے ہیں وہ آواز آج بھی کائنات میں گردش کر رہی ہے اس کے لئے کچھ مراقبے مخصوص ہیں "...

          ایک مرتبہ حضور خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب  کوہاٹ چھاؤنی کے آرمی میس میں خطاب کرنے تشریف لائے -  اس موقع پر آپ نے فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ..

 ..."   ہماری روح نے ازل میں الله کو دیکھا ہے اور روح الله کو اب بھی دیکھ سکتی ہے .. مادی آنکھ کی اتنی مجال کہاں کہ وہ الله کو پا سکے لیکن الله کے لئے یہ امر کچھ مشکل نہیں کہ وہ خود کو روح کی آنکھ پر آشکار کردے -

 بندہ خواہش تو کرے لیکن ہم تو یہ خواہش ہی نہیں رکھتے .. حالانکہ کہنے کو ہم کہتے ہیں ہمیں الله سے ملنا ہے لیکن ہم اس کا یقین نہیں رکھتے - اگر ہم خود میں یہ یقین پیدا کرلیں کہ ہم الله کو دیکھ سکتے ہیں تو الله کے لئے یہ کچھ مشکل نہیں کہ وہ خود کو نہ دکھا سکے -

           ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا .. طرز فکر یہ ہونی چاہئے کہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی آئے تو آپ یہ کہیں اور سمجھیں کہ یہ الله نے کیا - اگر آپ سب کچھ  کیر آف الله  کریں گے تو یہ رحمانیت ہے اور اگر یہ سب اپنی معرفت سمجھیں گے تو یہ شیطینیت ہے .. اگر آپ کیر آف الله  سوچیں گے تو یہ پیغمبرانہ طرز فکر ہوگی ورنہ یہ شیطانی طرز فکر ہوگی       "...

فرمایا ..."  الله کی عظمت اور اس کی کمالات کی کوئی حد ہی نہیں اور نہ ہی کوئی ان کی معرفت کا حق ادا کرسکا ہے - یہ وحدت الوجود  اور  وحدت الشہود  سب انسانی ذہن کی رسائی کے انداز اور اندازے ہیں ورنہ حقیقت میں تو ان باتوں کی کوئی گنجائش ہی نہیں  "...

Thursday, April 10, 2014

تعارف




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


 

      روحانیت اور تصوف کے مشکل مسائل کو بغیر کسی فلسفیانہ گھماؤ پھراؤ کے سیدھے سادھے انداز میں بیان کرنا عظیمی صاحب کا منفرد انداز ہے .. الله کے دوست جس موضوع پر بھی بات کرتے ہیں اپنی فراست کے نور سے سننے والے کے ذہن کو منور کردیتے ہیں -
     
  روح کے تقاضے جسمانی تقاضوں سے کہیں زیادہ رفیع الشان اور زوردار ہوتے ہیں اور جب وہی نظرانداز ہوجائیں تو روح مضطرب ہوجاتی ہے .. روح کا یہ اضطراب ذہنی کشمکش اور پریشانیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے  - 

خواجہ صاحب اپنے ارشادات کے ذریعے مسلسل اس کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ کسی طرح    اپنے سلسلہ سے وابستہ افراد اور عام افراد میں روح کے تقاضوں اور اس کی ضروریات کے حوالے سے ایک گہرا ادراک بیدار کردیا جائے 

      وہ ایسے روحانی حقائق بیان کرتے ہیں جو سماعت کے راستے شعور میں داخل ہوتے ہیں اور ادراک میں پہنچ کر روشنیاں بکھیر دیتے ہیں .. آگہی کا یہ اجالا وجدان کی لذت بنتا ہے -

لوگ آپ کی باتیں سنتے سنتے کہیں کھو جاتے ہیں .. اس کی وجہ اس کی سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ جو کچھ بھی ارشاد فرماتے ہیں خلوص نیت اور مخلوق خدا کی بھلائی کی جذبے سے ارشاد فرماتے ہیں ..

    ان کے قول و فعل میں دنیا اور آخرت کا ایک شاندار امتزاج اور حسین توازن ان کی پہچان ہے... خواجہ صاحب کی حس مزاح نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے .. لطافت اور شائستگی کے علاوہ کوئی نہ کوئی سبق اپنے اندر سمیٹے ہوئے .. 

    آپ نے مادی شعور کی بھول بھلیوں میں پھنسے ہوئے انسانوں کو ایک ایسی راہ پر ڈالنے کا اہتمام کیا ہے جو ادب و فلسفے کے نظریاتی مباحث کے میدانوں کی بجائے عمل کی وادیوں کی طرف لے جاتی ہے اور خود فریبی و بے عملی سے بچاتی ہوئی خود شناسی اور اس سے  بھی  آگے بڑھ کر خدا شناسی کی بلند ترین منزل تک پہنچا سکتی ہے -

 ایسی روحانی ہستیوں کی قربت کا ایک لمحہ سالوں کی بے ریا طاعت سے افضل ہے کیونکہ وہ بہت ہی گہرے تفکر کو ابھارنے کی کرامت جانتے ہیں اور اس کا اظہار کرتے رہنا ان کو خوب آتا ہے -

آپ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا ... میں تو ایک داستان گو ہوں .. فقیر کے پاس آپ جب بھی آئیں گے وہ آپ کو کوئی نئی بات ہی سنائے گا .. کچھ لوگ کہانی سنا ہی نہیں سکتے لیکن کچھ افراد میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ بات شروع کردیں تو سماں باندھ دیں --