ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
شعور
عظیمی صاحب فرماتے ہیں ... ہر آدمی کے اندر ایک شعور ... ایک طرز فکر کام کرتی ہے -شعور
ایک ایسی ایجنسی ہے جو نیوٹرل نہیں ہوتی یعنی اس کا جھکاؤ کسی نہ کسی طرف ضرور ہوتا ہے -
انسان کا شعور محدود ہے -
وہ آج تک کوئی ایسی ایجاد نہیں کرسکا جو اس نے شعوری حدوں سے باہر کی ہو ... اس میں
وسائل کی پابندی نہ ہو -پرندوں کو اڑتے دیکھ کر انسان نے اڑنے کے وسائل کھوجے یعنی
انسانی عقل ... حیوانی عقل کے تا بع ہوکر ایجادات کرتی ہے -
ہمارا شعور ہمیں محدود کرتا ہے اور ہم اس محدودیت کو آزادی کا نام دے کر خود کو دھوکا دیتے
ہیں -ایک طرف وہ آزاد ہونا چاہتا ہے اور دوسری طرف وہ خود کو چار دیواری میں مقید رکھتا
ہے اور اس کو تحفظ کا نام دیتا ہے -
اب تک انسانی شعور کا صرف پانچ فی صد حصہ ہی بیدار ہوسکا ہے -باقی کب ہو یہ کوئی نہیں جانتا
-ویسے انسان کے شرف کا انسان کے شعوری ارتقاء سے کوئی تعلق نہیں ہے -
انسان دوسری مخلوقات سے اللّٰہ کے حکم کے مطابق ممتاز ہے لیکن یہ شرف کسی بھی طور شعور
کی بنیاد پر نہیں ہے ... یہ شرف اس علم کی بدولت ہے جو فرشتوں کو بھی حاصل نہیں ہے -
فرمایا ... ساری ریسرچ رفتار پر استوار ہے -اگر شعور کی رفتار بڑھا کر اتنی زیادہ کردی جائے کہ وہ
شعور ہی نہ رہے تو اس کو محدودیت سے باہر نکالا جاسکتا ہے -ہمارا شعور ٹھس بیل ہے آرام
طلب ہے ... ذاتی مفاد کے علاوہ وہ کام ہی نہیں کرتا -
اس عادت کے خلاف جب انسان اپنی ذات سے ہٹ کر نوع انسانی کے لئے خدمت خلق کا
شعبہ قائم کرتا ہے تو اس کے شعور کی رفتار بڑھ جاتی ہے -BMMK
No comments:
Post a Comment