Saturday, August 29, 2026

سوالات و جوابات



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


سوالات و جوابات 


 ابدال حق خانوادہ و سربراہ سلسلہ عظیمیہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب سے روحانی

 کلاس کے دوران کیئے گئے سوالات اور حضرت عظیمی صاحب کے عطا کردہ جوابات     پیش

 خدمت ہیں -


سوال  :   ایک بات کہی جاتی ہے  ... " ولایت عطا کردی ... " اس کا  کیا مطلب ہے  ؟ 

جواب  :  عظیمی صاحب نے فرمایا  ... "   سند کہہ سکتے ہیں آپ  ،  سند  -  سند عطا کردی  جیسے میٹرک

 ،  بی اے  ،  ایم اے  کی وغیرہ وغیرہ  - ولایت کا مطلب یہ ہے کہ لاشعور کس حد تک اس علم

 کو سمجھنے کے قابل ہوگیا کہ اس کو شعور نے بھی قبول کرلیا - لاشعور اس حد تک کسی چیز کو

 سمجھنے کے قابل ہوگیا کہ اس کی جو سمجھ بوجھ ہے  ،  فہم ہے  ،  تفہیم ہے اس کو شعور نے

 بھی قبول کرلیا - ولایت کا مطلب استعداد  - 

روحانیت کے دو شعبے ہیں  - ایک شعبہ کا نام ارشاد ہے اور ایک شعبہ کا نام تکوین ہے - 

ارشاد  ... رشد و ہدایت سے ماخوذ  ہے یعنی لوگوں کو ان اچھی باتوں کا علم ہوجائے جن کو

 اللّٰہ تعالیٰ نے اچھا قرار دیا ہے اور لوگوں کو ان بری باتوں کا علم ہوجائے جن کو اللّٰہ تعالیٰ نے

 برا فرمایا ہے اور ناپسند فرمایا ہے - 

ولایت بھی دو قسم کی ہوگئیں - ایک ولایت تکوین کی ہوگئی اور ایک ولایت ارشاد کی ہوگئی -

 ارشاد کی ولایت  میں قطب  ... سب سے بڑا عہدہ شمار ہوتا ہے جس کو قطب ارشاد کہتے ہیں -

 اسی طرح ایڈمنسٹریشن اور تکوین میں بھی اسٹیجز  ہیں - اس کو بھی ولایت ہی کہتے ہیں - اس کو

 بھی صاحب ولایت کہتے ہیں  جیسے آپ نے غوث  ، قطب  ، ابدال وغیرہ نام سنے ہیں - 

مزید فرمایا  ...  ایک آدمی لاء  law   پڑھتا ہے  ، ایک آدمی ادب پڑھتا ہے  ،  ایک آدمی تاریخ پڑھتا

 ہے  ، ایک آدمی سائنس پڑھتا ہے  ... اب یہ الگ الگ شعبے ہیں  -

 ولایت کے بھی بے شمار شعبے ہیں - اس کا مفہوم ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ  ... سند  ...  فضیلت  ... 

 علم کی فضیلت - کسی ایک شعبہ میں فضیلت - ولایت کا مطلب ہے  کسی ایک شعبہ میں تکمیل  ، 

 کسی ایک شعبہ میں مہارت  ، کسی ایک شعبہ کی تعلیم   .... "


سوال  :  روحانیت کا علم نسبت اویسیہ سے بھی منتقل ہوتا ہے یعنی مرشد کریم کی موجودگی زیر

 بحث نہیں آتی جب کہ مرشد سامنے ہوں تو ان کے ذہن سے بھی منتقل ہوتا ہے  -  ان دونوں

 طرزوں میں کیا فرق ہے  ؟  

جواب  :  عظیمی صاحب نے فرمایا  ..." دیکھیں نا  ... آپ میرے سامنے کھڑے ہوئے ہیں  ،  آپ

 مجھ سے بات کر رہے ہیں  ... اب آپ مر گئے  ،  اب آپ کی روح جو ہے وہ میرے سامنے آکر

 بات کرتی ہے تو اس میں کیا فرق ہوا  ؟  فرق ہوا  -

 روح کو ہر آدمی نہیں دیکھ سکتا - آپ کو ہر آدمی ہر وقت دیکھ سکتا ہے  -  روح کو ہر  آدمی ہر وقت

 نہیں دیکھ سکتا تو اس کا مطلب یہ کہ روح کو دیکھنے کی صلاحیت  ... یہ الگ ہوگئی - استعداد بڑھ

 گئی  - علم کی جو استعداد ہے اس میں اضافہ ہوگیا -

 اب یہاں اس وقت ایک روح آجائے کسی کی  ... کیا ہوگا  ؟  روح آکر کھڑی ہوجائے یہاں  ...

 کیا ہوگا  ؟   اگر آپ دیکھ لیں تو ڈر جائیں گے  - استعداد ہوتی ہے  - آہستہ آہستہ شعور کے اندر

 اتنی استعداد   پیدا کی جاتی ہے کہ روح کو دیکھ کر آدمی کا شعور  مغلوب نہ ہو  ... آدمی کا شعور ماؤف

 نہ ہو  ... آدمی کا شعور اپنی جگہ قائم رہے -

 ابھی ہم سب یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک روح آکر نکلتی ہوئی چلی جائے  ... میرا خیال ہے

 آدھے لوگ تو بے ہوش ہوجائیں گے  - کیوں  ؟  استعداد نہیں ہے روح کو دیکھنے کی حالانکہ سب

 جانتے ہیں کہ روح ہی اصل چیز ہے لیکن جب تک روح کو آپ دیکھیں گے نہیں اس وقت تک

 آپ روح کی صلاحیتوں سے بھی واقف نہیں ہوں گے اور روح سے ڈر اور خوف بھی آپ کو

 آئے گا - ...."


