ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
سلسلہ عظیمیہ کے مرشد الشیخ عظیمی صاحب فرماتے ہیں ... استغناء کا مطلب ہے کہ وسائل کی
محتاجی کا تصور ختم ہوجائے - انسان جب تک وسائل کے گورکھ دھندے میں پھنسا رہتا ہے ،
وہ اللّٰہ کے قریب نہیں ہو سکتا -
روحانیت میں اس بات کی پریکٹیس کرائی جاتی ہے کہ یہاں سب کچھ در و بست اللّٰہ ہی اللّٰہ
ہے - انسان غور کرے کہ اگر وہ اللّٰہ کے ساتھ وابستگی رکھنا چاہتا ہے تو وہ اللّٰہ کے ساتھ کیسے
وابستہ ہوسکتا ہے - اللّٰہ کے ساتھ وابستگی کے لئے ضروری ہے کہ وہ وسائل کی محتاجی سے
آزاد ہوجائے -
اس کے لئے تجربہ ہونا اور بار بار ہونا ضروری ہے ... لامحالہ اس تجربے کے بعد یہ ذہن بن
جائے گا کہ جب اللّٰہ چاہے گا کام ہوجائے گا - اس طرح انسان میں استغناء پیدا ہوجا تا ہے اور
اس کی شعوری زندگی پر لا شعوری زندگی غالب آجاتی ہے - BMMK
No comments:
Post a Comment