ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
جزا و سزا
ایک صاحب نے ... عظیمی صاحب سے جزا و سزا کے بابت دریافت کیا تو فرمایا ... آپ کسی کو
قتل کرتے ہیں ... خدا نہ کرے کہ آپ قتل کریں ، میں ایک مثال دے رہا ہوں -
اس عمل کی ایک فلم بن گئی -اب یہ فلم آپ کو بار بار دکھائی جائے اور ہر بار اس کا وہی تاثر
مرتب ہو اور آپ ہر بار انہی کیفیات سےگزریں جو اس وقت طاری ہوئی تھیں جب آپ قتل
کر رہے تھے ... یہ سزا ہوئی -
فرمایا... یہی حال جزا کا ہے یعنی اعمال کی فلم بنتی ہے -اچھے اعمال کی فلم میں کیفیات اچھی
ہوتی ہیں اور برے اعمال کی فلم میں کیفیات اذیت ناک ہوتی ہیں -جب ایک کام ہوگیا اور
اس میں آپ کی مرضی شامل نہیں تو پشیمانی کیسی -
پشیمانی کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ نے وہ کام اپنی مرضی سے کیا -جب آدمی بے اختیاری کی زندگی
اپنا لیتا ہے تو پھر جزا اور سزا دونوں کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے -جب آپ اضافی عقل
استعمال کرتے ہیں تب خود کو با اختیار سمجھتے ہیں اور یہیں سے انانیت زیر بحث آجاتی ہے -
یہ اضافی عقل ہی تو ہے جو انسان کو مغالطے کا شکار کرتی ہے - BMMK
No comments:
Post a Comment