Thursday, July 31, 2025

حضرت مولا علی علیہ السلام




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



حضرت مولا علی علیہ السلام    




  
            عظیمی صاحب سے سوال کیا گیا کہ .. حضرت علی کرم الله وجہہ کے حوالے سے یہ واقعہ سنایا جاتا ہے کہ ان کو ایک تیر لگا اور وہ کسی طور جسم سے نکالا نہیں جا رہا تھا ... اس پہ آپ نے کہا کہ رہنے دو جب میں نماز قائم کروں اس وقت نکال دینا ..

اگر یہ مان  لیا جاۓ کہ حالت نماز میں حضرت علیؓ پر خواب کے حواس غالب آگئے تھے ...  تو ادھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی آدمی خواہ کتنی ہی گہری نیند میں ہو اگر اس کو سوئی بھی چبھودی جاۓ تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ جاتا ہے .. جب کہ وہاں تو ایک تیر تھا جو جسم میں ترازو ہوچکا تھا ؟

       عظیمی صاحب نے فرمایا  ..."   یہ خواب کے نہیں موت کے حواس کی بات ہے .. وہ حضور صلّ الله علیہ وسلّم کے تربیت یافتہ تھے .. انہوں نے  "موتو قبل انت موتو " کا سبق خوب سمجھ  لیا تھا .. وہ خواب کے حواس سے گزر کر موت کے حواس سے آشنا ہوچکے تھے اور وہ ان کو خود پہ اسی طرح طاری کرسکتے تھے جس طرح آپ سونا چاہتے ہیں تو خود پہ خواب کے حواس طاری کر لیتے ہیں -

        حضرت علیؑ کی کیفیت ... نیند کے حواس سے گزر کر موت کے حواس کا طاری ہونا تھا ... یہ  بڑی صلاحیت ہے .. آدمی اپنی مرضی سے مر جاۓ ... بھئی یہ تو کمال ہے اور اس سے بڑھ کر کمال یہ ہے کہ آدمی اس زندگی میں محض اس لئے پلٹ آئے کیونکہ الله چاہتا ہے کہ آپ یہاں زندہ رہیں - یہ ایک وہبی (Gifted)  صلاحیت ہوتی ہے جس کو نصیب ہوجائے  "...BMMK

           

بابا تاج الدین --3




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


تاج الدین بابا اولیاءؒ 





ایک بار پشاور مراقبہ ہال میں نیاز صاحب کے گھر محفل میں خواجہ صاحب نے اپنے مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیاؒء  کا بتایا ہوا واقعہ سنایا کہ  .....

   ..." راجہ رگھو رائے کے ملازم بابا تاج الدین کے لئے تھال میں کپڑے لئے کھڑے رہتے تھے ، جب طبیعت ہوتی تو پہن لیتے لیکن پھر جونہی جذب غالب آتا تو یہ کہہ کر پھاڑ کر پھینک دیتے .. جنت میں بھلا کوئی لباس ہوتا ہے "...





اس موقع پر ایک صاحب نے دریافت کیا کہ .. گوالے کے مقدمہ میں تاج الدین بابا اولیاءؒ کا اپنا کرتا اتار دینے کی بات کا مفہوم کیا ہے ؟  

  فرمایا ..." وہاں کرتے سے مراد .. تکوینی اختیار کے تحت کام کرنا ہے ، وہاں اوپر کوئی ایسی بات ہوگئی ہوگی تبھی تو مقدمہ حضور صلّ الله علیہ وسلّم  کے دربار تک پہنچا ورنہ گوالے کو تو وہ خود ہی لے کر آسکتے تھے "...BMMK

بابا تاج الدین--2





ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


تاج الدین بابا اولیاءؒ 




  عظیمی صاحب فرماتے ہیں ..."    تاج الدین بابا اولیاءؒ جب کسی کو نماز پڑھتے دیکھتے تو  کہتے جھوٹا ہے ، یعنی بن دیکھے  گواہی دے رہا ہے -

وہ اکثر اذان اور نماز کی بابت فرمایا کرتے تھے یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں .. بھئی جب تم نے الله کو نہیں دیکھا اس کے رسول صلّ الله علیہ وسلّم کو نہیں دیکھا تو گواہی کیسے دے رہے ہو "...

عظیمی صاحب سے سوال کیا گیا کہ ... تاج الدین بابا اولیاءؒ کے تذکرے میں ہے کہ انہوں نے پتے سے کیڑا بننے کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب زندگی سے زندگی گلے ملتی ہے تو جاندار اشیاء وجود میں آتی ہیں .. یہ فرمائیے کہ زندگی زندگی سے گلے  کیسے ملتی ہے ؟

فرمایا ..." زندگی دو رخوں کا نام ہے اور یہ دونوں رخ مل کر ہی زندگی تشکیل دیتے ہیں - جب ایک رخ دوسرے رخ سے ملتا ہے .. اس میں جذب ہو جاتا ہے تو زندگی وجود میں آجاتی ہے -

جب حضور نانا صاحب کی نگاہ پتے پر جم جاتی تھی تو ان کی زندگی والا رخ پتے میں چھپی زندگی کے دوسرے رخ سے ہم آغوش ہوجاتا تھا اور یوں پتے میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی اور پتہ زندگی کی کوئی سی شکل و صورت اختیار کرلیتا    "...


