Friday, January 2, 2026

خوشی اور غم


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


خوشی اور غم 

 

 خواجہ صاحب نے ایک مرتبہ خوشی اور غم پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا   ...  خوشی اور غم دو

 کیفیتوں کے نام ہیں  - ایک بات جو آپ کے لئے بہت ہی بڑی خوشی کی بات ہے وہی

 کسی اور کے لئے ناخوشی اور دکھ کی بات ہوسکتی ہے  -

 خوشی اور غم کو روحانی آنکھ سے دیکھنے والے کو یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سب معنی پہنانے کا کھیل ہے

 اور معنی پہنانے والی ایجنسی ہمارا ذہن ہے  -

 اگر وہ وصول ہونے والی اطلاع میں درست معنی پہناتی ہے تو اس کے نتیجے میں خوشی کی

 کیفیت مرتب ہوتی ہے اور غلط اور تخریبی معنی پہنائے جاتے ہیں تو ناخوشی اور تکلیف مقدر 

بن جاتی ہے  - 

مزید ایک شعر  سے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا  ... یہ لمبی بحر میں ہے  ... 

ہر  خوشی  اک  وقفۂ     تیارئ    سامان   غم 

ہر سکوں مہلت برائے اضطراب و امتحان 

یعنی ہر خوشی کے بعد غم اور ہر غم کے بعد خوشی آتی ہے یعنی یہ دونوں کیفیتیں ادل بدل ہوتی

 رہتی ہیں - بعض لوگ زیادہ حساس ہونے کے سبب پچاس (50)فیصد کے بجائے اسی  (80)

فیصدغمگین ہوتے ہیں -    BMMK





No comments:

Post a Comment