ارشادات ، واقعات ، تعلیمات اور طرز فکر
مرشد کریم
ایک اور موقع پر عظیمی صاحب نے فرمایا...
✦..." مرشد کو مافوق الفطرت انسان نہیں سمجھنا چاہئے ، وہ بھی ایک عام انسان ہی ہوتا ہے جو کھاتا ہے ... پیتا ہے .. رفع حاجت کرتا ہے .. اونگھتا اور سوتا ہے .. یہ سمجھنا کہ وہ ہر وقت دوربین لگائے مریدوں کو دیکھتا رہتا ہے درست نہیں -
تربیتی پروگرام کے دوران اگر ضرورت ہو تو خصوصی نگرانی کی جاتی ہے مگر ہمہ وقت والی بات پھر بھی نہیں ہوتی -
✦..." مرشد کو مافوق الفطرت انسان نہیں سمجھنا چاہئے ، وہ بھی ایک عام انسان ہی ہوتا ہے جو کھاتا ہے ... پیتا ہے .. رفع حاجت کرتا ہے .. اونگھتا اور سوتا ہے .. یہ سمجھنا کہ وہ ہر وقت دوربین لگائے مریدوں کو دیکھتا رہتا ہے درست نہیں -
تربیتی پروگرام کے دوران اگر ضرورت ہو تو خصوصی نگرانی کی جاتی ہے مگر ہمہ وقت والی بات پھر بھی نہیں ہوتی -
مزید فرمایا ... آپ مرشد سے دو قدم آگے چلیں گے تو آپ کے شاگرد آپ سے چار قدم آگے چلیں گے ... یاد رکھیں مرشد سے آگے نہیں چلتے ... مرشد کے بائیں طرف نہیں چلتے ... ہمیشہ پیچھے چلتے ہیں یا دائیں طرف رہ کر چلتے ہیں -
بائیں طرف قلب ہوتا ہے .. فرشتے اور جنّات وغیرہ اسی طرف آ کر احکامات لیتے ہیں - اس لئے مرشد کے بائیں طرف یا آگے چلنا بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے - آپ نے یہ تو سنا ہی ہوگا ... با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب -- "...✦
ایک صاحب نے عرض کیا کہ مرشد کو اپنے ہمراہ لے جانے کا طریقہ کیا ہے ؟
فرمایا ✦..." مرشد کو اپنے دل میں بسانے اور ہمراہ لے جانے کا طریقہ قرب ہی ہے اور قرب بھی ذہنی قرب ... بعض لوگ قریب رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے آشنا نہیں ہو پاتے بعض لوگ دور رہ کر بھی قریب رہتے ہیں -
اگر فاصلے حائل نہ رہیں تو ذہنی قرب ہی اصل قرب ہے - فرمایا .. حضرت اویس قرنیؓ اس قرب کی وہ اعلیٰ ترین مثال ہیں جو نوع انسانی آج تک پیش کر سکی ہے -
بڑے پیر صاحب شیخ عبدالقادر جیلانیؓ علم کی اور حضرت اویس قرنیؓ عشق کی وہ اعلیٰ ترین مثالیں ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی "...✦BMMK

No comments:
Post a Comment