اس موقع پر خواجہ صاحب سے دریافت کیا گیا کہ... حضور نانا صاحب کے لنگڑے کی ٹانگ ٹھیک کرنے کے واقعہ میں کہے گئے الفاظ کہ .. جب انسان چھپ رہا ہوتا ہے اور اس کی چھپائی میں گڑبڑ ہوجائے تو لنگڑے لولے چھپنے لگتے ہیں اس سے کیا مراد ہے ؟  

فرمایا ..." دراصل انسان ہرآن چھپ رہا ہے - یوں سمجھیں پرنٹنگ ہو رہی ہے اور ہر ہر حرکت ہر بار نئی تصویر کی صورت چھپ رہی ہے ، اگر پرنٹنگ میں خرابی ہو تو ظاہر ہے کہ چھپنے والی تصویر خراب ہوجائے گی -

 یہ خرابی کاغذ پر سلوٹ پڑنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈائی میں کسی حرف کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہونے والی خرابی کی مانند ہوتی ہے اس لئے پرنٹنگ درست نہیں ہوتی -

 ہر تصویر کے لئے الگ سے کن کا ریکارڈ بجتا ہے تو وہ تصویر چھپتی ہے  .. عارف مشین کو روک کر وہ ٹوٹا ہوا حرف نکال کر وہاں صحیح حرف لگا کر پھر سے مشین چلا دیتا ہے .. اب جو پرنٹنگ ہوگی تو صحیح انسان چھپنا شروع ہوجائے گا -

پھر ارشاد فرمایا ...  حضور نانا صاحب اگر کسی کو فکر معاش سے آزاد کرنا چاہتے تھے  ... وہ کرسکتے تھے بلکہ کر بھی دیا کرتے تھے    "...

بابا تاج الدین --1



ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



 تاج الدین بابا اولیاءؒ 




 خواجہ شمس الدین عظیمی  صاحب  ...  بابا تاج الدین کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ..

..."  تاج الدین بابا اولیاء ناگپوریؒ ایک بار ایک کھنڈر میں گئے .. کسی نے کہا وہاں سانپ ہے ادھر مت جائیں  ... تو انہوں نے فرمایا .. اجی بہت انتظار کیا اس نے اب اس سے ملنے کا وقت آیا ... تین سو سال کم نا ہوتے -

 فرمایا روحانی بندے کے انتظار میں لوگوں کو صدیوں انتظار کرنا پڑتا ہے .. تب جاکر کہیں موقع ملتا ہے .. وہ بھی اگر نصیب یاوری کریں تو -




تاج الدین بابا اولیاء کے حوالے سے ایک واقعہ یہ بھی سنایا ... ایک صاحب جن کا نام عبدالصمد تھا .. اس چکر میں تھے کہ کسی طرح انہیں کشف مل جائے -  

تاج  الدین  بابا اولیاؒء   بیڑی   پیتے  تھے ایک  روز   بیڑی   پیتے  ہوئے  انہوں  نے  بیڑی عبدالصمد کی طرف بڑھا دی اور کہا ... یہ لے کشف -
اس نے اس بیڑی کا ایک ہی کش لیا تھا کہ اس کی آنکھیں کھل گئیں .. اس کو کہا .. جا اپنے علاقہ میں جا اور لوگوں کی خدمت کر -

ایک دن ایک عورت جس  کا  بچہ  گم  ہو گیا  تھا روتی   پیٹتی  عبدالصمد  کے  پاس گئی ، انہوں نے اس کی مدد کرنے کی بجائے اس کو ناپاکی کی حالات میں دیکھ کر ڈانٹ دیا کہ اس حالت میں اس کو  ... ان  کے  سامنے  آنے  کی  ہمت  کیسے  ہوئی  اور  اس  کو وہاں سے ہٹا دیا -

 کسی نے اس ممتا کی ماری کو کہہ دیا کہ ناگپور میں  بابا تاج الدین اولیاء کے پاس جاؤ وہ تمہارا گمشدہ بچہ تمہیں ملوا دیں گے - وہ ناگپور پہنچی تو بابا صاحب کے سامنے جانے کی ہمت نہ کر پائی اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر رونے لگی -

بابا صاحب نے آدمی بھیج کر اسے بلایا اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا .. عبدالصمد ایک لوٹا پانی ہوتا ہم تاج الدین سمندر ہیں ...
اور پھر اس طرف منہ کرکے جس سمت عبدالصمد رہتے تھے کہا .. عبدالصمد  You are suspended اور اس کے ساتھ ہے عبدالصمد صاحب کی ساری کیفیت سلب ہوگئی -

فرمایا ... بابا  تاج الدین اولیاء جیسا ذہن قدرت تین ہزار سال میں ایک دفعہ ہی بناتی ہے   
"...BMMK



عالم اعراف -- 3


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



     عالم اعراف






ایک صاحب نے دریافت کیا کہ جمعرات کو قبروں پر جانے کی کیا اہمیت ہے ؟ 

عظیمی صاحب نے ارشاد فرمایا  ..." اس روز اعراف کے لوگوں کو چھٹی ملتی ہے تو وہ اپنے لواحقین کو دیکھنے آتے ہیں - اس روز قبر پر صاحب مزار کی توجہ ہوتی ہے - یہ تعلق تیس سال تک رہتا ہے- 
جب لوگ قبر پر نہیں جاتے تو ان کی بھی دلچسپی کم ہوجاتی ہے - وہاں اور دلچسپیاں بن جاتی ہیں - جب لوگ مزار پر جاتے ہیں اور صاحب قبر کو سلام کرتے ہیں تو وہ بھی متوجہ رہتے ہیں  ورنہ رہے نام الله کا  "...

