Sunday, January 11, 2026

رات اور دن


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


رات اور دن 


 ایک محفل مراقبہ کے موقع پر  ، وہاں موجود حاضرین سے عظیمی صاحب نے سوال پوچھا  ...

 یہ کیسے پتہ چلے کہ پہلے دن نہیں بلکہ رات تھی  ؟ 

 ایک مرید نے عرض کیا  ... اس کے لئے دو دلائل دیئے جاسکتے ہیں -پہلی دلیل تو یہ ہے کہ  قمری

 تاریخ شام کو سورج ڈھلنے کے بعد آغاز ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ بائبل میں آتا ہے کہ خدا نے

 کہا  ... روشنی اور روشنی ہوگئی -

 یعنی پہلے تاریکی اور رات ہی تھی ،  روشنی کو اللّٰہ نے بعد میں تخلیق کیا -

 فرمایا  ... جی ہاں  ،  اب یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں کیا ہیں  ؟  فرمایا  ... دراصل یہ دونوں خلا ہیں  -

 دن میں رات نکالتے ہیں اور رات میں سے دن ادھیڑ لیتے ہیں  - دن پر سے رات اور رات پر

 سے دن  ،  یعنی ادھیڑ اور بن رہے ہیں -

 ہاتھ سے ادھیڑنے کے عمل کا اشارہ کرکے دکھاتے ہوئے پوچھا  ... اگر کسی بنے ہوئے کپڑے یا

 سوئیٹر کو ادھیڑ یں تو کیا بچے گا  ؟

  فرمایا  ... کچھ نہیں  ،  یعنی کچھ باقی نہیں بچا  ،  یہ سب خلا ہے - خلا میں ایک قسم کے حواس بھر

 جاتے ہیں تو وہ دن کہلاتا ہے اور جب دوسری قسم کے حواس بھر جاتے ہیں تو وہ رات کہلاتی

 ہے - یہ دن اور رات دراصل حواس کی اسپیڈ کے نتیجے میں بنتے ہیں اور دونوں ہی دھوکہ ہیں -

 جب حواس کی رفتار کم ہوجاتی ہے تو دن کہلاتا ہے اور جب حواس کی رفتار تیز ہوجاتی ہے تو اس

 کو رات کہہ دیتے ہیں - یہ سب لطائف وغیرہ بھی خلا ہی تو ہیں -     BMMK





No comments:

Post a Comment