ارشادات ، واقعات ، تعلیمات اور طرز فکر
الله تعالیٰ
عظیمی صاحب فرماتے ہیں ✦..." الله کا لغوی مطلب ہی حیران کردینے والا ہے .. یعنی جب کوئی بندہ حیران ہوتا ہے تو وہ الله کی طرف متوجہ ہوتا ہے - الله کی طرف متوجہ ہونے سے بندے کے اندر الله کی موجودگی کا احساس ابھرتا ہے اور جب بندے کے اندر الله کی موجودگی کا احساس جڑ پکڑ لے تو بندہ دیکھنے لگتا ہے کہ الله اس کو دیکھ رہا ہے "...✦
خواجہ صاحب سے سوال کیا گیا کہ ... یہ صوت سرمدی کیا ہے ؟
فرمایا ✦..." الله کو دیکھنے والوں کی کمی نہیں .. لیکن الله کو سننے والے چیدہ چیدہ ہی ہوتے ہیں - الله کی آواز کو ہی صوت سرمدی کہتے ہیں .. جس کسی نے ایک بار وہ آواز سن لی پھر وہ زندگی بھر اسی فکر میں رہتا ہے کہ کسی طور اس کو دوبارہ سنے -
سننے والے کم ہیں .. دیکھنے والے زیادہ اور وہ خوش نصیب تو بہت ہی کم ہیں جو اس کو مسلسل سنتے رہتے ہیں - الله کے کن کہنے سے جو صوت ابھری اسے بھی صوت سرمدی کہتے ہیں وہ آواز آج بھی کائنات میں گردش کر رہی ہے اس کے لئے کچھ مراقبے مخصوص ہیں "...✦
ایک مرتبہ حضور خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کوہاٹ چھاؤنی کے آرمی میس میں خطاب کرنے تشریف لائے - اس موقع پر آپ نے فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ..
✦..." ہماری روح نے ازل میں الله کو دیکھا ہے اور روح الله کو اب بھی دیکھ سکتی ہے .. مادی آنکھ کی اتنی مجال کہاں کہ وہ الله کو پا سکے لیکن الله کے لئے یہ امر کچھ مشکل نہیں کہ وہ خود کو روح کی آنکھ پر آشکار کردے -
بندہ خواہش تو کرے لیکن ہم تو یہ خواہش ہی نہیں رکھتے .. حالانکہ کہنے کو ہم کہتے ہیں ہمیں الله سے ملنا ہے لیکن ہم اس کا یقین نہیں رکھتے - اگر ہم خود میں یہ یقین پیدا کرلیں کہ ہم الله کو دیکھ سکتے ہیں تو الله کے لئے یہ کچھ مشکل نہیں کہ وہ خود کو نہ دکھا سکے -
ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا .. طرز فکر یہ ہونی چاہئے کہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی آئے تو آپ یہ کہیں اور سمجھیں کہ یہ الله نے کیا - اگر آپ سب کچھ کیر آف الله کریں گے تو یہ رحمانیت ہے اور اگر یہ سب اپنی معرفت سمجھیں گے تو یہ شیطینیت ہے .. اگر آپ کیر آف الله سوچیں گے تو یہ پیغمبرانہ طرز فکر ہوگی ورنہ یہ شیطانی طرز فکر ہوگی "...✦
فرمایا ✦..." الله کی عظمت اور اس کی کمالات کی کوئی حد ہی نہیں اور نہ ہی کوئی ان کی معرفت کا حق ادا کرسکا ہے - یہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود سب انسانی ذہن کی رسائی کے انداز اور اندازے ہیں ورنہ حقیقت میں تو ان باتوں کی کوئی گنجائش ہی نہیں "...✦
فرمایا ✦..." الله کی عظمت اور اس کی کمالات کی کوئی حد ہی نہیں اور نہ ہی کوئی ان کی معرفت کا حق ادا کرسکا ہے - یہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود سب انسانی ذہن کی رسائی کے انداز اور اندازے ہیں ورنہ حقیقت میں تو ان باتوں کی کوئی گنجائش ہی نہیں "...✦