ایک مرتبہ پشاور مراقبہ ہال کے دورے کے موقع پر ... مرشد کریم عظیمی صاحب سے ایک صاحب نے دریافت کیا... عالم برزخ و اعراف میں کونسی زبان بولی جاتی ہے ؟

 فرمایا  ..."وہاں کوئی زبان نہیں بولی جاتی ، خیالات براہ راست منتقل ہوتے ہیں - ہم جو بھی زبان بولتے ہیں ان میں آواز کی لہروں کو مخصوص معنی کی ادائیگی کے لیے استعمال کرتے ہیں - اب آپ نے پانی کہنا ہے آپ اسے آب  کہہ لیں ، ابو کہہ لیں، واٹر کہہ دیں ،  ماء کہہ لیں مفہوم ایک ہی ہے - 
دراصل ایک جھماکہ سا ہوتا ہے خیال آتا ہے اور الفاظ کے قالب میں ڈھل جاتا ہے - ان الفاظ کے  قالب میں جو فرد کی مادری زبان کے الفاظ ہوتے ہیں - انسان کسی دوسری زبان کو کتنا ہی سیکھ جائے سوچتا اور خواب اپنی مادری زبان ہی میں دیکھتا ہے  "...

اس دورے کے دوران ایک دوسری نشست میں نیاز صاحب کے کزن نور حسن جان صاحب نے سوال کیا کہ ...  کیا اوپر جاکر سب لوگ جوان ہو جاتے ہیں ؟ 

فرمایا   ..." بچے اوپر جا کر بڑے ہوتے ہیں - ان کی تربیت وہاں پر ہوتی ہے - جن لوگوں کو یہاں اولاد نہیں ملتی  ...انھیں ان کے حوالے کر دیا جاتا ہے - اولاد کو یہاں کس نے کیا کھلایا اور کیا پلایا وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کی تربیت میں کن باتوں کا خیال رکھا گیا ہے یہ بات دیکھی جاتی ہے-

بوڑھوں کے فیچر وہاں بھی بوڑھوں جیسے  ہی رہتے  ہیں - لیکن وہ لوگ جنہوں نے یہاں زندگی اچھی طرح بسر کی ہوتی ہے ان کے  خد و خال جوانوں جیسے ہی رہتے  ہیں ...  یہ بات تو ہم  یہاں بھی دیکھتے ہیں کئی لوگ بڑھاپے میں بھی جوان ہی نظر آتے ہیں"...BMMK

Wednesday, July 30, 2025

عالم اعراف -- 2




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



     عالم اعراف






الشیخ عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں 
... جب کوئی مجھے زندگی کی دعا دیتا ہے تو مجھے عجیب سا لگتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے گویا مجھے قید میں اضافے کی سزا دی جارہی ہو - اوپر عالم اعراف کی زندگی اچھے اور برے دونوں ہی کے لئے یہاں کی زندگی سے بہرحال بہت بہتر ہے - 
وہ اچھوں کے لئے تو خیر بہت ہی اچھی ہے لیکن بروں کے لئے بھی بہت ہی بہتر ہے .. وقت پہ کھانا ملتا ہے ، گھنٹی بجتی ہے سب آکر اپنا اپنا کھانا لے کر کھا لیتے ہیں .. نہ پکانے کا جھنجھٹ .. نہ برتن صاف کرنے کا مسئلہ .. کپڑے بھی تیار مل جاتے ہیں ، عورتوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی - رہنے کی جگہ بھی مل ہی جاتی ہے -

 یہاں جو بچے فوت ہوتے ہیں جب وہ وہاں جوان ہوتے ہیں تو ان کی شادیاں ہوتی ہیں .. یہ شادیاں وہاں رہنے والوں کے لئے اجتماعی خوشی   بن جاتی ہے ، سب اس میں شریک ہوتے ہیں- 
وہاں اور کوئی مصروفیت بھی تو نہیں ... ادھر چلے گئے ، ادھر چلے گئے ..  اس سے مل لیا , اس سے مل لئے - بعض سیارے ایسے ہیں جہاں انسان جا سکتا ہے , وہاں چلے گئے ، یہ ان کی پکنک ہوگئی البتہ تکوین کا کام کرنے والوں کو وہاں بہت کام کرنا ہوتا ہے سر کھجانے کی فرصت نہیں ہوتی -
`   وہاں سب کام ایک قاعدے اور ضابطے کے تحت ہوتا ہے - ان سے مفر(فرار) نہیں - یہاں کی طرح نہیں کہ قانون کو چکمہ دیا اور صاف بچ نکلے - شریر لوگ  فوراً پکڑ میں آجاتے ہیں اور سزا پاتے ہیں - زیادہ برے لوگ بھٹکتے ہی رہتے ہیں ... ان کی زندگی عذاب ہی کی ہوتی ہے  ... نہ کوئی ٹھکانہ نہ کوئی پرسان حال "...BMMK