سوال  :  عالم استغراق سے  کیا مراد ہے  ؟ 

جواب  :  حضرت عظیمی صاحب نے فرمایا    .... "   استغراق  ... غرق سے نکلا ہے - کسی چیز میں

 غرق ہوجانا  ، ڈوب جانا  ، بے خبر ہوجانا - شعور اتنا مغلوب ہوجانا کہ آس پاس جو چیزیں ہیں

 ان کا علم نہ رہنا اور کئی دفعہ احساس نہ ہونا -

 مثلاً ایک بار  قلندر بابا اولیاءؒ نے مجھ سے فرمایا  ... خواجہ صاحب ! ذرا دیکھنا یہ کھٹمل ہے مجھے

 بڑا پریشان کر رہا ہے اس کو ذرا نکال دیں - میں نے  کرتہ اٹھا کر جب کمر کی طرف دیکھا تو اتنی

 بڑی چھپکلی  ... وہ پھر رہی تھی - استغراق کے عالم میں وہ اس چھپکلی کو کھٹمل سمجھتے رہے -

 شوری حواس اتنے زیادہ مغلوب ہوگئے کہ کسی چیز کو محسوس تو کر رہے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی

 ہوتا ہے کہ محسوس نہیں کیا جاتا - 

استغراق کا مطلب ہے شعور کا مغلوب ہوجانا اور لاشعوری کیفیات کا غالب آجانا - 


سوال  :  نجیب الطرفین ہونے سے کیا مراد ہے  ؟ 

جواب  :    الشیخ عظیمی صاحب نے فرمایا  ...    نجیب الطرفین اسے کہتے ہیں جس کے ماں اور

 باپ کا شجرہ ایک ہو - ماں بھی سید ہو اور باپ بھی سید ہو اس کو نجیب الطرفین کہیں گے -

 ماں باپ دونوں اعلیٰ  صلاحیت اور اعلیٰ تربیت سے آراستہ ہوں اور پیچھے شجرہ جو ہے وہ اعلیٰ

  لوگوں کے تناسب سے چلتا آرہاہو  ... اس کو نجیب الطرفین کہتے ہیں  یعنی ماں باپ دونوں کی

 طرف سے اچھا خاندان ہو -


سوال  :  اللّٰہ کا دوست بننے کے لئے خوف و غم کی کیفیت سے کس طرح نجات پائیں  ؟ 

جواب  :  جتنا تعلق آپ کو اللّٰہ سے  ... اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم  سے اور مرشد سے

 ہوجائے گا -  یہ سیڑھیاں  ہیں  تین -    مرشد ہے  ...   سیدنا  حضورعلیہ الصلوٰة والسلام  ہیں  ...

 اللّٰہ میاں ہیں -

 جب تک کہ آپ پہلی سیڑھی نہیں چڑھیں گے دوسری سیڑھی نہیں چڑھ سکتے - یہ اسٹیجز   ہیں

 بھئی محض باتوں سے نہیں ہوتا  ... تربیتی پروگرام ہوتا ہے - اس میں بہت عرصہ لگ جاتا ہے -

 کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر کے مطابق اگر کسی بندہ کی تربیت ہوجائے  ... اس کے لئے پچاس

 سال چاہیئیں ...  پچاس سال  -

  ابھی آپ یہ ایک گھنٹہ پڑھتے ہیں ...  یہ کوئی پڑھائی ہے بس ٹھیک ہے  معلومات میں اضافہ ہے ...

   اللّٰہ کا  ... رسول صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم کا نام لیا جارہا ہے کچھ نہ کچھ صلاحیت بڑھ رہی ہے  .... "


سوال  :  فنا فی الشیخ  سے کیا مراد ہے  ؟ 

جواب  : عظیمی صاحب نے فرمایا  .... "  فنا فی الشیخ سے یہ مراد ہے کہ شیخ کا ذہن منتقل ہوجائے

 مرید میں - جس طرح شیخ سوچ رہا ہے مرید بھی اسی طرح سوچے جو طرز فکر شیخ کی ہے وہ مرید

 کی بن جائے   مثلاً شیخ کو غصہ نہیں آتا تو مرید کو بھی غصہ نہیں آئے گا  ... شیخ کم سوتا ہے تو مرید

 بھی کم سوئے گا  ... شیخ اللّٰہ کی ذات پر یقین رکھتا ہے  ، مرید بھی یقین رکھے گا - 

اس کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی سے آپ اے بی سی ڈی    A B C D   پڑھتے ہیں  ،  کیوں پڑھتے

 ہیں آپ  ؟  اس لئے پڑھتے ہیں کہ آپ یہ بات جانتے ہوں نہ جانتے ہوں لیکن آپ کا لاشعور اس

 بات کو جانتا ہے کہ میرا استاد اے بی سی ڈی جانتا ہے -

 جب تک آپ استاد کو فالو follow  نہیں کریں گے آپ اے بی سی ڈی نہیں پڑھیں گے -

 اسی طرح جب تک کوئی آدمی شیخ کو فالو follow  نہیں کرے گا وہ روحانی نہیں ہوسکتا - 

اگر شیخ کی کہی ہوئی بات کو آپ نہ مانیں  ... اندھے بن کر  ،  بہرے بن کر  ،  بے عقل بن کر  تسلیم

 نہ کریں تو آپ شیخ کا علم حاصل نہیں کرسکتے -

 بچے اگر عقل استعمال کرنے لگیں کہ جی الف  ... الف کیوں اور ب کیوں تو کیا وہ پڑھ سکیں

 گے - بات ایک ہی ہے دنیاوی علوم میں اور دینی علوم میں - فالو follow  کرنا پڑتا ہے  ...

