ارشادات ، واقعات ، تعلیمات اور طرز فکر
حضرت مولا علی علیہ السلام
عظیمی صاحب سے سوال کیا گیا کہ .. حضرت علی کرم الله وجہہ کے حوالے سے یہ واقعہ سنایا جاتا ہے کہ ان کو ایک تیر لگا اور وہ کسی طور جسم سے نکالا نہیں جا رہا تھا ... اس پہ آپ نے کہا کہ رہنے دو جب میں نماز قائم کروں اس وقت نکال دینا ..
اگر یہ مان لیا جاۓ کہ حالت نماز میں حضرت علیؓ پر خواب کے حواس غالب آگئے تھے ... تو ادھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی آدمی خواہ کتنی ہی گہری نیند میں ہو اگر اس کو سوئی بھی چبھودی جاۓ تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ جاتا ہے .. جب کہ وہاں تو ایک تیر تھا جو جسم میں ترازو ہوچکا تھا ؟
عظیمی صاحب نے فرمایا ✦..." یہ خواب کے نہیں موت کے حواس کی بات ہے .. وہ حضور صلّ الله علیہ وسلّم کے تربیت یافتہ تھے .. انہوں نے "موتو قبل انت موتو " کا سبق خوب سمجھ لیا تھا .. وہ خواب کے حواس سے گزر کر موت کے حواس سے آشنا ہوچکے تھے اور وہ ان کو خود پہ اسی طرح طاری کرسکتے تھے جس طرح آپ سونا چاہتے ہیں تو خود پہ خواب کے حواس طاری کر لیتے ہیں -
حضرت علیؑ کی کیفیت ... نیند کے حواس سے گزر کر موت کے حواس کا طاری ہونا تھا ... یہ بڑی صلاحیت ہے .. آدمی اپنی مرضی سے مر جاۓ ... بھئی یہ تو کمال ہے اور اس سے بڑھ کر کمال یہ ہے کہ آدمی اس زندگی میں محض اس لئے پلٹ آئے کیونکہ الله چاہتا ہے کہ آپ یہاں زندہ رہیں - یہ ایک وہبی (Gifted) صلاحیت ہوتی ہے جس کو نصیب ہوجائے "...✦BMMK
No comments:
Post a Comment