عالم اعراف -- 1


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



     عالم اعراف



     عالم اعراف کے متعلق بات کرتے ہوئے ایک موقع پر عظیمی  صاحب نے ارشاد فرمایا          ...عالم اعراف میں آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور وہاں  رہائش کی جگہ کم پڑ گئی ہے - یہ اوپر والوں نے دنیا میں فلیٹ سسٹم اسی لئے شروع کروایا تھا کہ اس مسئلہ کو حل کیا جاسکے  "...
ایک صاحب نے دریافت کیا .. دنیا کے  فلیٹوں  کا اعراف کی بڑھتی آبادی  سے کیا تعلق ہے ؟

عظیمی صاحب نے کہا    ..." جب ان بلڈنگوں کا اورا  ... aura   اوپر منتقل ہوگا تو وہاں کے لوگوں کی رہائش کا مسئلہ حل کیا جا سکے گا - ہر شے کا اورا ہوتا ہے .. انسان یہاں مرتا ہے تو اس کا اورا اوپر منتقل ہوتا ہے .. بالکل اسی طرح یہاں بننے والی عمارات کا اورا بھی اس وقت اوپر منتقل ہوتا ہے جب وہ اپنی دنیاوی زندگی کی مدت مکمل کرلیتی ہیں -

انسان جس  طرح کی زندگی یہاں جیتا ہے اسی طرح وہاں بھی زندگی کی کچھ ایسی ہی طرزیں ہیں .. وہاں بھی کھانا پینا ہے ، وقت پر گھنٹی بجتی ہے .. سب کھانے کے لئے اکھٹے ہوجاتے ہیں - جیسے یہاں رہنے کے لئے  گھر بنائے جاتے ہیں اسی طرح وہاں بھی گھر ہیں .. جو لوگ غاروں میں رہتے تھے ان کے لئے غار ہیں .. جو جھونپڑیوں میں رہتے ہیں ان کے لئے جھونپڑیاں ہیں - وہاں انسان کا مادی جسم نہیں ہوتا اسی طرح وہاں کی چیزیں بھی کوئی مادی جسم نہیں رکھتیں   "...BMMK


 -

حصول دنیا




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


حصول دنیا



کافی عرصہ پہلے لاہور مراقبہ ہال  میں روحانی کانفرنس منعقد ہوئی اس موقع پر مرشد کریم الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب  نے  اپنے کمرے میں سلسلہ عظیمیہ سے وابستہ افراد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے فرمایا ...

 ..."    دنیا غلاظت ہے اور لوگوں کو نہ جانے کیوں سمجھ نہیں آتی - آیت الکرسی پڑھتے ہیں تو دنیا کی طلب میں ، قرآن کی آیات تلاوت کرتے ہیں تو دنیا کے مانگنے کو اور اگر روحانیت سیکھنے آتے ہیں تو حصول دنیا کے لئے - خدا کے نور سے غلاظت سمیٹنے پر لگے ہوئے ہیں ... 

اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس بات کو سمجھ لیں کہ ہمیں  قرآن سے دنیا نہیں بلکہ دنیا کے مالک الله تعالیٰ کو حاصل کرنا ہے -

 دراصل فقیروں نے لوگوں کو الله کی طرف مائل کرنے کا کیا کیا جتن نہیں کیا ... قوالی ، سماع سے لے کر لنگر تک محض اس لئے آغاز کئے کہ لوگ کسی طور مائل تو ہوں - جب لوگ مائل ہوجاتے ہیں تو وہ انہیں دنیا سے ہٹا کر مالک کائنات کی طرف متوجہ کرنے میں لگ جاتے ہیں -

لیکن یہاں تو کچھ عجیب ہی ہوا .. اب لوگ اسی طرف مائل ہوتے ہیں الله کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ...  بھئی جس الله کے کلام کو پڑھ کر آپ کا مسئلہ حل ہوا اس کو الله کی طرف توجہ کرنا کتنا سودمند ہوگا - لیکن ہم تو دنیا کو ہی سب کچھ مان  کر اس کے کلام کو حصول دنیا کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں -

ہم اللہ کی بنائی چیزوں کی قیمت تو لگاتے ہیں ...اللہ کی قیمت نہیں لگاتے - اگر ہم الله کی قیمت لگائیں گے تو یہ دنیا تو خیر بہت ہی چھوٹی اور بے مایہ چیز ہے ...اللہ کی پوری کائنات ہمارے آگے سرنگوں ہوجائے گی"...BMMK

Tuesday, July 29, 2025

ماں


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



ماں 


عظیمی صاحب سے ایک صاحب نے دریافت کیا ... ماورائی علوم میں والدہ کا نام اتنی اہمیت کیوں رکھتا ہے ؟  


فرمایا ..."  عورت کا اصل محبوب تو  اس کی اولاد ہی ہوتی ہے - وہ اس کی تخلیق کا ذریعہ بنتی ہے - ماں آدمی کی ڈائی ہوتی ہے جہاں وہ بنتا ہے...وہ اس کی ماں ہی ہوتی ہے - اس لئے کسی بھی آدمی کو دیکھنا ہو تو یہ ضروری ہوتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ کہاں بنا تھا "...BMMK

عورت




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


عورت  



خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں ..." عورت کا سب سے عظیم روپ ماں ہے ...  بیوی کے روپ میں تو وہ مرد کے کثیف جذبات کے نکاس کا ذ ریعہ ہے -  مرد پھر بھی اس پر ظلم ہی  کرتا ہے   ... اور تو اور اس کی منڈیاں لگا کر اس کی خرید و فروخت تک سے باز نہیں آیا -

