ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں ... ہر شے کسی نہ کسی مرکز سے متعلق ہوتی
ہے - ہر شے کا کوئی نہ کوئی مرکز ہوتا ہے - مرکزیت سے ہی اتفاق اور برکت ہوتی ہے -
الیکٹرون بھی ایک مرکز ہی کے گرد گھومتا ہے اور جب تک وہ مرکز سے وابستہ رہتا ہے قائم رہتا
ہے - مرکزیت ٹوٹ جائے تو ہر چیز بکھر کر رہ جاتی ہے ... فنا ہوجاتی ہے - جب انسان کسی
صفت پر قائم ہوجاتا ہے تو اس صفت کے حامل افراد خود بخود اس کے گرد اکٹھے ہوجاتے ہیں -
اللّٰہ تعالیٰ نے یہ نظام گروہی تقسیم پر قائم فرمایا ہے - آپ جس صفت پر قائم ہوجائیں گے ،
اس صفت کے حامل افراد آپ کو خود ہی تلاش کرلیں گے -
آپ میں اگر غصہ ہے تو آپ کے گرد غصے والے لوگ جمع ہوجائیں گے - آپ میں سخاوت اور
ہمدردی ہے تو آپ کے گرد ہمدرد اور سخی لوگ جمع ہوجائیں گے - آپ میں عفو و درگزر ہے تو
آپ کے گرد ایسے لوگ جمع ہوجائیں گے جو اس صفت کے حامل ہوں گے -
آدمی گروہ کو نہیں ڈھونڈتا ... گروہ آدمی کو ڈھونڈ لیتا ہے - آپ چشمہ بنیں گے تو پیاسے خود ہی
آپ کو کھوج نکالیں گے - BMMK
No comments:
Post a Comment