ارشادات ، واقعات ، تعلیمات اور طرز فکر
تصور شیخ
ایک اور موقع پر لاہور مراقبہ ہال میں تصور شیخ کی وضاحت کرتے ہوئے
عظیمی صاحب نے فرمایا ...
✦..." انسان میں معین مقداریں کام کرتی ہیں - انسان ہی نہیں بلکہ ہر شے میں معین مقداریں کام کرتی ہیں اور یہ سب ایک سسٹم کے تحت ہوتا ہے ...
یہی وجہ ہے کہ آم کے درخت پر صرف آم اور سیب کے درخت پر صرف سیب ہی لگتے ہیں -انسان میں تین باتیں ایسی ہیں جن کی بنا پراسے دوسروں پر فضیلت حاصل ہے ...
معین مقداروں کا علم رکھنا ، انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنا اور انہیں استعمال کرسکنا .. اچھائی برائی کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ سسٹم کو چلانے کا علم اور صلاحیت رکھنا ...
یہ سارا سسٹم لہروں پر قائم ہے -تصور شیخ مرشد کے اندر کام کرنے والے انوار یعنی لہروں کو اپنے اندر منتقل کرنے کا ایک طریقہ ہے - اس میں مرید کا ذہن اگر تصویر کشی میں مصروف ہوجائے تو یہ درست نہیں بلکہ یہ ایک قسم کی بت پرستی ہوگئی ...
اس کا درست طریقہ خود کو مرشد جیسا سمجھنا .. خود کو مرشد کی جگہ رکھ کر سوچنا ہے - مرشد کے تصور میں مستغرق ہونے اور محض مرشد کی تصویر کو ذہن میں ابھارنے میں جو فرق ہے اس کو سمجھانے کو ... ماں کی طرز فکر کا بچے کو منتقل ہونے کی مثال دی ...
فرمایا .. کہ بچہ وہی زبان بولتا ہے جو ماں بولتی ہے - بچہ انہی طرزوں میں سوچتا اور بات کرتا ہے جن طرزوں میں ماں باپ بات کرتے ہیں -
اسی طرح انسان جس سے متاثر ہوتا ہے وہ اس کی طرزوں کو اپناتا ہے -اگر آپ اپنے مرشد سے متاثر ہوکر اس کی طرز فکر کو اپناتے ہیں تو تصور شیخ کے تقاضے پورے ہونے کی سبیل بن گئی "...✦BMMK
No comments:
Post a Comment