آج عورت کی آزادی کا اتنا چرچا ہونے کے باوجود ... فینائل کے ڈبے سے لے کر بلیڈ تک  کے اشتہار میں عورت ہی کو استعمال کیا جا رہا ہے ...  بھلا ان چیزوں کا عورت کو دکھانے سے کیا تعلق ؟ یہ سب عورت کا استحصال ہی تو ہے حالانکہ وہ مرد کی ماں بھی ہے -

عظیمی صاحب اس بارے میں مزید ارشاد فرماتے ہیں ....   لگ بھگ دس ہزار سال پہلے دنیا پر عورتوں کی حکمرانی تھی ، انہوں نے مردوں پر بہت ظلم کئے ، وقت بدلا ، مردوں نے تختہ الٹ دیا .. انہیں غلام بنالیا .

ان کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کر رکھنے کا رواج ہوا .. ان کے نکیل ڈالی جاتی .. کانوں کو چھید کر ان میں رسی پرودی جاتی ، پھر بعد میں جب تہذیب و تمدن نے ترقی کی .. گھر بنے تو انہیں گھروں میں قید کردیا جاتا -

یہ چوڑیاں ، پازیب ، نتھ اور بندے سب انہی چیزوں کی ترقی یافتہ صورتیں ہی تو ہیں - پہلے عورت کو طاقت کے زور پر قابو کیا جاتا تھا اب اسے رسموں اور دولت کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے - یہ سب خواہش اقتدار کا کھیل ہے - 

اب آئندہ دور خواتین کی حکمرانی کا ہوگا اس دور کے دس ہزار سال پورے ہونے کو ہیں ... اگر عورتوں نے زیادتیاں نہ کیں اور عدل سے کام لیا تو یہ اقتدار ان کے پاس رہے گا ورنہ نہیں -

ہمیں چاہیئے کہ ہم آنے والے دور کی تیاری کریں - اپنی بیٹیوں کو تیار کریں .. اگر ہم اس میں ناکام رہے تو آنے والے دور میں عورتوں کے اقتدار میں ہمارا کوئی حصہ نہ ہوگا - بیٹیوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ آنے والی ذمہ داریوں سے بخوبی عہدہ بر آ ہو سکیں -

ان کو ہر کام کرنے کا حوصلہ دیں ، انہیں  بتایا جائے کہ بدتمیزی کا جواب کیسے دیا جاتا ہے - ضرورت پڑنے پر انہیں چانٹا مارنا بھی آنا چاہئے -

ایک  صاحب نے عورت کے مرد کی پسلی سے بننے کی بات کا تذکرہ کیا توناگواری سے فرمایا ... عورت کے بارے میں یہ سب کچھ اس کی توہین کرنے کے لئے کہا جاتا رہا ہے کیونکہ پسلی ٹیڑھی ہوتی ہے "...BMMK

فقیر --2

 


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


فقیر 

خانوادہ سلسلہ  عظیمیہ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں   ..."  فقیر کے قریب زیادہ نہیں رہنا چاہئے ... آدمی دنیا کے کام کا نہیں رہتا ... آپ کمرے میں ہزار واٹ کا بلب لگا لیں ... دیکھیں کتنی دیر برداشت کرتے ہیں - آپ کو پسینہ آجائے گا  ... آپ کا سر چکرائے گا -

آپ فقیر  سے کتنی باتیں نئی سنیں گے  ... ایک بات سنیں اس پہ غور کریں  ... پھر   دوسری سنیں اس پر غور کریں پھر تیسری سنیں -
یہ نہیں کہ ایک ساتھ ہی کئی باتیں سنیں  ... اس سے ذہن سن ہوجاتا ہے -

مرشد کریم  حضور قلندر بابا اولیاؒء نے مجھے کہا تھا  خواجہ صاحب ..! فقیر ذات کا چمار ہوتا ہے  ... اس پر اوپر سے بیگار نازل ہوتی ہے  ... اب کون ہوگا جو بیگار کے لئے تیار رہنا چاہے گا  ... یہاں تو جس کو دیکھو اسی چکر میں ہوتا ہے کہ فقیر اس کے لئے دعا کرے اور اس کے بگڑے کام بنتے رہیں - 

اب اگر فقیر دنیاداروں کی طرح سوچنے لگے تو وہ کر چکا دعا  "...BMMK

نسمہ

 


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


نسمہ

ایک صاحب نے عظیمی صاحب سے عرض کیا کہ  ... ان کے ایک عزیز کو ایک عجیب سی پریشانی لاحق ہے اور وہ یہ ہے کہ انہیں کئی ہفتوں سے بالکل کوئی اجابت نہیں ہورہی ہے  ... ان کو کوئی خاص تکلیف بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کے سر میں ہلکا ہلکا درد رہتا ہے -

وہ کئی حکیموں اور طبیبوں کو بھی دکھا چکے ہیں لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا - وہ اس کی وجہ جاننے کے ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی دریافت کرنا چاہ رہے تھے -

عظیمی صاحب نے فرمایا   ... کسی  وجہ سے ان کا نسمہ متحرک ہوگیا ہے اور وہ ان کے فضلہ کو ادھر ادھر کردیتا ہے ... اور علاج  یہ  فرمایا  کہ  مریض  کو  میٹھا  زیادہ کھلائیں ... زیادہ سلائیں اور زیادہ وقت اندھیرے میں گزارے   "...BMMK

Wednesday, July 23, 2025

اسٹیٹس



ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


اسٹیٹس 



       عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں   .....

