ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
سوالات و جوابات
ابدال حق خانوادہ و سربراہ سلسلہ عظیمیہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب سے روحانی
کلاس کے دوران کیئے گئے سوالات اور حضرت عظیمی صاحب کے عطا کردہ جوابات پیش
خدمت ہیں -
سوال : ایک بات کہی جاتی ہے ... " ولایت عطا کردی ... " اس کا کیا مطلب ہے ؟
جواب : عظیمی صاحب نے فرمایا ... " سند کہہ سکتے ہیں آپ ، سند - سند عطا کردی جیسے میٹرک
، بی اے ، ایم اے کی وغیرہ وغیرہ - ولایت کا مطلب یہ ہے کہ لاشعور کس حد تک اس علم
کو سمجھنے کے قابل ہوگیا کہ اس کو شعور نے بھی قبول کرلیا - لاشعور اس حد تک کسی چیز کو
سمجھنے کے قابل ہوگیا کہ اس کی جو سمجھ بوجھ ہے ، فہم ہے ، تفہیم ہے اس کو شعور نے
بھی قبول کرلیا - ولایت کا مطلب استعداد -
روحانیت کے دو شعبے ہیں - ایک شعبہ کا نام ارشاد ہے اور ایک شعبہ کا نام تکوین ہے -
ارشاد ... رشد و ہدایت سے ماخوذ ہے یعنی لوگوں کو ان اچھی باتوں کا علم ہوجائے جن کو
اللّٰہ تعالیٰ نے اچھا قرار دیا ہے اور لوگوں کو ان بری باتوں کا علم ہوجائے جن کو اللّٰہ تعالیٰ نے
برا فرمایا ہے اور ناپسند فرمایا ہے -
ولایت بھی دو قسم کی ہوگئیں - ایک ولایت تکوین کی ہوگئی اور ایک ولایت ارشاد کی ہوگئی -
ارشاد کی ولایت میں قطب ... سب سے بڑا عہدہ شمار ہوتا ہے جس کو قطب ارشاد کہتے ہیں -
اسی طرح ایڈمنسٹریشن اور تکوین میں بھی اسٹیجز ہیں - اس کو بھی ولایت ہی کہتے ہیں - اس کو
بھی صاحب ولایت کہتے ہیں جیسے آپ نے غوث ، قطب ، ابدال وغیرہ نام سنے ہیں -
مزید فرمایا ... ایک آدمی لاء law پڑھتا ہے ، ایک آدمی ادب پڑھتا ہے ، ایک آدمی تاریخ پڑھتا
ہے ، ایک آدمی سائنس پڑھتا ہے ... اب یہ الگ الگ شعبے ہیں -
ولایت کے بھی بے شمار شعبے ہیں - اس کا مفہوم ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ... سند ... فضیلت ...
علم کی فضیلت - کسی ایک شعبہ میں فضیلت - ولایت کا مطلب ہے کسی ایک شعبہ میں تکمیل ،
کسی ایک شعبہ میں مہارت ، کسی ایک شعبہ کی تعلیم .... "
سوال : روحانیت کا علم نسبت اویسیہ سے بھی منتقل ہوتا ہے یعنی مرشد کریم کی موجودگی زیر
بحث نہیں آتی جب کہ مرشد سامنے ہوں تو ان کے ذہن سے بھی منتقل ہوتا ہے - ان دونوں
طرزوں میں کیا فرق ہے ؟
جواب : عظیمی صاحب نے فرمایا ..." دیکھیں نا ... آپ میرے سامنے کھڑے ہوئے ہیں ، آپ
مجھ سے بات کر رہے ہیں ... اب آپ مر گئے ، اب آپ کی روح جو ہے وہ میرے سامنے آکر
بات کرتی ہے تو اس میں کیا فرق ہوا ؟ فرق ہوا -
روح کو ہر آدمی نہیں دیکھ سکتا - آپ کو ہر آدمی ہر وقت دیکھ سکتا ہے - روح کو ہر آدمی ہر وقت
نہیں دیکھ سکتا تو اس کا مطلب یہ کہ روح کو دیکھنے کی صلاحیت ... یہ الگ ہوگئی - استعداد بڑھ
گئی - علم کی جو استعداد ہے اس میں اضافہ ہوگیا -
اب یہاں اس وقت ایک روح آجائے کسی کی ... کیا ہوگا ؟ روح آکر کھڑی ہوجائے یہاں ...
