Tuesday, August 25, 2026

آواگون



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 آواگون 


 ایک مرتبہ عظیمی صاحب نے اپنے دورۂ انگلینڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ   ...

  انگلینڈ میں ایک صاحب ملنے آئے ،  وہ آواگون پر ریسرچ کر رہے تھے - انہوں نے آواگون  ...

  Reincarnation  کے ڈھائی ہزار  ...  2500  کیس اسٹڈی کئے تھے -

 ان سے مترجم کے ذریعے کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک بات چیت رہی -  وہ صاحب اس نظریے کے

 بارے میں عظیمی صاحب کا نکتہ نظر جاننا چاہتے تھے -

فرمایا ... میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے جو کیس د  یکھے  ہیں ... ان میں کس عمر کے لوگ

 دوبارہ جنم کا دعویٰ کرتے ہیں ؟  

 انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال کی عمر تک کے بچے اور یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بعض کیسوں میں ان

 کے جسموں پر وہی نشان تک       د  یکھے ہیں جو مرے ہوئے آدمی کے جسم پر ہوا کرتے تھے اور

 انہیں یہ دعویٰ ہوتا تھا کہ وہ اسی مرے ہوئے آدمی کا دوسرا جنم ہیں - 

اس پر میں نے ان سے  کہا کہ ...  اس سے بات اور بھی صاف ہوگئی - دیکھیں انسان کا اس دنیا

 میں آنا آدم کا ریکارڈ ہے - یہ وہ ریکارڈ ہے جو انسانی لاشعور کو فیڈ ہوتا ہے اور انسانی لاشعور کی

 مشین اس ریکارڈ کو ایک پرنٹنگ مشین کی طرح چھاپ رہی ہے -

 جب ایک انسان کا ریکارڈ کسی دوسرے انسان کے ریکارڈ سے مکس ہوجاتا ہے تو اس قسم کے

 مظاہرے سامنے آتے ہیں جس قسم کے آپ نے اپنے کیسوں میں اسٹڈی کیئے ہیں اور یہی وجہ

 ہے کہ دنیا میں دوبارہ آنے کا دعویٰ کرنے والا بچہ آٹھ سال کی عمر کے بعد  ... جب اس کا دنیاوی

 شعور توانا ہونا شروع ہوجاتا ہے تو وہ اس دعویٰ سے دستبردار ہوجاتا ہے -

اس پر جب ان صاحب نے جسمانی نشانات کے حوالے سے اپنی بات پر اصرار کیا تو میں نے

 ان سے کہا کہ یہ نشانات ہی تو میری بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پہلے ایک شخص کا ریکارڈ بنا 

 جب لاشعور کی مشین پر دوسرا شخص چھپ رہا تھا تو اس وقت سابقہ ریکارڈ کا عکس اس پر پڑا اور

 وہ نشانات جو پہلے والے ریکارڈ میں موجود تھے اس پر بھی چھپ گئے -

عظیمی صاحب نے  ... آواگون پر تحقیق کرنے والے صاحب کے بارے میں تبصرہ بھی کیا کہ  ...

 وہ صاحب مانتے تھے کہ آپ کی بات میں وزن ہے  ... میں اس پر سوچوں گا لیکن میں ان ڈھائی

 ہزار کیسسز  کا کیا کروں جو میں خود تلاش کرکے دیکھ چکا ہوں - اصل میں ان کا ذہن اس نتیجے سے

 ہٹنے پر تیار نہیں تھا جو انہوں نے اتنی محنت اور ریسرچ کے بعد اخذ کرلیا تھا -  ASAMKH 




No comments:

Post a Comment