   ..."   حضور صلّ الله علیہ وسلّم  کے متعلق یہ تصور کہ خدا نخواستہ وہ کوئی غریب آدمی تھے ... بالکل درست نہیں - اس دور میں کسی کے پاس اگر ایک بھی اونٹنی اپنی ہوتی تھی تو اسے ایک اچھا خاصہ متمول انسان سمجھا جاتا تھا -

حضور صلّ الله علیہ وسلّم کے پاس تو ایسی کئی اونٹنیاں تھیں .. اپنے وقت کی پانچ نادر روزگار اونٹنیاں تھیں - آج کل کی رولس رائس گاڑیاں ہی سمجھیں اور پھر ایک سے ایک اعلیٰ تلوار تھی ، کوئی دو شاخہ تو کوئی دو دھاری ان میں سے بعض کے دستے جڑاؤ تھے ان میں ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھر لگے ہوئے تھے-

    ترکی کے عجائب گھر میں آپ  صلّ الله علیہ وسلّم کی ایسی کئی اشیاء آج بھی رکھی ہوئی ہیں .. نہ جانے انہیں کیسے آب دی گئی تھی کہ آج تک ان پر زنگ نہیں لگا -

انہیں دیکھ کر بھی اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کوئی غریب آدمی تھے .. تو اس کی مرضی لیکن یہ بات ہمیں تو سمجھ نہیں آتی -
      
جب اس  دور کے کپڑے آج تک محفوظ ہیں تو ان کی کوالٹی کا بھی تو کچھ اندازہ ہوتا ہی ہے نا  ... جب اس دورمیں کپڑا ہی عام نہ تھا اس دور کا ان سے منسوب جبہ و دستار کا کپڑا دیکھیں وہ مخمل ہی تو ہے .. اب ظاہر ہے کوئی غریب آدمی مخمل کہاں پہن سکتا ہے -

       پھر حضور صلّ الله علیہ وسلّم  عود کا عطر استعمال فرماتے تھے .. آج کل عود کی لکڑی پینتیس ہزار ریال فی کلو ہے .. یہ لکڑی اس وقت بھی عرب میں تو ہوتی نہیں تھی ہندوستان سے ہی آتی ہوگی ...  ظاہر ہے جب حضور صلّ الله علیہ وسلّم خود اتنا قیمتی عطر استعمال کرتے تھے تو دوسروں کو بھی دیتے ہوں گے ...  مہمانوں کے وفود آتے تھے ... سب اصحاب صفّہ انہی کے مہمان تھے ... یہ سب غریبی میں کہاں ممکن تھا ؟

        اس زمانے میں چھت ہونا ہی اسٹیٹس کی علامت تھا .. بدو تو آج بھی خیموں میں ہی رہتے ہیں -حضرت عائشہؓ کے لئے کھانے کے برتن اور کٹلری چین سے آتی تھی یہ سب باتیں ڈاکٹر حمید الله صاحب نے اپنی کتاب میں تحریر کی ہیں .. 

       لیکن ہم پڑھتے ہی کب ہیں ؟ پڑھ لیں تو سمجھتے ہی کتنا ہیں -

فرمایا .. الله نے کائنات اسٹیٹس پر بنائی ہے - آپ جس اسٹیٹس پر قائم ہوجائیں گے الله اس کے مطابق وسائل فراہم کردیتا ہے    "...BMMK
 

اہل بیت


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


اہل  بیتؑ

  حضرت عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں ...
    ..."     اہل بیتؑ پہ اتنے مظالم ہوئے ... انہیں چن چن کر قتل کیا گیا ... انہوں نے علم کو اپنے سینوں میں چھپا لیا اور  خود خانقاہوں میں جا چھپے ... کہا یہ دنیا تمہی کو مبارک ہو ... اسے تم ساتھ لے کر تو جا نہیں سکتے - 
 جو وہ ساتھ لے  جا سکتے تھے اس کی دیکھ بھال میں لگے رہے   "...BMMK

Wednesday, July 16, 2025

فقیر --1

 


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



فقیر 


                     خواجہ صاحب فقیروں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں  ...

...کبھی کسی فقیر نے بادشاہ بننے کی کوشش نہیں کی  ... وہ خواہش اقتدار ہی نہیں رکھتا تو وہ کسی بادشاہ سے بھلا کیوں پرخاش رکھے گا ... ہاں جب بھی کبھی کسی بادشاہ نے فقیر سے مدد مانگی ... اس نے کی -

بادشاہوں نے فقیر کے در پر ماتھا ٹیکا ... وہ اپنی غرض کو ننگے پاؤں چل کر فقیروں کے پاس گئے - بادشاہوں کو فقیر سے ڈر لگتا ہے ... وہ جانتے ہیں کہ اگر عوام نے اس  ( فقیر ) کی بات سن لی تو وہ اس ( بادشاہ ) کے چکر میں نہیں آئیں گے - 

فقیر تو خود بادشاہ گر ہوتا ہے ... وہ بادشاہ کیوں بننے لگا ... یہی وجہ ہے کہ بادشاہوں  نے تخت و تاج چھوڑ کر فقیری اختیار کی - بدھا سے لے کر ابراہیم بن ادھمؒ  تک کتنوں نے بادشاہت کو لات ماری -

