ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
عظیمی صاحب اپنے مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے وصال کے بعد کے واقعات سناتے
ہوئے فرماتے ہیں ... " مرشد کے وصال کے بعد کوئی بھی فیصلہ جلدی میں نہیں کرنا چاہیئے -
بدر صاحب ہیں تو بیوروکریٹ ، انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، لے کر محسن
صاحب کو بٹھا دیا - حالانکہ لوگوں نے مجھے کہا بھی کہ یہ تو طے کرو کہ وہ مجاور ہیں یا سجادہ نشین لیکن
ہم اپنے غم میں تھے - میں اپنے حواسوں میں تھا ہی کب ، وہ اپنی کر گزرے ... اس کا نتیجہ اچھا
نہیں ہوا -
فرمایا ... پیر و مرشد کے پردہ فرمانے کے بعد کوئی بھی فیصلہ جلدی نہیں کرنا چاہیئے - دو تین ماہ لگتے
ہیں آدمی کو اپنی جگہ پر آنے میں - بہت ضروری فیصلے بھی چہلم کے بعد ہی کرنے چاہیئیں - اس
وقت جذباتی حالت ہوتی ہے ، ہوشیار لوگ اس وقت فیصلہ کروا لیتے ہیں -
مجھ سے بھی یہی غلطی ہوئی تھی ... محسن صاحب کو خانقاہ بٹھانے کے فیصلے پر میں نے ہاتھ نہ
اٹھایا ہوتا تو بعد میں ، یہ تو کہہ سکتا تھا کہ آپ کے انتخاب میں میری کوئی رائے شامل نہیں تھی -
BMMK
No comments:
Post a Comment