ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
مرکزی مراقبہ ہال سرجانی ٹاؤن میں قلندر شعور کی کلاس میں لیکچر دیتے ہوئے عظیمی صاحب نے
ارشاد فرمایا ✦..." انسان خوشی کے بارے میں ان نابیناؤں جیسا وطیرہ رکھتا ہے جو ہاتھی سے
واقف نہ تھے اور اسے ٹٹول کر اس کے بارے میں اندازے لگا رہے تھے - خوشی کیا ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ انسان خوشی سے واقف ہی نہیں ، خوشی تو جنت کی ایک کیفیت ہے جو بدلتی
نہیں ، متغیر نہیں ، لا متغیر و لا متبدل ہے - تغیر میں خوشی نہیں ہوتی -
زندگی ایک کیفیت ہے اور کیفیت کے سوا کچھ نہیں جس میں ہر لحظہ تغیر واقع ہوتا ہے ... اس
کیفیت میں وہ عنصر جس میں تغیر واقع نہیں ہوتا ... خوشی ہے -
حضور قلندر بابا اولیاءؒ کا فرمان ہے ... انسان اگر شعوری کیفیات و واردات سے آزاد ہوکر بے
کیف ہوجائے تو یہ اصل خوشی ہے -
اب یہ کیسے ممکن ہے ؟ یہ اس طرح ممکن ہے کہ ہمارے لئے ہمارا جسم اہم ہے - ہم زندگی کو
جسم سے منسلک سمجھتے ہیں ... لاشعور ہمیں ہمارے جسم کے بارے میں اطلاع فراہم کرتا ہے
اور یہی اطلاع شعور ہے - خوشی اور غم ، کسی چیز سے ہماری Attachment کی مناسبت
سے ہوتا ہے -
آپ کسی کو اپنی مرضی سے پانچ ہزار روپے دے دیں ، آپ کو دکھ نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات
خوشی ہوتی ہے لیکن اگر آپ سے پانچ سو روپے کھو جائیں تو وہ بھول کر نہیں دیتے ، یعنی آپ
نے پانچ سو روپے سے اپنا تعلق شعوری طور پر ختم نہیں کیا اس لئے دکھ ہوا "...✦ BMMK
No comments:
Post a Comment