ارشادات ، واقعات ، تعلیمات اور طرز فکر
روحانیت اور تصوف کے مشکل مسائل کو بغیر کسی فلسفیانہ گھماؤ پھراؤ کے سیدھے سادھے انداز میں بیان کرنا عظیمی صاحب کا منفرد انداز ہے .. الله کے دوست جس موضوع پر بھی بات کرتے ہیں اپنی فراست کے نور سے سننے والے کے ذہن کو منور کردیتے ہیں -
روح کے تقاضے جسمانی تقاضوں سے کہیں زیادہ رفیع الشان اور زوردار ہوتے ہیں اور جب وہی نظرانداز ہوجائیں تو روح مضطرب ہوجاتی ہے .. روح کا یہ اضطراب ذہنی کشمکش اور پریشانیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے -
خواجہ صاحب اپنے ارشادات کے ذریعے مسلسل اس کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ کسی طرح اپنے سلسلہ سے وابستہ افراد اور عام افراد میں روح کے تقاضوں اور اس کی ضروریات کے حوالے سے ایک گہرا ادراک بیدار کردیا جائے
خواجہ صاحب اپنے ارشادات کے ذریعے مسلسل اس کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ کسی طرح اپنے سلسلہ سے وابستہ افراد اور عام افراد میں روح کے تقاضوں اور اس کی ضروریات کے حوالے سے ایک گہرا ادراک بیدار کردیا جائے
وہ ایسے روحانی حقائق بیان کرتے ہیں جو سماعت کے راستے شعور میں داخل ہوتے ہیں اور ادراک میں پہنچ کر روشنیاں بکھیر دیتے ہیں .. آگہی کا یہ اجالا وجدان کی لذت بنتا ہے -
لوگ آپ کی باتیں سنتے سنتے کہیں کھو جاتے ہیں .. اس کی وجہ اس کی سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ جو کچھ بھی ارشاد فرماتے ہیں خلوص نیت اور مخلوق خدا کی بھلائی کی جذبے سے ارشاد فرماتے ہیں ..
لوگ آپ کی باتیں سنتے سنتے کہیں کھو جاتے ہیں .. اس کی وجہ اس کی سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ جو کچھ بھی ارشاد فرماتے ہیں خلوص نیت اور مخلوق خدا کی بھلائی کی جذبے سے ارشاد فرماتے ہیں ..
ان کے قول و فعل میں دنیا اور آخرت کا ایک شاندار امتزاج اور حسین توازن ان کی پہچان ہے... خواجہ صاحب کی حس مزاح نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے .. لطافت اور شائستگی کے علاوہ کوئی نہ کوئی سبق اپنے اندر سمیٹے ہوئے ..
آپ نے مادی شعور کی بھول بھلیوں میں پھنسے ہوئے انسانوں کو ایک ایسی راہ پر ڈالنے کا اہتمام کیا ہے جو ادب و فلسفے کے نظریاتی مباحث کے میدانوں کی بجائے عمل کی وادیوں کی طرف لے جاتی ہے اور خود فریبی و بے عملی سے بچاتی ہوئی خود شناسی اور اس سے بھی آگے بڑھ کر خدا شناسی کی بلند ترین منزل تک پہنچا سکتی ہے -
ایسی روحانی ہستیوں کی قربت کا ایک لمحہ سالوں کی بے ریا طاعت سے افضل ہے کیونکہ وہ بہت ہی گہرے تفکر کو ابھارنے کی کرامت جانتے ہیں اور اس کا اظہار کرتے رہنا ان کو خوب آتا ہے -
آپ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا ... میں تو ایک داستان گو ہوں .. فقیر کے پاس آپ جب بھی آئیں گے وہ آپ کو کوئی نئی بات ہی سنائے گا .. کچھ لوگ کہانی سنا ہی نہیں سکتے لیکن کچھ افراد میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ بات شروع کردیں تو سماں باندھ دیں --
No comments:
Post a Comment