 یقین کرنا پڑتا ہے  ... سمجھ عقل کچھ نہیں ہے  ... عقل تو بعد کی بات ہے -  .... "


سوال  :  قلندر بابا اولیاءؒ صابن استعمال نہیں کرتے تھے  ، اس کی کیا وجہ ہے  ؟ 

جواب  :  عظیمی صاحب نے فرمایا .... "وہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ اس میں چربی شامل کرتے

 ہیں  ... احتیاط - پاکیزگی کے خلاف سمجھتے تھے صابن کا استعمال کرنا  چربی کی وجہ سے پھر مردہ

 جانور کی بھی چربی ہوسکتی ہے -

 ذبیحہ کی بھی چربی ہوتی ہے لیکن جو جانور مرجاتے ہیں ان کی جو چربی نکلتی ہے اس کو پھینکتے تو

 نہیں ہیں - بس ایک احتیاط تھی اور کچھ نہیں  ... یہ کوئی مسئلہ  کی بات نہیں ہے - .... "


سوال  :      علم لدنی  کی تعلیم کے دوران اور اس کے بعد بھی قلندر بابا اولیاء  ... ڈھائی تین گھنٹے

 سے زیادہ کبھی نہیں سوئے - غذا کے معاملے میں بہت محتاط تھے  ، چوبیس گھنٹے میں زیادہ سے

 زیادہ دو چپاتی اور کبھی ایک چپاتی تناول فرمایا کرتے -

 ازراہ کرم اس کی روحانی توجیہہ   بیان فرما دیں  ؟ 

جواب  :       عظیمی صاحب نے فرمایا   .... "  اب بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم کھاتے ہیں  - اب

 بھی ایسے لوگ مل جائیں گے جو صبح شام میں دو چپاتیاں کھاتے ہیں اور خوب چلتے پھرتے ہیں

 - احتیاط  -

 دوسری بات یہ کہ تصوف کے اصول ہیں  ... کم سونا  ،  کم کھانا  ، کم بولنا  - جتنا آپ زیادہ کھائیں

 گے جسم فربہ ہوجائے گا - جتنا جسم فربہ ہوجائے گا اسی مناسبت سے آپ کے ہر جگہ چربی

 غالب آجائے گی - شعور موٹا اور بھاری ہوجائے گا -

 آپ دیکھیں نا  .... آپ روزہ رکھتے ہیں  ،  روزہ میں آپ کی کیفیات اچھی کیوں ہوجاتی ہیں -

 کم سوتے ہیں  ،  کم بولتے ہیں  آپ کو ہلکا پن محسوس ہوتا ہے - صحت بھی اچھی ہوجاتی ہے اور

 روحانیت کی طرف میلان بھی ہوجاتا ہے -.... " 





 

Thursday, August 27, 2026

دانہ



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 دانہ  


 ایک مرتبہ حضرت عظیمی صاحب نے ارشاد فرمایا  ... کسان کھیت میں  دانہ ڈالتا ہے - وہ دانہ مٹی

 ہوجاتا ہے تو ایک نیا پودا نکلتا ہے - اب اس پودے پر جو دانے لگتے ہیں  ... آپ ان کو شمار

 کرکے دیکھیں - گندم کی بالیں  ،  چاول کے دانے یا بیری کے  بیر  گن کر  دیکھیں - اللّٰہ ایک دانہ

 مٹی میں پھینکنے کے عمل کو کتنا بڑھا دیتا ہے - 

ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا  ... کیا دانے کو مٹی میں پھینکے کے عمل کو استغناء کہہ سکتے ہیں  ؟ 

فرمایا ... جی نہیں  ،  یہ توکل ہوا - آپ نے دانہ مٹی میں اس بھروسے پر پھینکا کہ اللّٰہ اس میں اضافہ

 کرکے لوٹائے گا - 

عرض  کیا ... پھر توکل اور استغناء میں کیا فرق ہے  ؟ 

فرمایا ... توکل  یہ ہے کہ اللّٰہ نے چاہا تو کردے گا اور استغناء  ... استغناء یہ ہے کہ اللّٰہ چاہے کرے

 چاہے نہ کرے -  ASAMKH 




Wednesday, August 26, 2026

رات کے حواس



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 رات کے حواس


    ایک موقع پر عظیمی صاحب نے سہہ  پہر  کے وقت گھروں سے باہر نکلنے کی خواہش کا تذکرہ کرتے

 ہوئے بتایا  ... آپ دیکھیں کہ اس وقت گھروں اور کمروں میں دم گھٹنے لگتا ہے - کمرے میں ہوں

 تو باہر صحن میں نکلنے کو جی چاہتا ہے - گھر میں ہوں تو  گھر سے باہر جانا اچھا لگتا ہے -

 آپ دیکھیں اس وقت لوگ گلیوں اور بازاروں میں نکل آتے ہیں - پھر اس کی  وضاحت

 کرتے ہوئے فرمایا  ... دراصل اس وقت شعور  ... لاشعور میں ڈھلتا ہے اور انسان کو گھبراہٹ

 ہوتی ہے - دن کے حواس  ... رات کے حواس میں ڈھل رہے ہوتے ہیں تو انسان ہی کیا

 پرندے  ،  جانور  اور کیڑے مکوڑے تک اس تبدیلی کی زد میں ہوتے ہیں  ،  وہ بھی باہر نکلتے ہیں -        ASAMKH 




Tuesday, August 25, 2026

آواگون



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 آواگون 


 ایک مرتبہ عظیمی صاحب نے اپنے دورۂ انگلینڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ   ...

