ارشادات ، واقعات ، تعلیمات اور طرز فکر
عالم اعراف
ایک صاحب نے دریافت کیا کہ جمعرات کو قبروں پر جانے کی کیا اہمیت ہے ؟
عظیمی صاحب نے ارشاد فرمایا ✦..." اس روز اعراف کے لوگوں کو چھٹی ملتی ہے تو وہ اپنے لواحقین کو دیکھنے آتے ہیں - اس روز قبر پر صاحب مزار کی توجہ ہوتی ہے - یہ تعلق تیس سال تک رہتا ہے-
جب لوگ قبر پر نہیں جاتے تو ان کی بھی دلچسپی کم ہوجاتی ہے - وہاں اور دلچسپیاں بن جاتی ہیں - جب لوگ مزار پر جاتے ہیں اور صاحب قبر کو سلام کرتے ہیں تو وہ بھی متوجہ رہتے ہیں ورنہ رہے نام الله کا "...✦
ایک مرتبہ پشاور مراقبہ ہال کے دورے کے موقع پر ... مرشد کریم عظیمی صاحب سے ایک صاحب نے دریافت کیا... عالم برزخ و اعراف میں کونسی زبان بولی جاتی ہے ؟
فرمایا ✦..."وہاں کوئی زبان نہیں بولی جاتی ، خیالات براہ راست منتقل ہوتے ہیں - ہم جو بھی زبان بولتے ہیں ان میں آواز کی لہروں کو مخصوص معنی کی ادائیگی کے لیے استعمال کرتے ہیں - اب آپ نے پانی کہنا ہے آپ اسے آب کہہ لیں ، ابو کہہ لیں، واٹر کہہ دیں ، ماء کہہ لیں مفہوم ایک ہی ہے -
دراصل ایک جھماکہ سا ہوتا ہے خیال آتا ہے اور الفاظ کے قالب میں ڈھل جاتا ہے - ان الفاظ کے قالب میں جو فرد کی مادری زبان کے الفاظ ہوتے ہیں - انسان کسی دوسری زبان کو کتنا ہی سیکھ جائے سوچتا اور خواب اپنی مادری زبان ہی میں دیکھتا ہے "...✦
اس دورے کے دوران ایک دوسری نشست میں نیاز صاحب کے کزن نور حسن جان صاحب نے سوال کیا کہ ... کیا اوپر جاکر سب لوگ جوان ہو جاتے ہیں ؟
فرمایا ✦..." بچے اوپر جا کر بڑے ہوتے ہیں - ان کی تربیت وہاں پر ہوتی ہے - جن لوگوں کو یہاں اولاد نہیں ملتی ...انھیں ان کے حوالے کر دیا جاتا ہے - اولاد کو یہاں کس نے کیا کھلایا اور کیا پلایا وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کی تربیت میں کن باتوں کا خیال رکھا گیا ہے یہ بات دیکھی جاتی ہے-
بوڑھوں کے فیچر وہاں بھی بوڑھوں جیسے ہی رہتے ہیں - لیکن وہ لوگ جنہوں نے یہاں زندگی اچھی طرح بسر کی ہوتی ہے ان کے خد و خال جوانوں جیسے ہی رہتے ہیں ... یہ بات تو ہم یہاں بھی دیکھتے ہیں کئی لوگ بڑھاپے میں بھی جوان ہی نظر آتے ہیں"...✦BMMK
No comments:
Post a Comment