Monday, June 8, 2026

بروج



ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 بروج


   عظیمی صاحب سے سوال کیا گیا کہ  ... یہ بروج کیا ہیں ... جن سے آسمانوں کو زینت دی گئی

 دیکھنےوالوں کے لئے اور چھپا لیا شیطان مردود سے  ؟ 

عظیمی صاحب نے فرمایا  ... بروج کا مطلب ہے دنیائیں -یہ دنیائیں ہمارے لئے اسٹور ہاؤ سز

  کا کام کرتی ہیں -وہ جو قلندر بابا اولیاء نے لوح و قلم میں فرمایا ہے کہ مستقل نظام اور 

غیر مستقل نظام ... انہیں مستقل کے بجائے عارضی مستقل سمجھنا چاہیئے کیونکہ وہ بھی مستقل

 نہیں ہوتے  ... صرف ان کی عمر کا تعین ہوتا ہے -

غیر مستقل وہ ہوتے ہیں جن کی عمروں کا تعین نہیں ہوتا -ہم ان لاکھوں کروڑوں دنیاؤں میں

  بیک وقت موجود ہیں ... وہاں مٹتے ہیں تو یہاں فیڈ ہوتے ہیں جیسے گندم کا ایک دانہ مٹی میں مل کر

 فنا ہوجاتا ہے اور سترہ سو دانوں کی زندگی کا سبب بنتا ہے -اگر ایک دانہ نہ مٹے اور فنا نہ ہو

 تو سترہ سو دانے نہیں بن سکتے -اسی طرح انسان بھی چھ ارب ہوگیا ہے -

پھر اس بات کو پروجیکٹر کی مثال سے سمجھاتے ہوئے فرمایا  ... پروجیکٹر میں ایک تو فلم ہوتی ہے

 اور دوسرے اس فلم کو اسکرین پر لانے کے لئے روشنی ہوتی ہے -روشنی فلم پر پڑتی ہے تو

 وہاں موجود تصویر ٹوٹتی ہے اور روشنی کی لہروں کے ذریعے اسکرین پر منتقل ہوجاتی ہے -جوں

 جوں یہ فلم چلتی ہے  ... یہ فلم پرانی ہوتی چلی جاتی ہے -

بچپن اصل میں اس فلم کے نقوش کا تازہ پن ہے اور بڑھاپا اس فلم کے گھس جانے اور پرانا

 ہونے کو کہتے ہیں -جوں جوں یہ فلم چلتی ہے  ... وہاں پر موجود تصویر ہر لحظہ ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرتی

 ہے -وہ تصویر دھندلی ہوتی چلی جاتی ہے -

اس تصویر کا دھندلا  پن بڑھاپے کی صورت میں نظر آتا ہے -وہاں فلم پر تصویر ٹوٹتی ہے تو ہمیں

 یہاں فیڈنگ ہوتی ہے -اس پورے نظام کو چلانے پر بیس ہزار فرشتے مامور ہیں -پھر اپنے ہاتھ کو 

 کان تک لے جاکر دکھاتے ہوئے کہا  ... یہ ایک حرکت تبھی ممکن ہوئی جب بیس ہزار فرشتوں

 نے یہ پروسس مکمل کیا -     BMMK




No comments:

Post a Comment