ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
حالت جنوں
اپنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے عظیمی صاحب نے فرمایا ... ایک بار ان کے پڑوسی کا
بچہ ان کے پاس آیا اور بتایا کہ اس کا ابو ، اس کی امی کو مار رہا ہے -
فرمایا ... میں نے چھڑایا تو وہ الٹا میرے سر ہوگئے کہ آپ نے مداخلت کیوں کی ...
میں نے کہا ... آپ اپنی بیوی کو کیوں مار رہے ہیں ...
وہ کہنے لگے ... مجھے قرآن اجازت دیتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو مار سکتا ہوں ...
اس پر میں نے کہا ... آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ قرآن نے یہ اجازت کس بات پر دی ہے -
مگر وہ اپنی ہی کہتے رہے -اتنی دیر میں ان کے بڑے بھائی بھی وہاں پہنچ گئے ... متشرع قسم کی
داڑھی والے تھے -
کہنے لگے ... مارنے کی کیا ضرورت ہے نباہ نہیں ہورہا تو تم طلاق دے دو -
انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور کھڑے کھڑے ایک دو تین طلاق کہہ کر فارغ کردیا -
میں نے کہا ... طلاق یوں نہیں ہوسکتی -میں بخاری شریف لے کر بیٹھ گیا -میں نے انہیں
احادیث کے ذریعے سمجھانا چاہا -انہوں نے مولانا مودودی اور مفتی شفیع اوکاڑوی کو خط لکھے
-دونوں نے کہہ دیا کہ طلاق ہوگئی ہے -
لیکن میں نے اپنی بات پر اصرار جاری رکھا -اس پر انہوں نے کہا ... اگر ان میں سے ایک بھی
صاحب لکھ کر دے دیں کہ طلاق نہیں ہوئی تو میں مانوں گا -میں نے مفتی صاحب سے وقت لیا
... جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بزرگوں کی طرح بات سنی -
میں نے متعلقہ احادیث کے حوالے دیئے -ان صاحب کے حالت جنوں میں طلاق دینے کے
بارے میں اپنی بات کہی -میرے ساتھ ان صاحب کا بیٹا بھی تھا جنہوں نے طلاق دی تھی ،
اس نے میری بات کی تائید کی -
انہوں نے کہا ... آپ کی بات درست ہے مگر گواہی معتبر نہیں -
شاید انہوں نے بھی میری داڑھی کی وجہ سے ایسا کہا تھا -اس پر میں نے اپنا تعارف کرایا ... وہ
میرے پورے گھرانے سے واقف تھے -خیر قصہ مختصر انہوں نے لکھ کر دے دیا کہ طلاق نہیں
ہوئی گواہی معتبر ہے -
فرمایا ... اگر میں اتنا زور نہ لگاتا تو شاید کام بھی نہ ہوتا -وہ گھرانہ آج بھی ہنسی خوشی زندگی بسر کر
رہا ہے - BMMK
No comments:
Post a Comment