ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
ریسرچ سینٹر
مغرب میں ہونے والی ریسرچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عظیمی صاحب
بیان کرتے ہیں ... ایک بار میں وہاں ایک ریسرچ سینٹر گیا -وہاں پر دبیز قالین بچھے تھے ...
دیواریں ساؤنڈ پروف تھیں -
میں نے ایک کاغذ اٹھایا تو آواز پیدا ہوئی ... ایک شور سا اٹھا -ایک عورت تیزی سے آئی
اور اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اشارے سے شور کرنے سے منع کیا کہ مت کریں -وہاں ایک
صاحب کو دیکھا، نگاہیں دور کہیں خلاء میں جمی ہوئی ... ہاتھ میں قلم ... جوں ہی کوئی خیال آتا وہ
کاغذ پر کچھ لکھتے -
سیکریٹری آتی ، وہ کاغذ اٹھا کر لے جاتی اور خاموش مشینوں پر ٹائپ ہوتا -ان کو نہ یہ ہوش کہ ہم
نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں یا نہیں -ان کو انہوں نے معاش سے آزاد کیا ہوا ہے -رہنے کو
عالیشان گھر ، گھومنے پھرنے کو گاڑی ، بینک میں وافر بیلنس -
یہ سب سہولتیں وہ اس لئے دیتے ہیں کہ ذہن کہیں رکے یا اٹکے نہیں -اب اگر معاش کے
مسئلے ہوں تو ذہن کہاں کھلے گا -ہمارے یہاں کہیں سیکس میں اٹکتا ہے تو کہیں بچوں کی فیسوں
میں الجھتا ہے -آپ ان سے اپنا موازنہ تک نہیں کرسکتے ، بھئی ہمارا ان کا کیا مقابلہ ؟ BMMK
No comments:
Post a Comment