  انگلینڈ میں ایک صاحب ملنے آئے ،  وہ آواگون پر ریسرچ کر رہے تھے - انہوں نے آواگون  ...

  Reincarnation  کے ڈھائی ہزار  ...  2500  کیس اسٹڈی کئے تھے -

 ان سے مترجم کے ذریعے کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک بات چیت رہی -  وہ صاحب اس نظریے کے

 بارے میں عظیمی صاحب کا نکتہ نظر جاننا چاہتے تھے -

فرمایا ... میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے جو کیس د  یکھے  ہیں ... ان میں کس عمر کے لوگ

 دوبارہ جنم کا دعویٰ کرتے ہیں ؟  

 انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال کی عمر تک کے بچے اور یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بعض کیسوں میں ان

 کے جسموں پر وہی نشان تک       د  یکھے ہیں جو مرے ہوئے آدمی کے جسم پر ہوا کرتے تھے اور

 انہیں یہ دعویٰ ہوتا تھا کہ وہ اسی مرے ہوئے آدمی کا دوسرا جنم ہیں - 

اس پر میں نے ان سے  کہا کہ ...  اس سے بات اور بھی صاف ہوگئی - دیکھیں انسان کا اس دنیا

 میں آنا آدم کا ریکارڈ ہے - یہ وہ ریکارڈ ہے جو انسانی لاشعور کو فیڈ ہوتا ہے اور انسانی لاشعور کی

 مشین اس ریکارڈ کو ایک پرنٹنگ مشین کی طرح چھاپ رہی ہے -

 جب ایک انسان کا ریکارڈ کسی دوسرے انسان کے ریکارڈ سے مکس ہوجاتا ہے تو اس قسم کے

 مظاہرے سامنے آتے ہیں جس قسم کے آپ نے اپنے کیسوں میں اسٹڈی کیئے ہیں اور یہی وجہ

 ہے کہ دنیا میں دوبارہ آنے کا دعویٰ کرنے والا بچہ آٹھ سال کی عمر کے بعد  ... جب اس کا دنیاوی

 شعور توانا ہونا شروع ہوجاتا ہے تو وہ اس دعویٰ سے دستبردار ہوجاتا ہے -

اس پر جب ان صاحب نے جسمانی نشانات کے حوالے سے اپنی بات پر اصرار کیا تو میں نے

 ان سے کہا کہ یہ نشانات ہی تو میری بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پہلے ایک شخص کا ریکارڈ بنا 

 جب لاشعور کی مشین پر دوسرا شخص چھپ رہا تھا تو اس وقت سابقہ ریکارڈ کا عکس اس پر پڑا اور

 وہ نشانات جو پہلے والے ریکارڈ میں موجود تھے اس پر بھی چھپ گئے -

عظیمی صاحب نے  ... آواگون پر تحقیق کرنے والے صاحب کے بارے میں تبصرہ بھی کیا کہ  ...

 وہ صاحب مانتے تھے کہ آپ کی بات میں وزن ہے  ... میں اس پر سوچوں گا لیکن میں ان ڈھائی

 ہزار کیسسز  کا کیا کروں جو میں خود تلاش کرکے دیکھ چکا ہوں - اصل میں ان کا ذہن اس نتیجے سے

 ہٹنے پر تیار نہیں تھا جو انہوں نے اتنی محنت اور ریسرچ کے بعد اخذ کرلیا تھا -  ASAMKH 




Monday, August 24, 2026

قانون



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 قانون


    سربراہ سلسلہ عظیمیہ ابدال حق حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے ایک مرتبہ ارشاد

 فرمایا  ... اللّٰہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ایسا بنایا ہے کہ ایک آدمی جگہ خالی کرتا ہے تو اس کی جگہ چالیس

 آدمی  ... اس جگہ کو پر کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں - اب یہ ایک الگ بات ہے کہ اس کی جگہ

  پہلے سے بہتر آدمی آتا ہے یا نہیں  ... یہ قانون ہے -  ASAMKH   




Sunday, August 23, 2026

اللہ سے ملاقات



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 اللّٰہ سے ملاقات 


  ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں  ... ایک مرتبہ عظیمی صاحب نے اپنے مرشد کریم ...

 حضور قلندر بابا اولیاءؒ کا ایک واقعہ سنایا کہ  ... قلندر بابا اولیاء  ... رات بھر جاگتے اور تکوینی

 کاموں میں مصروف رہتے - صبح اذان کے بعد میں ان کو چائے   پیش کیا کرتا -

 ایک بار جب میں چائے لے کر حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضور بابا صاحب کے چہرے سے مسرت

 پھوٹی  پڑ  رہی ہے - میں نے عرض کی  ... حضور !  آج آپ بہت خوش ہیں  -

  فرمایا  ... خواجہ صاحب ! آپ سمجھیں گے بھی یا نہیں  ... رات اللّٰہ سے ملاقات ہوئی مجھے گلے