کیا ہوگا ؟ اگر آپ دیکھ لیں تو ڈر جائیں گے - استعداد ہوتی ہے - آہستہ آہستہ شعور کے اندر
اتنی استعداد پیدا کی جاتی ہے کہ روح کو دیکھ کر آدمی کا شعور مغلوب نہ ہو ... آدمی کا شعور ماؤف
نہ ہو ... آدمی کا شعور اپنی جگہ قائم رہے -
ابھی ہم سب یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک روح آکر نکلتی ہوئی چلی جائے ... میرا خیال ہے
آدھے لوگ تو بے ہوش ہوجائیں گے - کیوں ؟ استعداد نہیں ہے روح کو دیکھنے کی حالانکہ سب
جانتے ہیں کہ روح ہی اصل چیز ہے لیکن جب تک روح کو آپ دیکھیں گے نہیں اس وقت تک
آپ روح کی صلاحیتوں سے بھی واقف نہیں ہوں گے اور روح سے ڈر اور خوف بھی آپ کو
آئے گا - ...."
سوال : عالم استغراق سے کیا مراد ہے ؟
جواب : حضرت عظیمی صاحب نے فرمایا .... " استغراق ... غرق سے نکلا ہے - کسی چیز میں
غرق ہوجانا ، ڈوب جانا ، بے خبر ہوجانا - شعور اتنا مغلوب ہوجانا کہ آس پاس جو چیزیں ہیں
ان کا علم نہ رہنا اور کئی دفعہ احساس نہ ہونا -
مثلاً ایک بار قلندر بابا اولیاءؒ نے مجھ سے فرمایا ... خواجہ صاحب ! ذرا دیکھنا یہ کھٹمل ہے مجھے
بڑا پریشان کر رہا ہے اس کو ذرا نکال دیں - میں نے کرتہ اٹھا کر جب کمر کی طرف دیکھا تو اتنی
بڑی چھپکلی ... وہ پھر رہی تھی - استغراق کے عالم میں وہ اس چھپکلی کو کھٹمل سمجھتے رہے -
شوری حواس اتنے زیادہ مغلوب ہوگئے کہ کسی چیز کو محسوس تو کر رہے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی
ہوتا ہے کہ محسوس نہیں کیا جاتا -
استغراق کا مطلب ہے شعور کا مغلوب ہوجانا اور لاشعوری کیفیات کا غالب آجانا -
سوال : نجیب الطرفین ہونے سے کیا مراد ہے ؟
جواب : الشیخ عظیمی صاحب نے فرمایا ... نجیب الطرفین اسے کہتے ہیں جس کے ماں اور
باپ کا شجرہ ایک ہو - ماں بھی سید ہو اور باپ بھی سید ہو اس کو نجیب الطرفین کہیں گے -
ماں باپ دونوں اعلیٰ صلاحیت اور اعلیٰ تربیت سے آراستہ ہوں اور پیچھے شجرہ جو ہے وہ اعلیٰ
لوگوں کے تناسب سے چلتا آرہاہو ... اس کو نجیب الطرفین کہتے ہیں یعنی ماں باپ دونوں کی
طرف سے اچھا خاندان ہو -
سوال : اللّٰہ کا دوست بننے کے لئے خوف و غم کی کیفیت سے کس طرح نجات پائیں ؟
جواب : جتنا تعلق آپ کو اللّٰہ سے ... اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم سے اور مرشد سے
ہوجائے گا - یہ سیڑھیاں ہیں تین - مرشد ہے ... سیدنا حضورعلیہ الصلوٰة والسلام ہیں ...
اللّٰہ میاں ہیں -
جب تک کہ آپ پہلی سیڑھی نہیں چڑھیں گے دوسری سیڑھی نہیں چڑھ سکتے - یہ اسٹیجز ہیں
بھئی محض باتوں سے نہیں ہوتا ... تربیتی پروگرام ہوتا ہے - اس میں بہت عرصہ لگ جاتا ہے -
کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر کے مطابق اگر کسی بندہ کی تربیت ہوجائے ... اس کے لئے پچاس
سال چاہیئیں ... پچاس سال -
ابھی آپ یہ ایک گھنٹہ پڑھتے ہیں ... یہ کوئی پڑھائی ہے بس ٹھیک ہے معلومات میں اضافہ ہے ...
