Tuesday, April 28, 2026

اختتامی لیکچر کتاب قلندر شعور - 2



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر

 



اختتامی لیکچر    :      کتاب   قلندر شعور 

مقام   :      مرکزی مراقبہ ہال  کراچی 

لیکچرر  :      خانوادہ سلسلہ عظیمیہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب 


انسان کو معنی پہنانے کا علم یعنی اسماء کی صفات میں معنی پہنانے کا علم دیا گیا تھا  -

 اللّٰہ ایک ایسی ہستی ہے جو قادر مطلق ہے  ... پوری کائنات پر کنٹرول رکھنے والی ذات - 

ہر مخلوق کے لئے ایک دائرہ ہے  ... ایک ایسا دائرہ جو  ہر طرف سے محیط ہے  - مخلوق اس

 دائرے سے باہر نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی -

 اس بات کا علم رکھنا  ،  یہ بات علم میں ہونا ہی آدم کی فضیلت ہے - یعنی آدمی میں اللّٰہ نے

 ایک ایسا شعور رکھ دیا ہے جو گہرائی میں جاکر نئی نئی باتیں معلوم کرسکتا ہے  ... ایجادات کرسکتا

 ہے - 

اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان میں  ... اس کو زمینی اور آسمانی مخلوقات سے ممتاز

 کرنے والی ایک صفت رکھ دی گئی ہے اور یہ بھی ہے کہ وہ انفارمیشن کو قبول کرنے کے ساتھ

 ساتھ اس کو رد کرنے والی ایجنسی بھی  رکھتا ہے - 

قلندر کا مطلب ہے ایک ایسا شعور جو دنیاوی  شعور میں رہتے ہوئے تمام شعوروں  کا احاطہ

 کرسکے  -  میں نے یہ کتاب قلندرانہ ذہن سے لکھی  ... یعنی ایسا ذہن جو کائنات کے ایک کونے

 سے دوسرے کونے تک سفر کرسکتا ہے  ... جو خود سے بھی آگاہ ہے اور اپنے خالق سے بھی

 واقف ہے -

 جو خود مسجود کو بھی جانتا ہے اور سجدہ کرنے والے کو بھی اور سجدہ نہ کرنے والے کو بھی  ...

 وہ صرف سجدہ کرنے والا ساجد ہی نہیں ہے -

وہ جانتا ہے کہ آدم کی اولاد بھی آدم ہے - آدم کی موجودہ   پیدائش  نسلی اعتبار سے زمینی شعور کے

 تا بع   پیدا ہے  یعنی محدودیت میں رہ کر وسائل استعمال کرتی ہے -

 دنیاوی معاملات اس کی تمام تر توجہ جذب کئے رہتے ہیں - ہر آدمی جنت میں نافرمانی کا مرتکب

 ہوکر دنیا میں   پیدا ہوتا ہے   یعنی ہر آدمی ...  آدم ہے اور ہر لڑکی ...  حوا - جو شعور ہمیں یہ بتاتا ہے

  ،  اس کا رابطہ براہ راست اللّٰہ سے قائم ہوتا ہے - 

وہ دنیا کے محدود شعور سے نکل کر آسمانی لامحدود شعور میں داخل ہوجاتا ہے - وہ آزاد بندہ جس کے

 اندر لامحدود وسعتیں سمٹ آتی ہیں  ... وہ کپڑوں کے پہننے اور کھانے پینے سے آزاد ہوجاتا ہے

 کیونکہ وہ خود کو جنت میں دیکھنا شروع کردیتا ہے اور جنت میں یہ پابندیاں نہیں ہوتیں -

 وہ بیٹھا دنیا  میں ہوتا ہے لیکن دیکھتا جنت میں ہے - وہ بار بار    حضور صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم 

 کے بیان کردہ ماحول میں داخل ہوتا ہے  - قلندر شعور حاصل ہونے والے بندے کو ٹائم اور

 اسپیس سے آزادی مل جاتی ہے - 

اگر ہماری مادی نظر ایک طرف نو کروڑ میل دور سورج کو دیکھ سکتی ہے تو دوسری طرف ہم چند

 سو فٹ پر بھی دیکھنے میں کامیاب نہیں ہوپاتے - یعنی جب ہم زمین کو دیکھتے ہیں تو ہم جانوروں

 کے برابر شعور میں مقید ہوجاتے ہیں -

 اگر ہم حیوانات سے ممتاز ہونا چاہتے ہیں تو ہمارے اندر ہر وہ صلاحیت موجود ہونا چاہیئے جو

 زمینی اور آسمانی مخلوقات کے اندر موجود نہیں اور صرف یہی ایک صورت ہے کہ ہم قلندر شعور 

سے آراستہ ہو کر اپنی تخلیق کے مقصد کو پالیں -      BMMK









No comments:

Post a Comment