 لگا کر کہا کہ  ... میری جان تو کہاں ہے - 

ڈاکٹر  صاحب نے سوال کیا  ... حضور قلندر بابا اولیاء نے یہ کیوں فرمایا کہ آپ سمجھیں گے بھی یا

 نہیں  - جواب میں ارشاد ہوا  ... بھئی یہ الہامی انداز کلام ہے - اللّٰہ تعالیٰ نے کئی بار قرآن میں

 فرمایا ہے  ... ومٰٓا ادرٰکَ  ... کسی بات کو سمجھانے اور متوجہ کرنے کے لئے ہی تو کہا جاتا ہے کہ

  ... تم کیا سمجھے  ،  تم سمجھو گے نہیں -

دوسرا سوال عرض کیا  ... اور بابا صاحب سے یہ کیوں کہا کہ تو کہاں ہے ؟  یعنی کیا اللّٰہ کو یہ معلوم 

نہ تھا کہ بابا صاحب کہاں ہیں -

 اس پر حضرت عظیمی صاحب نے فرمایا  ... یہ   پیار کا طرز تخاطب ہے - جب آپ کسی عزیز

 دوست سے ملتے ہیں خواہ کچھ ہی دیر   پہلے اس سے مل چکے ہوں  ... آپ کہہ گزرتے ہیں  ... اماں

 یار کہاں ہو تم  ؟   ASAMKH   




Saturday, August 22, 2026

پیار



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 پیار  


 ڈاکٹر  مقصود الحسن عظیمی صاحب اپنے مرشد کریم حضرت عظیمی صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے

 تحریر فرماتے ہیں  ... اس بات کا تذکرہ میرے مراد  ( عظیمی صاحب ) نے کئی بار جلوت و خلوت

 میں فرمایا  کہ ان کو یہ سعادت حاصل رہی کہ ان کے مرشد کریم نے ان کی تربیت کی خاطر چودہ

 پندرہ سال ان کے یہاں قیام کیا - اس بات پر میرے مراد کو بہت ناز ہے -

 حضرت عظیمی صاحب نے   ایک بار محبت و عشق کا تذکرہ فرماتے ہوئے بتایا کہ   پیار بڑھ کر

 محبت میں ڈھلتا ہے  ... محبت  ، عشق بنتی ہے اور پھر عشق  ... عقیدت میں ڈھل جاتا ہے -

 عقیدت کے بعد کی منزل وجدان ہے - امیر خسرو اس کی مثال ہیں -

بات سناتے ہوئے بے ساختگی سے فرمایا  ... میری بات کچھ اور ہے مجھے تو

 حضور قلندر بابا اولیاء نے   پیار کیا -

 اور مجھے عرس کی رات کے خطاب میں کہے ہوئے اپنے مراد کے وہ الفاظ یاد آگئے کہ  ... " آپ کو

 مجھ سے   پیار کا دعویٰ ہے تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ لوہے کو مقناطیس کھینچتا ہے یا مقناطیس لوہے

 کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے - آپ مجھ سے اس لئے  پیار کرتے ہیں اور مجھ میں کشش محسوس

 کرتے ہیں کہ میں آپ سے  پیار کرتا ہوں - آپ مجھے اپنی اولاد کی طرح عزیز ہیں - آپ ہیں ہی

 میری روحانی اولاد اور اس رشتے سے میں آپ سے   پیار کرتا ہوں -  ASAMKH 


جلوت و خلوت  :    جلوت کا مطلب ہے محفل میں یا لوگوں کے درمیان  جبکہ خلوت کا مطلب

 ہے تنہائ میں - 





اثر



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 اثر  


 ایک موقع پر عظیمی صاحب نے فرمایا  ... ربی  ... یہودی علماء کا خطاب ہے اس کا مطلب ہے

 میرا رب - مولوی کا مطلب ہے میرا مولا  ... مولانا کا مطلب ہے ہمارا مولا - عیسائیوں میں فادر

 کا لفظ  ، ہولی فادر Holy Father   یعنی خدا سے منسوب ہے - ہندوؤں میں برہمن  ... برہما یعنی

 خدا سے مشتق ہے - یہ سب سن سن کر آخر کب تک اثر نہیں ہوگا -  ASAMKH




Friday, August 21, 2026

حاضرات ارواح




ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 حاضرات ارواح


   پشاور مراقبہ ہال کے دورہ کے دوران ایک محفل میں  ... " روحوں سے گفتگو  "  نامی کتاب کا

 تذکرہ کیا گیا کہ  ... بابا عبید اللّٰہ درانی نے اس کتاب کا دیباچہ لکھا اور بات روحیں بلانے اور ان

 سے گفتگو کے بارے میں شروع ہوگئی -

نیاز صاحب نے کہا کہ  ... یہ گفتگو در حقیقت روح سے نہیں ہوتی بلکہ بلائی جانے والی روح کا

 ایک آدھ پرت جو یہاں پیچھے رہ جاتا ہے  ... وہ اس قسم کی مجالس میں حاضر ہوکر  ... گلاس ہلا کر یا

 کوئی دوسرا طریقه اظہار اختیار کرکے سوالوں کا جواب دیتا ہے -

 اس پر عظیمی صاحب نے بتایا کہ  ... انہوں نے نیاز صاحب اور کرنل منظور بخشی صاحب کو

 اس کا طریقه بتایا تھا کہ کس طرح لوٹا گھما کر روحوں سے گفتگو کی جاتی ہے -

 فرمایا  ... میں تو خیر سو گیا تھا یہ دیر تک لگے رہے تھے -   ASAMKH




Thursday, August 20, 2026

بابا عبید الله درانیؒ




ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 بابا عبید اللّٰہ درانیؒ   


دورہ  پشاور کے دوران عظیمی صاحب کے ایک مرید نے ... ان سے سوال کیا کہ ... تذکرہ قلندر بابا