اللّٰہ کا ... رسول صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم کا نام لیا جارہا ہے کچھ نہ کچھ صلاحیت بڑھ رہی ہے .... "
سوال : فنا فی الشیخ سے کیا مراد ہے ؟
جواب : عظیمی صاحب نے فرمایا .... " فنا فی الشیخ سے یہ مراد ہے کہ شیخ کا ذہن منتقل ہوجائے
مرید میں - جس طرح شیخ سوچ رہا ہے مرید بھی اسی طرح سوچے جو طرز فکر شیخ کی ہے وہ مرید
کی بن جائے مثلاً شیخ کو غصہ نہیں آتا تو مرید کو بھی غصہ نہیں آئے گا ... شیخ کم سوتا ہے تو مرید
بھی کم سوئے گا ... شیخ اللّٰہ کی ذات پر یقین رکھتا ہے ، مرید بھی یقین رکھے گا -
اس کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی سے آپ اے بی سی ڈی A B C D پڑھتے ہیں ، کیوں پڑھتے
ہیں آپ ؟ اس لئے پڑھتے ہیں کہ آپ یہ بات جانتے ہوں نہ جانتے ہوں لیکن آپ کا لاشعور اس
بات کو جانتا ہے کہ میرا استاد اے بی سی ڈی جانتا ہے -
جب تک آپ استاد کو فالو follow نہیں کریں گے آپ اے بی سی ڈی نہیں پڑھیں گے -
اسی طرح جب تک کوئی آدمی شیخ کو فالو follow نہیں کرے گا وہ روحانی نہیں ہوسکتا -
اگر شیخ کی کہی ہوئی بات کو آپ نہ مانیں ... اندھے بن کر ، بہرے بن کر ، بے عقل بن کر تسلیم
نہ کریں تو آپ شیخ کا علم حاصل نہیں کرسکتے -
بچے اگر عقل استعمال کرنے لگیں کہ جی الف ... الف کیوں اور ب کیوں تو کیا وہ پڑھ سکیں
گے - بات ایک ہی ہے دنیاوی علوم میں اور دینی علوم میں - فالو follow کرنا پڑتا ہے ...
یقین کرنا پڑتا ہے ... سمجھ عقل کچھ نہیں ہے ... عقل تو بعد کی بات ہے - .... "
سوال : قلندر بابا اولیاءؒ صابن استعمال نہیں کرتے تھے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : عظیمی صاحب نے فرمایا .... "وہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ اس میں چربی شامل کرتے
ہیں ... احتیاط - پاکیزگی کے خلاف سمجھتے تھے صابن کا استعمال کرنا چربی کی وجہ سے پھر مردہ
جانور کی بھی چربی ہوسکتی ہے -
ذبیحہ کی بھی چربی ہوتی ہے لیکن جو جانور مرجاتے ہیں ان کی جو چربی نکلتی ہے اس کو پھینکتے تو
نہیں ہیں - بس ایک احتیاط تھی اور کچھ نہیں ... یہ کوئی مسئلہ کی بات نہیں ہے - .... "
سوال : علم لدنی کی تعلیم کے دوران اور اس کے بعد بھی قلندر بابا اولیاء ... ڈھائی تین گھنٹے
سے زیادہ کبھی نہیں سوئے - غذا کے معاملے میں بہت محتاط تھے ، چوبیس گھنٹے میں زیادہ سے
زیادہ دو چپاتی اور کبھی ایک چپاتی تناول فرمایا کرتے -
ازراہ کرم اس کی روحانی توجیہہ بیان فرما دیں ؟
جواب : عظیمی صاحب نے فرمایا .... " اب بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم کھاتے ہیں - اب
بھی ایسے لوگ مل جائیں گے جو صبح شام میں دو چپاتیاں کھاتے ہیں اور خوب چلتے پھرتے ہیں
- احتیاط -
دوسری بات یہ کہ تصوف کے اصول ہیں ... کم سونا ، کم کھانا ، کم بولنا - جتنا آپ زیادہ کھائیں
گے جسم فربہ ہوجائے گا - جتنا جسم فربہ ہوجائے گا اسی مناسبت سے آپ کے ہر جگہ چربی
غالب آجائے گی - شعور موٹا اور بھاری ہوجائے گا -
آپ دیکھیں نا .... آپ روزہ رکھتے ہیں ، روزہ میں آپ کی کیفیات اچھی کیوں ہوجاتی ہیں -
کم سوتے ہیں ، کم بولتے ہیں آپ کو ہلکا پن محسوس ہوتا ہے - صحت بھی اچھی ہوجاتی ہے اور
روحانیت کی طرف میلان بھی ہوجاتا ہے -.... "