ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
قرض
ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب اپنے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب
سے اپنی ایک ملاقات کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ... کراچی مراقبہ ہال میں مسجد کی تعمیر
تکمیل کے مراحل میں داخل ہوچکی تھی ، ساتھ میں مراقبہ ہال کی عمارت کی تعمیر بھی آغاز ہوچکی
تھی - میں نے مبارک باد دی کہ تعمیر کا کام ماشاء اللّٰه تیزی سے ہورہا ہے -
عظیمی صاحب نے فرمایا ... آپ نے دیکھا ، اللّٰه نے کرم کیا کام ہورہا ہے ... قرض لینا پڑ گیا
ہے - میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں ازراہ تبصرہ کہا ... واقعی قرضہ کا بوجھ بہت ہوتا ہے -
ایک جھٹکے سے فرمایا ... اجی بوجھ ھوگا تو اللّٰه پر ، مجھ پر کاہے کا بوجھ ؟ اس کا کام ہے ، وہ
جانے قرضہ جانے ، بھئی ہمیں کام دیا ، وسائل دیئے ، جب کام مکمل ہوجائے گا تو لوگ کہیں
گے عظیمی صاحب نے کیا ... کرتا اللّٰہ ہے نام بندے کا کردیتا ہے ، بھئی وسائل اللّٰہ ہی دیتا
ہے - حضورعلیہ الصلوٰة والسلام تک نے ادھار لیا ، اپنے لئے نہیں لیا ، اللّٰہ کے کسی کام کے
لئے لیا ، اللّٰہ نے اسے چکا دیا ... اب جیسے بھی وہ چاہے -
پھر نرمی اور پیار بھرے لہجے میں قرض کے حوالے سے بتایا کہ اللّٰہ نہ اپنے ذمے کبھی کوئی قرض
چھوڑتا ہے نہ فقیر کے ، نہ اچھا نہ برا ، ایک پورا نظام قائم ہے اس کے لئے - اللّٰہ کے بندے
بھی اسی ذیل میں آتے ہیں - اللّٰہ ان کے ذمے بھی کبھی کوئی قرض نہیں چھوڑتا ، نہ اچھا نہ برا
لیکن ہم اللّٰہ پر چھوڑیں تو سہی ... ہم اللّٰہ پر چھوڑتے نہیں تو وہ بھی کہہ دیتا ہے ... چلو ٹھیک
ہے جیسے تم راضی -
یہ بات بھی فرمائی کہ قرض لینا نہیں چاہیئے ، اس سے یقین متاثر ہوتا ہے لیکن یہ گھر کا سودا سلف
وقتی طور پر ادھار آنا قرض کی تعریف میں نہیں آتا - BMMK
No comments:
Post a Comment