آپ یہ دیکھیں دنیاوی وسائل بادشاہ کے پاس ہوتے ہیں یا فقیر کے پاس ... کسی بادشاہ نے کبھی لنگر کیوں نہیں چلایا ... فقیر چلاتا ہے لنگر .. آپ لاہور میں جہانگیر کا مقبرہ دیکھیں .. اسی لاہور میں داتا صاحب کا مزار بھی ہے .. دونوں کا فرق واضح ہے -

ایک جگہ لوگ تفریح کے لئے جاتے ہیں اور دوسری جگہ عقیدت و احترام سے منتیں اور مرادیں مانگنے -

ایک جگہ دن میں چار لوگ جائیں تو جائیں .. رات میں کتے ہی لوٹتے ہیں اور دوسری جگہ دن ہو یا رات مانگنے والوں کا رش لگا رہتا ہے  "...BMMK

خانقاہی نظام

 


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 




خانقاہی نظام 


خانوادہ سلسلہ عظیمیہ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ارشاد فرماتےہیں  

... لوگ فقیر کے پاس  اس لئے آتے ہیں کہ کوئی نئی بات سنیں ... دراصل لوگ ہر روز ایک نیا تماشہ دیکھنا چاہتے ہیں  ... ایسے ہی ہے جیسے فلم پہ نہ گئے فقیر سے ملنے آگئے -

فقیر کے یہاں ایک تو عام لنگر چلتا ہے ... جو آئے سو کھائے ... لیکن ایک ہنڈیا وہ الگ سے بھی پکاتا ہے اور شرط رکھ دیتا ہے کہ یہ سالن وہ صرف اس کو دے گا جس کا برتن سب سے زیادہ صاف ہوگا -

اب کوئی ادھر بیٹھا اپنی پلیٹ مانجھ رہا ہے اور کوئی ادھر بیٹھا اپنا برتن چمکا رہا ہے "...BMMK

Monday, July 14, 2025

تصور شیخ -- 2



ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



 تصور شیخ 




                         ایک اور موقع پر لاہور مراقبہ ہال میں تصور شیخ کی وضاحت کرتے ہوئے 
عظیمی صاحب نے  فرمایا ...
  ..." انسان میں معین مقداریں کام کرتی ہیں - انسان ہی نہیں بلکہ ہر شے میں معین مقداریں کام کرتی ہیں اور یہ سب ایک سسٹم کے تحت ہوتا ہے  ... 
یہی وجہ ہے کہ آم کے درخت پر صرف آم اور سیب کے درخت پر صرف سیب ہی لگتے ہیں -انسان میں تین باتیں ایسی ہیں جن کی بنا پراسے دوسروں پر فضیلت حاصل ہے  ...

معین مقداروں کا علم رکھنا ، انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنا اور انہیں استعمال کرسکنا .. اچھائی برائی کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ سسٹم کو چلانے کا علم اور صلاحیت رکھنا  ...

یہ سارا سسٹم لہروں پر قائم ہے -تصور شیخ مرشد کے اندر کام کرنے والے انوار یعنی لہروں کو اپنے اندر منتقل کرنے کا ایک طریقہ  ہے - اس میں مرید کا ذہن اگر تصویر کشی میں مصروف ہوجائے تو یہ درست نہیں بلکہ یہ ایک قسم کی بت پرستی ہوگئی  ...

اس کا درست طریقہ خود کو مرشد جیسا سمجھنا .. خود کو مرشد کی جگہ رکھ کر سوچنا ہے - مرشد کے تصور میں مستغرق ہونے اور محض مرشد کی تصویر کو ذہن میں ابھارنے میں جو فرق ہے اس کو سمجھانے کو ... ماں کی طرز فکر کا بچے کو منتقل ہونے کی مثال دی ... 

فرمایا .. کہ بچہ وہی زبان بولتا ہے جو ماں بولتی ہے - بچہ انہی طرزوں میں سوچتا اور بات کرتا ہے جن طرزوں میں ماں باپ بات کرتے ہیں -
اسی طرح انسان جس سے متاثر ہوتا ہے وہ اس کی طرزوں کو اپناتا ہے -اگر آپ اپنے مرشد سے متاثر ہوکر اس کی طرز فکر کو اپناتے ہیں تو تصور شیخ کے تقاضے پورے ہونے کی سبیل بن گئی  "...BMMK

تصور شیخ -- 1



ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 



 تصور شیخ 


ایک  مرتبہ سربراہ سلسلہ عظیمیہ جناب  خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب راولپنڈی مراقبہ ہال 
تشریف لائے -
 راولپنڈی مراقبہ ہال سواں کیمپ کے نواح میں شہر سے دور جی ٹی روڈ سے تین چار کلومیٹر ہٹ کر 
ایک پہاڑی ٹیلے پر وسیع اور پر فضا مقام پر واقع ہے - 

پنڈی مراقبہ ہال میں تصور شیخ پر بات کرتے ہوئے عظیمی صاحب نے فرمایا  ..." مرشد کے اندر کام کرنے والی لہریں مرید کو منتقل ہوتی ہیں اور یہ کوئی اچنبھے کی یا کوئی انہونی بات نہیں ہے   ... ہم سردی میں ہیٹر کے سامنے بیٹھتے ہیں تو گرمی کی لہریں ہمارے اندر منتقل ہوتی ہیں .. گرمی میں جب ہم ائرکنڈیشن کے سامنے بیٹھتے ہیں تو سردی کی لہریں ہمارے اندر منتقل ہوتی ہیں -