 اولیاءؒ  ... میں صاحب مجاز افراد کے ضمن میں عبید اللّٰہ صاحب کا جو ذکر کیا گیا ہے ... کیا وہ یہ 

پشاور والے عبید اللّٰہ درانی صاحب ہی تھے  ؟

 فرمایا  ... جی ہاں -

 اس پر مرید نے عرض کی کہ انہوں نے سلسلہ عالیہ کے لئے کیا کیا  ؟ 

 فرمایا  ... قلندر بابا اولیاء نے انہیں تکوین میں لیا تھا - 

ایک دوسری نشست میں فرمایا  ... درانی صاحب تو روحانی باتیں تک نہیں کیا کرتے تھے ... اکثر 

خاموش رہتے تھے - جب کبھی میں ان سے ملنے جاتا تو ان کے مرید خوش ہوتے کہ جب عظیمی

 صاحب آتے ہیں تو ہمارے مرشد ہنستے ہیں -

 وہ بہت  پیار کرتے تھے سلسلے سے - جب بھی کراچی آنا ہوتا  ... چند منٹ کے لئے ہی سہی  ،

  مجھ سے ملنے ضرور آتے - ان کے ایک مرید پطرس اور ایک مائیکل صاحب روحانی آدمی تھے -

قادر  نگر کا انتظام انہی نے سنبھالا ہوا تھا -

 درانی صاحب نے خود  تو اتنا کچھ لکھا بھی نہیں صرف " حیات قادرؒ  " ان کی لکھی ہوئی کتاب

 ہے باقی اگر کچھ لکھوایا بھی تو ولی الدین صاحب سے -  ASAMKH  




Tuesday, August 18, 2026

کاؤنٹر سائن



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 کاؤنٹر سائن  


  پشاور مراقبہ ہال میں نماز فجر اور مراقبہ کے بعد  ... خانوادہ سلسلہ عظیمیہ حضرت عظیمی صاحب نے

 درس میں قرآن حکیم کی آیت  ... ختم اللّٰہ علیٰ قلوبھم  ... کی شرح فرماتے ہوئے بتایا کہ  ... اللّٰہ تعالیٰ

 مہر کردیتے ہیں کا جو مطلب ہم لیتے ہیں وہ یہ ہے کہ  ... اللّٰہ مہر کردیتا ہے - جب اللّٰہ نے مہر کردی

 تو پھر بھلا بندے کا کیا قصور ہوا  ، پھر اس کو عذاب الیم کس بات کا  ؟  

پھر اس کی تفصیل فرماتے ہوئے بتایا کہ قلب کے بعد نفس کی کیفیت ہوتی ہے -قلب میں اللّٰہ کی

 طرف سے موصولہ اطلاعات اور نفس میں بندے کی مرضی اور اختیار کی روشنی میں ان 

 اطلاعات میں معنی پہنانے کا عمل ہوتا ہے -

 جب بندہ کسی برائی کو اختیار کرتا ہے تو ضمیر ... جس کو قلندر بابا اولیاء نے نور باطن فرمایا ہے  ...

 بندے کی رہنمائی کو اسے ٹوکتا اور منع کرتا ہے - کئی بار ایسا ہونے کے بعد جب آدمی اپنی بات

 پر اڑ جاتا ہے اور برائی کو اختیار کرنے کا عہد کرلیتا ہے تو فرشتے یہ بات اللّٰہ تعالیٰ کے حضور پیش

 کردیتے ہیں -

اس پر اللّٰہ  ... آدمی کے کئے ہوئے عہد پر کاؤنٹر سائن   counter  sign  کردیتے ہیں -اب اس

 آدمی پر اس کی اختیار کی ہوئی برائی مسلط ہوجاتی ہے - اس کے کانوں اور آنکھوں پر ایسا پردہ

 پڑجاتا ہے کہ وہ ہر بات کو اسی برائی کے حوالے سے سنتا اور دیکھتا ہے -

 اسی برائی کے اختیار کرنے  ... اس پر قائم ہونے اور ضمیر کی ہدایت کو نظر انداز کرنے پر سزا

 ملتی ہے اور یہ یاد رکھیں کہ اللّٰہ کسی کو سزا نہیں دیتا  ... آدمی اللّٰہ کے بنائے ہوئے قوانین کی پکڑ 

میں آجاتے ہیں اور یہی ان کی سزا ہوتی ہے -  ASAMKH   




Sunday, August 16, 2026

علم لدنی




ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 علم لدنی  


پشاور مراقبہ ہال کے دورہ کے مو قع پر  ... ڈاکٹر صاحب نے اپنے  پیر و مرشد حضرت عظیمی صاحب

 سے  ... علم لدنی کے بارے میں کچھ جاننے کی خواہش کا اظہار کیا  ... اس پر عظیمی صاحب نے

 فرمایا  ... علم لدنی کے چھیالیس ابواب ہیں - ہر نبی ان میں سے کچھ ابواب پڑھتا ہے -

 انہی کی بناء پر ان کے درجات کا تعین ہوتا ہے - اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ بعض نبیوں کو بعض پر

 فضیلت دی گئی ہے - تکوین کے بندوں اور پیغمبروں میں اس لحاظ سے تو کوئی فرق نہیں ہوتا کہ

