ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
دانہ
ایک مرتبہ حضرت عظیمی صاحب نے ارشاد فرمایا ... کسان کھیت میں دانہ ڈالتا ہے - وہ دانہ مٹی
ہوجاتا ہے تو ایک نیا پودا نکلتا ہے - اب اس پودے پر جو دانے لگتے ہیں ... آپ ان کو شمار
کرکے دیکھیں - گندم کی بالیں ، چاول کے دانے یا بیری کے بیر گن کر دیکھیں - اللّٰہ ایک دانہ
مٹی میں پھینکنے کے عمل کو کتنا بڑھا دیتا ہے -
ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا ... کیا دانے کو مٹی میں پھینکے کے عمل کو استغناء کہہ سکتے ہیں ؟
فرمایا ... جی نہیں ، یہ توکل ہوا - آپ نے دانہ مٹی میں اس بھروسے پر پھینکا کہ اللّٰہ اس میں اضافہ
کرکے لوٹائے گا -
عرض کیا ... پھر توکل اور استغناء میں کیا فرق ہے ؟
فرمایا ... توکل یہ ہے کہ اللّٰہ نے چاہا تو کردے گا اور استغناء ... استغناء یہ ہے کہ اللّٰہ چاہے کرے
چاہے نہ کرے - ASAMKH
No comments:
Post a Comment