ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
سسٹم
پشاور مراقبہ ہال میں موجود افراد سے خطاب کرتے ہوئے ... عظیمی صاحب نے اللّٰہ تعالیٰ کے
تخلیقی نظام کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ..." آپ نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ بھیڑ سے بکری یا
زرافہ سے اونٹ پیدا ہوا ہو یا اس کے برعکس ہو - ایک ماں کی آٹھ اولادیں ہوتی ہیں اور ہر ایک
دوسرے سے مختلف -
فرمایا ... یہ تمام تخلیقی نظام دراصل معین مقداروں کا نظام ہے - ان معین مقداروں ہی کے
سبب کبھی سیب کے درخت پر آم نہیں لگیں گے اور آم کے درخت پر کوئی دوسرا پھل -
فرمایا کہ ... اللّٰہ تعالیٰ کے یہ تخلیقی نظام اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتے جب تک ان کو ایک واحد
ہستی کنٹرول نہ کر رہی ہو -
سسٹم کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس میں ٹکراؤ اور الجھاؤ نہ ہو ... ایک سسٹم دوسرے سسٹم کی
خدمت سے اس کے ساتھ تعاون سے انکار نہیں کرتا ... کر ہی نہیں سکتا - اس پورے سسٹم
میں بے شمار مخلوقات ہیں جو اس سسٹم کے بنانے والے کی محتاج ہیں -
اس نظام کو بنا کر اللّٰہ نے ایک اور نظام بھی تخلیق کیا یعنی وسائل کی تقسیم کا نظام اور اس
نظام کو کنٹرول کرنے کا چارج اس ہستی کو دیا جسے رحمت اللعالمین کا خطاب دیا -یعنی ایک
ایسی ہستی جو وسائل کو اپنی رحمت سے تقسیم کرے -
اللّٰہ نے حضورعلیہ الصلوٰة والسلام کو اس لئے پیدا کیا کہ وسائل کی تقسیم کے ساتھ نظام کو
جاری و ساری رکھا جائے - اگر تقسیم میں رحمت شامل نہ ہو تو بے شمار لوگ محروم رہ جائیں -
محبت نہ ہو تو سسٹم میں خلل پیدا ہوجائے -اسی بات پر حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم نے
فرمایا کہ ... اللّٰہ نے مجھے اپنے نور سے پیدا فرمایا -
اللّٰہ تعالیٰ تمام عالمین کے رب ہیں ... ان کو وسائل فراہم کرتے ہیں ... سیدنا حضورعلیہ الصلوٰة
والسلام ان وسائل کو تقسیم کرتے ہیں - تقسیم کے اس سسٹم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا
... میں نے اپنے مرشد ... قلندر بابا اولیاء سے اس سسٹم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے
مجھے بتایا کہ ... سب سے پہلے نور پیدا ہوا پھر حرکت پیدا ہوئی -
بجلی ہائی ٹینشن تاروں میں چلتی ہے ... اگر گرڈ اسٹیشن نہ ہوں ، ٹرانسفارمر نہ ہوں تو سب کچھ
جل جائے - حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم ... اللّٰہ تعالیٰ کی تجلیات کی طاقت کو اپنے ذہن پر
برداشت کرکے اس کو عالمین میں اس طرح پھیلاتے ہیں کہ ہر سسٹم کو اس کی ضرورت کے
مطابق ان تجلیات کی طاقت مہیا ہوتی رہے -
مقام محمود ... کائنات اور اللّٰہ کے درمیان ایک پردہ ہے - یہ پردہ حضورعلیہ الصلوٰة والسلام کی
ذات اقدس ہے - جب اللّٰہ کن فرماتے ہیں اور تخلیقی لہریں اللّٰہ کے ذہن سے نکل کر مقام محمود
پر آتی ہیں تو آپ علیہ الصلوٰة والسلام کی رحمت سے ٹھنڈی ہوکر کائنات میں پھیل جاتی ہیں -
ہم خوش قسمت ہیں کہ حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم کے امتی ہیں - ہم اتنے مقرب بندےؐ کی
امت ہیں جس سے اللّٰہ نے قربت میں کوئی فاصلہ نہیں رکھا - قاب قوسین کہہ کر خالق اور مخلوق
کی حد بندی اور رشتے کو الگ الگ کردیا یعنی یوں تو فاصلہ نہیں رہا مگر خالق ... خالق رہا اور مخلوق
... مخلوق رہی - یعنی اللّٰہ نے اپنے بندے سے پیار کیا ، اپنے سینے سے لگایا ... اس سے راز و
نیاز کیا پھر کہا ... یہ کوئی خواب و خیال کی بات نہیں ، اس نے جو دیکھا سچ دیکھا -..." ASAMKH
No comments:
Post a Comment