ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
روح
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ارشاد فرماتے ہیں ... تمام روحانی سلسلوں کی تعلیمات
کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان کسی طرح اپنی روح سے واقف ہوجائے اور ایسی نمازیں نہ پڑھے جو
فویل المصلین کے ضمن میں آتی ہوں اور ہمارے لئے ہلاکت کا سبب بنتی ہوں - ہم کیوں
وظائف و اذکار کے باوجود مطمئن نہیں ... کیوں ہمارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوتا -
خوف و غم سے نجات کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی روح سے واقف ہوں -روح سے
واقفیت کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر اتر جائیں اور اپنے اندر اترنے کے لئے ہمیں
مراقبہ کرنا ہوتا ہے -
مراقبہ کرنے کا مطلب ہے ... بندہ اپنے اندر ڈوب جائے - نماز جسمانی سعادت ہے - اس
سعادت کے ساتھ ساتھ قلوب میں ایمان داخل ہونا بھی ضروری ہے - ایمان اس لئے
ضروری ہے کہ جسمانی آنکھ اللّٰہ کو نہیں دیکھ سکتی ... نور اول ، باعث تخلیق کائنات
علیہ الصلوٰة والسلام کو نہیں دیکھ سکتی -
آپ علیہ الصلوٰة والسلام کو دیکھنے کے لئے ہمیں روحانی آنکھ کا استعمال کرنا آنا لازم ہے - اس
کے لئے ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ ہم اپنے اندر دیکھیں - اندر دیکھیں گے تو اس روح کو
دیکھیں گے جس روح نے اللّٰہ کو دیکھا ہوا ہے -
آپ پانچ ہزار واٹ کا بلب دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کی پریکٹیس چاہیئے - پہلی دفعہ دیکھنے پر
اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہیں کرسکے تو اس کا یہ مطلب کب ہوا کہ دوسری دفعہ بعد
میں بھی انہوں نے نہیں دیکھا - نہ دیکھا ہوتا تو وہ اللّٰہ سے ہم کلام کیسے ہوئے ... توریت کیسے
نازل ہوئی - ASAMKH
No comments:
Post a Comment