Saturday, April 25, 2026

اختتامی لیکچر کتاب قلندر شعور-1



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر

 


اختتامی لیکچر    :      کتاب   قلندر شعور 

مقام   :      مرکزی مراقبہ ہال  کراچی 

لیکچرر  :      خانوادہ سلسلہ عظیمیہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب 


الشیخ عظیمی صاحب اپنے اختتامی لیکچر میں ارشاد فرماتے ہیں  ... اللّٰہ نے ہمیں توفیق دی،

  ہم نے قلندر شعور اسکول کا افتتاح کیا اور کتاب قلندر شعور کو سبقاًسبقاً پڑھا - ہم نے جو کچھ

 پڑھا  ... وہ مختصراً  کچھ یوں ہے کہ ہر انسان کو اللّٰہ نے اسی طرح  پیدا کیا جس طرح دوسری مخلوق

  پیدا ہوتی ہے -

 زندگی کے تمام اعمال اور حرکات میں انسان کی کوئی تخصیص نہیں ہے - ہم عمر کے تعین کے

 لحاظ سے بھی انسان کو ممتاز قرار نہیں دے سکتے - اگر ہم ماں باپ کی شفقت کے حوالے سے

 دیکھیں تو سب ہی جانور اپنی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں - 

انسان کو اگر کوئی فضیلت حاصل ہے تو وہ صرف شعوری ارتقاء کے حوالے سے ہے - 

انسان کے علاوہ کسی اور جانور میں ہمیں شعوری ارتقاء نظر نہیں آتا - بکری آج سے لاکھوں

 سال پہلے بھی پتے کھاتی تھی  ،  وہ آج بھی پتے ہی کھاتی ہے - اسے گھر کی ضرورت تب بھی نہ

 تھی اور آج بھی اسے گھر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی - 

انسان اور دوسری مخلوقات میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ انسان میں بار بار تبدیلی آتی ہے -

 کسی کیڑے  ،  کسی پرندے  ،  کسی جانور کی زندگی میں کوئی تغیر نہیں - جانوروں بلکہ انسان کے

 علاوہ جتنی بھی مخلوقات ہیں  ان کے شعور منجمد ہیں - ان کے شعور کا دائرہ معین ہے -

 وہ آ پس میں لڑتے ہیں   ،  کھاتے پیتے  شادی  بیاہ کرتے  ،  اولاد کی خواہش اور اس کی پرورش

 کرتے ہیں  ... فرق صرف یہ ہے کہ ان کے اندر شعوری ارتقاء نہیں ہے - 

پھر ارتقاء کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ .... خیالات کی ایک رو دماغ پر مسلسل اور

 متواتر پڑ رہی ہے - آدمی چاہے یا نہ چاہے  ... یہ خیالات نازل ہوتے رہتے ہیں -

 کچھ خیالات زندگی کو چلانے کے لئے ہوتے ہیں اور کچھ خیالات زندگی کو آگے بڑھانے اور

 سدھارنے کے لئے ہوتے ہیں  ... اسی کو ارتقاء کہتے ہیں -

خیالات کو قبول کرنا یا انہیں رد کرنا  ،  یہ دو صلاحیتیں ہیں - انسان کے علاوہ دوسری مخلوق میں

 خیالات کو رد کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی  ... یعنی انسان کے دماغ میں ایک ایسا رسیونگ

 سیٹ لگا ہوا ہے کہ وہ موصولہ اطلاعات میں الگ سے ہٹ کر بھی معنی پہنا سکتا ہے -

 معنی پہنانا  ،  علم کی حثیت رکھتا ہے - یعنی انسان انفارمیشن کو قبول کرکے ان میں معنی پہناتا

 ہے - اب اگر اطلاع میں معنی پہنانے والی ایجنسی محدود ہے تو وہ محدود دائرے میں سفر کرے

 گا اور اگر وہ انفارمیشن کو قبول کرکے گہرائی میں داخل ہوگا تو لامحدودیت میں سفر کرے گا -  

آسمانی مخلوق میں فرشتوں کی حیثیت ایک روبوٹ سے زیادہ نہیں ہے - ان کی اپنی کوئی مرضی  ، 

 اپنی کوئی رائے یا کوئی اختیار نہیں ہے -

 جب انسان زمینی شعور سے نکل کر آسمانی شعور میں داخل ہوجاتا ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے

 کہ وہ اطلاع میں معنی پہنانے کا اختیار رکھتا ہے -

 اس لئے اسے شعوری ارتقاء کی بناء  پر فرشتوں پر بھی فضیلت حاصل ہے - آدم کی اسی علمی

 حیثیت کی بناء پر فرشتوں سے آدم کو سجدہ کروایا گیا تھا -     BMMK




No comments:

Post a Comment