Monday, April 20, 2026

گروہ -2



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


گروہ 

 

 حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں  ... ہر شے کسی نہ کسی مرکز سے متعلق ہوتی

 ہے  - ہر شے کا کوئی نہ کوئی مرکز ہوتا ہے - مرکزیت سے ہی اتفاق اور برکت ہوتی ہے -

 الیکٹرون بھی ایک مرکز ہی کے گرد گھومتا ہے اور جب تک وہ مرکز سے وابستہ رہتا ہے قائم رہتا

 ہے - مرکزیت ٹوٹ جائے تو ہر چیز بکھر کر رہ جاتی ہے  ... فنا ہوجاتی ہے - جب انسان کسی

 صفت پر قائم ہوجاتا ہے تو اس صفت کے حامل افراد خود بخود اس کے گرد اکٹھے ہوجاتے ہیں -

 اللّٰہ تعالیٰ نے یہ نظام گروہی تقسیم پر قائم فرمایا ہے - آپ جس صفت پر قائم ہوجائیں گے  ،

  اس صفت کے حامل افراد آپ کو خود ہی تلاش کرلیں گے -

 آپ میں اگر غصہ ہے تو آپ کے گرد غصے والے لوگ جمع ہوجائیں گے - آپ میں سخاوت اور

ہمدردی ہے تو آپ کے گرد ہمدرد اور سخی لوگ جمع ہوجائیں گے - آپ میں عفو و درگزر ہے تو

 آپ کے گرد ایسے لوگ جمع ہوجائیں گے جو اس صفت کے حامل ہوں گے -

 آدمی گروہ کو نہیں ڈھونڈتا  ... گروہ آدمی کو ڈھونڈ لیتا ہے - آپ چشمہ بنیں گے تو   پیاسے خود ہی

 آپ کو کھوج نکالیں گے -      BMMK




  

No comments:

Post a Comment