ارشادات ، واقعات ، تعلیمات اور طرز فکر
تیز بلند آوازوں اور شور شرابہ کے متعلق بات کرتے ہوئے عظیمی صاحب فرماتے ہیں ✦..." اچانک دھماکے ... پٹاخے یا تیز ہارن کی آواز سے بندہ اچھل پڑتا ہے .. ایسی آواز تو
سینکڑوں نہیں ہزاروں کلوریز , یک دم ہی کھا جاتی ہے -
ایٹمی دھماکے کی حرارت سے اتنے لوگ نہیں مرتے جتنے اس کی آواز اور تابکاری کی لہروں سے
-فرمایا ... ہر کام میں توانائی خرچ ہوتی ہے .. دیکھنے ، سننے ، بات کرنے میں بھی ... جب ہم کسی
چیز کو دیکھتے ہیں اور دماغ اس کو معانی پہنا دے تو وہ چیز دیکھنے میں ایک کلوری انرجی خرچ
ہوگئی ... اسی طرح جب آپ کوئی آواز سنتے ہیں اور ذہن اس کو معانی پہناتا ہے تو ایک کلوری
انرجی خرچ ہوتی ہے -
اس لئے ایسی جگہوں پر رہنے والے زیادہ تھکتے ہیں جہاں چیزیں بےترتیب ہوں ... بہت سی
ہوں اور شور ہو ... اسی لئے تو فقیر شور سے دور جنگلوں میں نکل جاتے تھے اور کم از کم اشیاء
ہمراہ رکھتے تھے "...✦BMMK