ارشادات ، واقعات ، تعلیمات اور طرز فکر
فقیر
خواجہ صاحب فقیروں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ...
✦..." کبھی کسی فقیر نے بادشاہ بننے کی کوشش نہیں کی ... وہ خواہش اقتدار ہی نہیں رکھتا تو وہ کسی بادشاہ سے بھلا کیوں پرخاش رکھے گا ... ہاں جب بھی کبھی کسی بادشاہ نے فقیر سے مدد مانگی ... اس نے کی -
بادشاہوں نے فقیر کے در پر ماتھا ٹیکا ... وہ اپنی غرض کو ننگے پاؤں چل کر فقیروں کے پاس گئے - بادشاہوں کو فقیر سے ڈر لگتا ہے ... وہ جانتے ہیں کہ اگر عوام نے اس ( فقیر ) کی بات سن لی تو وہ اس ( بادشاہ ) کے چکر میں نہیں آئیں گے -
فقیر تو خود بادشاہ گر ہوتا ہے ... وہ بادشاہ کیوں بننے لگا ... یہی وجہ ہے کہ بادشاہوں نے تخت و تاج چھوڑ کر فقیری اختیار کی - بدھا سے لے کر ابراہیم بن ادھمؒ تک کتنوں نے بادشاہت کو لات ماری -
آپ یہ دیکھیں دنیاوی وسائل بادشاہ کے پاس ہوتے ہیں یا فقیر کے پاس ... کسی بادشاہ نے کبھی لنگر کیوں نہیں چلایا ... فقیر چلاتا ہے لنگر .. آپ لاہور میں جہانگیر کا مقبرہ دیکھیں .. اسی لاہور میں داتا صاحب کا مزار بھی ہے .. دونوں کا فرق واضح ہے -
ایک جگہ لوگ تفریح کے لئے جاتے ہیں اور دوسری جگہ عقیدت و احترام سے منتیں اور مرادیں مانگنے -
ایک جگہ دن میں چار لوگ جائیں تو جائیں .. رات میں کتے ہی لوٹتے ہیں اور دوسری جگہ دن ہو یا رات مانگنے والوں کا رش لگا رہتا ہے "...✦BMMK
No comments:
Post a Comment