ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
مکتب عشق
ایک سفر کے دوران ... ڈاکٹر مقصود الحسن عظیمی صاحب نے اپنے پیر و مرشد ... حضرت عظیمی
صاحب سے اس شعر کے معنی و مفہوم جاننے کی خواہش کی ...
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
عظیمی صاحب نے فرمایا ... اس شعر میں مکتب عشق سے مراد خانقاہی نظام ہے -جب مرید کو
مراد کا ذہن اور طرز فکر حاصل ہوجاتی ہے تو گویا سبق یاد ہوگیا -یہاں دستور سے مراد طرز فکر ہے
-اب وہ کسی اور کام کا کہاں رہا -وہ تو اپنے مرشد کے کام سے لگ گیا -
وہ ایک بھنور میں داخل ہوگیا جس سے نہ وہ خود باہر نکلنا چاہتا ہے اور نہ نکل سکتا ہے -آپ ایک
تالاب میں کنکر پھینکیں لہریں پھیلیں گی تو آخر کہاں تک -اسی تالاب کے اندر ہی ان کا جینااور
مرنا ہے ... وہیں فنا ہوجائیں گی -
جیسے تالاب میں اٹھنے والی لہر کناروں سے ٹکرا کر واپس تالاب میں پلٹ جاتی ہے اسی طرح مرید
کی ہر سوچ ہر فعل اور ہر عمل ایک لہر کی طرح اپنے تالاب کے کناروں سے ٹکرا کر واپس پلٹتی
رہتی ہے - ASAMKH
No comments:
Post a Comment