 نئی نئی شادی ہوتی ہے تو شوہر کے ذہن پر بیوی سوار ہوتی ہے اور بیوی کے ذہن پر شوہر سوار ہوجاتا ہے اور اس طرح دو اجنبی ایک دوسرے کے ہم دم بن جاتے ہیں -
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ماں کو بچے کا دھیان رہتا ہے تو بچے کو بھی ماں کا دھیان رہتا ہے اور اس سے بچے میں ماں کا شعور منتقل ہوتا ہے -  

فرمایا کہ جب مرید اپنے مرشد کا تصور کرتا ہے تو مرشد کی طرز فکر اور اس کا ذہن مرید کو منتقل ہوتا ہے  "...  BMMK




مرشد کریم -- حصّہ دوم




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


مرشد کریم

ایک اور موقع پر عظیمی صاحب نے فرمایا...
..."  مرشد کو مافوق الفطرت انسان نہیں سمجھنا چاہئے ، وہ بھی ایک عام انسان ہی ہوتا ہے جو کھاتا ہے  ...  پیتا ہے  ..  رفع حاجت کرتا ہے  .. اونگھتا اور سوتا ہے .. یہ سمجھنا کہ وہ ہر وقت دوربین لگائے مریدوں کو دیکھتا رہتا ہے درست نہیں -
تربیتی پروگرام کے دوران اگر ضرورت ہو تو خصوصی نگرانی کی جاتی ہے مگر ہمہ وقت والی بات پھر بھی نہیں ہوتی -



مزید فرمایا   ... آپ مرشد سے دو قدم آگے چلیں گے تو آپ کے شاگرد آپ سے چار قدم آگے چلیں گے ...  یاد رکھیں مرشد سے آگے نہیں چلتے ...  مرشد کے بائیں طرف نہیں چلتے  ...  ہمیشہ پیچھے چلتے ہیں یا دائیں طرف رہ کر چلتے ہیں -

بائیں طرف قلب ہوتا ہے .. فرشتے اور جنّات وغیرہ اسی طرف آ کر احکامات لیتے ہیں - اس لئے مرشد کے بائیں طرف یا آگے چلنا بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے - آپ نے یہ تو سنا ہی ہوگا ... با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب --      "...

ایک صاحب نے عرض کیا کہ مرشد کو اپنے ہمراہ لے جانے کا طریقہ کیا ہے ؟
فرمایا ..."  مرشد کو اپنے دل میں بسانے اور ہمراہ لے جانے کا طریقہ قرب ہی ہے اور قرب بھی ذہنی قرب  ...  بعض لوگ قریب رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے آشنا نہیں ہو پاتے بعض لوگ دور رہ کر بھی قریب رہتے ہیں -
اگر فاصلے حائل نہ رہیں تو ذہنی قرب ہی اصل قرب ہے - فرمایا .. حضرت اویس قرنیؓ اس قرب کی وہ اعلیٰ ترین مثال ہیں جو نوع انسانی آج تک پیش کر سکی ہے -

بڑے پیر صاحب شیخ عبدالقادر جیلانیؓ علم کی اور حضرت اویس قرنیؓ عشق کی وہ اعلیٰ ترین مثالیں ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی  "...✦BMMK

Monday, July 7, 2025

مرشد کریم -- 1




ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 


مرشد کریم


سلسلہ عظیمیہ کے سربراہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب روحانی استاد یا پیر و مرشد کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں  ...

   ..."  بچہ دنیا میں آتا ہے تو اس کا لاشعور پردے میں چلا جاتا ہے    .. بیس سال کی عمر تک دھول پڑتی رہتی ہے ... یہاں تک کہ پردہ پوری طرح لاشعور کو اپنی اوٹ میں لے لیتا ہے -

اسی دھول کی صفائی کرنا مرشد کا کام ہوتا ہے .. اگر یہ صفائی یک دم کردی جائے تو انسان یک دم  بچے کی حالت میں واپس چلا جاتا ہے ، یہ صورت جذب کہلاتی ہے اور جب آھستہ آھستہ یعنی بتدریج اس پردے کو باریک جالی کی مانند کردیا جاتا ہے تو اس میں سے لاشعور بھی جھلکتا رہتا ہے اور شعور بھی کام کرتا رہتا ہے -
اس پردے کو بالکل ختم کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ اس کو لاشعور سے ہم آہنگ کیا جاتا ہے -    "...



ایک صاحب نے عرض کیا .. آپ کے قریب رہتے ہوئے منفی خیالات نہیں آتے -

فرمایا  ..."     اسی لئے تو مرشد کا قرب ضروری ہوتا ہے - پھر کہا ... مجھے خیال نہیں آتے ، میں یکسو رہتا ہوں .. جب آپ کسی ایسے بندے کے قریب جاتے ہیں تو آپ اس کی ٹرانس میں آجاتے ہیں ..
یہ نہیں کہ وہ جان  بوجھ کر آپ کو اپنی ٹرانس میں لیتا ہے بلکہ آپ خود بخود آجاتے ہیں اور منفی خیالات کی رو ختم ہوجاتی ہے -    "...✦BMMK