ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
عظیمی صاحب فرماتے ہیں ... ایک آدمی جس کی عمر بیس سال ہے اس کی زندگی کا ہر لمحہ انسانی
جسم سے تعلق اور دلچسپی کی داستان ہے ، جسم بیمار ہوتا ہے تو یہ محض ایک کیفیت کا اظہار
ہے ، جسم تو محض ایک ذریعہ ہے کسی وجود کے اظہار کا -
جسم انسانی بے اختیار ہے ... شعور اگر اطلاع فراہم نہ کرے تو جسم اس لاؤڈ اسپیکر کی طرح
ہے جس پر کوئی تقریر نہ کی جارہی ہو - جسم کی بنیاد شعور ہے اور شعور کی بنیاد کہیں سے موصول
ہونے والی اطلاع ہے -
جسم بعض اوقات اطلاعات سے بلند ہوجاتا ہے جیسے سونے کی حالت - اس جیتی جاگتی تصویر
یعنی اس جسم کی اپنی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے - اس جسم کو کوئی ایجنسی متحرک رکھے ہوئے
ہے اور اس ایجنسی کا نام شعور ہے ... محض شعور ہی کی بنیاد پر زندگی کا تسلسل جاری ہے -
جب شعور عالم ناسوت کی زندگی سے عارضی طور پر رشتہ منقطع کرلیتا ہے اور دوسرے عالم میں
منتقل ہوجاتا ہے تو وہ اس مصدر اطلاعات کے قریب ہوجاتا ہے جو انسان کی اصل ہے اور
اس عالم میں چونکہ کوئی تغیر نہیں ہے ، اس لئے وہ جو اطلاعات وصول کرتا ہے وہ براہ راست
موصول کرتا ہے - BMMK
No comments:
Post a Comment