 دونوں ایک ہی کورس پڑھتے ہیں ... فرق صرف تقرر اور چناؤ کا ہوتا ہے -

قرآن میں چھبیس انبیاء کا تذکرہ ہے - ہر نبی کسی نہ کسی ایک باب میں خاص مہارت رکھتے ہیں

 جیسے حضرت یوسفؑ خوابوں کے بارے میں  ... لقمانؑ حکمت کے بارے میں  ... سلیمانؑ  تسخیر 

کے بارے میں -

حضرت یوسفؑ کے بھائی بھی پیغمبر تھے لیکن انہوں نے اس علم کے کم ابواب پڑھے تھے -

 رمل  ،  جفر  ،  فلکیات اور علم سیارگان بھی اسی علم کے ابواب ہیں - خواب چالیسواں باب

 ہے - حضرت موسیٰؑ کے قصے میں جس بندے کا تذکرہ کیا گیا ہے  ... وہ حضرت موسیٰؑ سے زیادہ

 ابواب کی تعلیم حاصل کرچکا تھا اسی لئے حضرت موسیٰؑ اس کے پاس گئے تھے - ASAMKH   



 

Friday, August 14, 2026

عورت -- 2

 


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


عورت 


  ایک مو قع پر ...  ایک صاحب نے  ... عورت کے حضرت  آدم علیہ السلام کی پسلی سے بننے کا

 تذکرہ کیا -

 اس پر حضرت عظیمی صاحب نے فرمایا  ... عورت کے بارے میں یہ یونہی کہا گیا ہے تاکہ عورت

 کی توہین کی جاسکے کیونکہ پسلی ٹیڑھی ہوتی ہے - 

فرمایا  ... در اصل اللّٰہ نے ہر شے دو رخوں پر   پیدا کی ہے - جب آدم اپنے اندر دیکھتا تھا تو اس کو

 اپنا باطنی رخ  " عورت " یعنی چھپا ہوا رخ نظر آتا تھا - حضرت آدم نے اللّٰہ کے دیئے ہوئے

 اختیار سے اس باطنی رخ کو ظاہر کردیا اور یہ رخ عورت کہلایا - اسی طرح عورت میں باطنی رخ

 مرد ہوگیا اور یہی ان دونوں کے درمیان کشش کا سبب ہے -  ASAMKH   




Thursday, August 13, 2026

رفیق اعلیٰ

  


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


رفیق اعلیٰ  


  ڈاکٹر صاحب نے ایک مو قع  پر اپنے مرشد کریم حضرت عظیمی صاحب سے عرض کیا   ...

 رفیق اعلیٰ سے مراد اعلیٰ ترین قسم کی رفاقت  ہوئی  ... اس رفاقت کی بھلا کیا نوعیت ہوگی  ؟

 عظیمی صاحب نے فرمایا  ... جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں  ... جب آپ نے ایک چیز کو دیکھ لیا تو

 وہ ابعاد یعنی  ڈائمنشنز    Dimensions  میں آگئی - اللّٰہ کو قاب قوسین کے مقام یا حالت پر دیکھ

 لینے کے بعد  حضورعلیہ الصلوٰة والسلام اللّٰہ کے اس روپ کے متمنی تھے جو حدود سے ماوراء  

یعنی Dimensionless  تھا -  ASAMKH   





Wednesday, August 12, 2026

روح -- 2




ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 روح   


حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں  ... تمام روحانی سلسلوں کی تعلیمات

 کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان کسی طرح اپنی روح سے واقف ہوجائے اور ایسی نمازیں نہ پڑھے جو

 فویل المصلین کے ضمن میں آتی ہوں اور ہمارے لئے ہلاکت کا سبب بنتی ہوں - ہم کیوں

 وظائف و اذکار کے باوجود مطمئن نہیں  ... کیوں ہمارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوتا -

 خوف و غم سے نجات کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی روح سے واقف ہوں -روح سے

 واقفیت کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر اتر جائیں اور اپنے اندر اترنے کے لئے ہمیں

 مراقبہ کرنا ہوتا ہے -

 مراقبہ کرنے کا مطلب ہے ... بندہ اپنے اندر ڈوب جائے - نماز جسمانی سعادت ہے - اس

 سعادت کے ساتھ ساتھ قلوب میں ایمان داخل ہونا بھی ضروری ہے - ایمان اس لئے

 ضروری ہے کہ جسمانی آنکھ اللّٰہ کو نہیں دیکھ سکتی ... نور اول  ،  باعث تخلیق کائنات

 علیہ الصلوٰة والسلام کو نہیں دیکھ سکتی -

 آپ علیہ الصلوٰة والسلام کو دیکھنے کے لئے ہمیں روحانی آنکھ کا استعمال کرنا آنا لازم ہے - اس

 کے لئے ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ ہم اپنے اندر دیکھیں - اندر دیکھیں گے تو اس روح کو

 دیکھیں گے جس روح نے اللّٰہ کو دیکھا ہوا ہے - 

آپ پانچ ہزار واٹ کا بلب دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کی پریکٹیس چاہیئے - پہلی دفعہ دیکھنے پر

 اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہیں کرسکے تو اس کا یہ مطلب کب ہوا کہ دوسری دفعہ بعد

 میں بھی انہوں نے نہیں دیکھا - نہ دیکھا ہوتا تو وہ اللّٰہ سے ہم کلام کیسے ہوئے  ... توریت کیسے

 نازل ہوئی -   ASAMKH  





Monday, August 10, 2026

سسٹم




ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 سسٹم   


پشاور مراقبہ ہال میں موجود افراد سے خطاب کرتے ہوئے  ... عظیمی صاحب نے اللّٰہ تعالیٰ کے

