ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
روشن نقطہ
راولپنڈی مراقبہ ہال میں محفل مراقبہ کے موقع پر ایک صاحب نے انسان کے دیکھنے کی صلاحیت
کے حوالے سے ... عظیمی صاحب سے دریافت کیا کہ دل کے دیکھنے سے کیا مراد ہے ؟
عظیمی صاحب نے جواب میں ... قرآن کریم کی آیت ... ختم اللّٰہ علیٰ قلوبہم ، تلاوت کرکے
فرمایا ... اللّٰہ نے مہر کردی دلوں پر اور سماعتوں پر اور دبیز پردے ڈال دیئے بصارتوں پر ... یعنی
اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دیکھنے کا تعلق مادی آنکھ سے نہیں بلکہ روحانی آنکھ سے
ہے -
خواب میں دیکھنا ہو یا معراج کے موقع پر اللّٰہ سے راز و نیاز ہونا ... اللّٰہ کا اس کو فواد کہنا ... یہ
بتانا کہ دل نے جو دیکھا غلط نہ تھا یعنی اصل دیکھنا دل کا دیکھنا ہے -
پھر روح حیوانی ، روح انسانی اور روح اعظم کا تذکرہ فرما کر لطائف ستہ یعنی لطیفہ نفسی،
لطیفہ قلبی ، روحی ، سری ، خفی اور اخفیٰ کے بارے میں بتا کر واضح کیا کہ دیکھنے کا تعلق
دراصل لطیفہ قلبی سے ہے -
مادی آنکھ ایک طرف تو ایک باریک سے کاغذ کے پار بھی نہیں دیکھ سکتی اور دوسری طرف نو
کروڑ میل دور سورج کو دیکھتی ہے یعنی اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ انسان نے خود کو محدود کیا
ہوا ہے -اس کو وہ نظر استعمال کرنا ہی نہیں آتی جو اس کو نو کروڑ میل دور سورج اور اس کے
بیچ آنے والی اشیاء کو دکھا سکتی ہے -
اب جیسے ہوا ہے ... گیسیں ہیں ... وائرس ہیں ... فرشتے ہیں ... وہ ان کوکیوں نہیں دیکھتا -
یہ سب شعور میں محدود ہونے کے سبب ہے -جب انسان اپنے دل کی آنکھ سے دیکھنا سیکھ
جاتا ہے تو اس کے دیکھنے کی صلاحیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اربوں کھربوں میل دور دیکھ سکتا
ہے -
فرمایا ... ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ میں مومن کے دل میں رہتا ہوں -گوشت کا لوتھڑا دل نہیں
ہے بلکہ اس کا باطنی رخ روشن نقطہ ہے اور اسی سے بندہ عالم شہود میں داخل ہوتا ہے -
انسانی شعور ... روح حیوانی ہے - لاشعور ... روح انسانی ہے - تحت لاشعور روح اعظم ہے -
روح کے ان تینوں دائروں کو سیراب کرنے والا کرنٹ ایک ہے -قلب ایک ایسا روشن نقطہ
ہے جو دو طرح سے کام کرتا ہے -
ایک طرف وہ مظاہرات کو دکھاتا ہے ، خواہ وہ مادی ہوں یا غیر مادی اور دوسری طرف ان
مظاہرات کے غیب کو دکھاتا ہے یعنی یہ دکھاتا ہے کہ مظاہرات کی اساس کیا ہے -
قلب سے غیر مادی چیزوں کو دیکھا جاتا ہے -یہ آسمان حد نظر ہے ... جہاں ہماری نظر ٹکرا کر
پلٹتی ہے اور اس کو نیلا دکھاتی ہے -ہم اس حد نظر کو فوکس کرنے کی طاقت کو کم یا زیادہ کرسکتے
ہیں اور یہ قلب کا کام ہے -
ہمارا قلب ہمارے ارادے کے تحت دکھاتا ہے -اگر ہم کسی چیز کو دیکھنے کا ارادہ نہیں کرتے تو
اسے دیکھ بھی نہیں سکتے - BMMK
No comments:
Post a Comment