تخلیقی نظام کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا  ..." آپ نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ بھیڑ سے بکری یا

 زرافہ سے اونٹ   پیدا ہوا ہو یا اس کے برعکس ہو - ایک ماں کی آٹھ اولادیں ہوتی ہیں اور ہر ایک

 دوسرے سے مختلف -

 فرمایا  ... یہ تمام تخلیقی نظام دراصل معین مقداروں کا نظام ہے - ان معین مقداروں ہی کے

 سبب کبھی سیب کے درخت پر آم نہیں لگیں گے اور آم کے درخت پر کوئی دوسرا پھل -

 فرمایا کہ  ... اللّٰہ تعالیٰ کے یہ تخلیقی نظام اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتے جب تک ان کو ایک واحد

 ہستی کنٹرول نہ کر رہی ہو -

 سسٹم کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس میں ٹکراؤ اور الجھاؤ نہ ہو  ... ایک سسٹم دوسرے سسٹم کی

 خدمت سے اس کے ساتھ تعاون سے انکار نہیں کرتا  ... کر ہی نہیں سکتا - اس پورے سسٹم

 میں بے شمار مخلوقات ہیں جو اس سسٹم کے بنانے والے کی محتاج ہیں - 

اس نظام کو بنا کر اللّٰہ نے ایک اور نظام بھی تخلیق کیا یعنی وسائل کی تقسیم کا نظام اور اس

 نظام کو کنٹرول کرنے کا چارج اس ہستی کو دیا جسے رحمت اللعالمین کا خطاب دیا -یعنی ایک

 ایسی ہستی جو وسائل کو اپنی رحمت سے تقسیم کرے -

 اللّٰہ نے حضورعلیہ الصلوٰة والسلام کو اس لئے   پیدا کیا کہ وسائل کی تقسیم کے ساتھ نظام کو

 جاری و ساری رکھا جائے - اگر تقسیم میں رحمت شامل نہ ہو تو بے شمار لوگ محروم رہ جائیں -

 محبت نہ ہو تو سسٹم میں خلل   پیدا ہوجائے -اسی بات پر حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم نے

 فرمایا کہ ... اللّٰہ نے مجھے اپنے نور سے   پیدا فرمایا -

اللّٰہ تعالیٰ تمام عالمین کے رب ہیں  ... ان کو وسائل فراہم کرتے ہیں  ... سیدنا حضورعلیہ الصلوٰة

والسلام ان وسائل کو تقسیم کرتے ہیں - تقسیم کے اس سسٹم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا

  ... میں نے اپنے مرشد  ... قلندر بابا اولیاء سے اس سسٹم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے

  مجھے   بتایا کہ  ... سب سے پہلے نور   پیدا ہوا پھر حرکت   پیدا ہوئی -

 بجلی ہائی ٹینشن تاروں میں چلتی ہے  ... اگر گرڈ اسٹیشن نہ ہوں  ، ٹرانسفارمر نہ ہوں تو سب کچھ

 جل جائے - حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم  ... اللّٰہ تعالیٰ کی تجلیات کی طاقت کو اپنے ذہن پر

 برداشت کرکے اس کو عالمین میں اس طرح پھیلاتے ہیں کہ ہر سسٹم کو اس کی ضرورت کے

 مطابق ان تجلیات کی طاقت مہیا ہوتی رہے -

مقام محمود  ... کائنات اور اللّٰہ کے درمیان ایک پردہ ہے - یہ پردہ  حضورعلیہ الصلوٰة والسلام کی

 ذات اقدس ہے - جب اللّٰہ کن فرماتے ہیں اور تخلیقی لہریں اللّٰہ کے ذہن سے نکل کر مقام محمود

 پر آتی ہیں تو آپ علیہ الصلوٰة والسلام کی رحمت سے ٹھنڈی ہوکر کائنات میں پھیل جاتی ہیں - 

ہم خوش قسمت ہیں کہ حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم کے امتی ہیں - ہم اتنے مقرب بندےؐ کی

 امت ہیں جس سے اللّٰہ نے قربت میں کوئی فاصلہ نہیں رکھا - قاب قوسین کہہ کر خالق اور مخلوق

 کی حد بندی اور رشتے کو الگ الگ کردیا یعنی یوں تو فاصلہ نہیں رہا مگر خالق  ... خالق رہا اور مخلوق

  ... مخلوق رہی - یعنی اللّٰہ نے اپنے بندے سے   پیار کیا  ،  اپنے سینے سے لگایا  ... اس سے راز و

 نیاز کیا پھر کہا  ... یہ کوئی خواب و خیال کی بات نہیں ،  اس نے جو دیکھا سچ دیکھا -..." ASAMKH   





Monday, August 3, 2026

بس کا نمبر




ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 بس کا نمبر 


  ایک بار عظیمی صاحب  ... آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس گئے کہ انہوں نے جو بس پکڑنا ہوتی ہے

 ... اس کا نمبر صاف نظر نہیں آتا - ڈاکٹر نے آنکھیں ٹیسٹ کیں اور مذاق کے طور پر کہا ... آپ

 کی آنکھیں تو ٹھیک ہیں  ، آپ کیا فرشتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں -

 اس پر عظیمی صاحب نے کہا ... وہ تو میں دیکھتا ہی ہوں  ، مجھے تو آپ کی بسوں کے نمبر پڑھنے میں

 نہیں آتے -   ASAMKH