ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
وسائل
عظیمی صاحب فرماتے ہیں ... یہ دنیا سترہ بار تباہ کرکے دوبارہ آباد کی گئی ہے اور اب پھر اس کا
ارتقاء اپنے اختتامی مراحل پر پہنچ چکا ہے لیکن اس سفر میں انسان ایک بار پھر پریشانیاں اور
بےسکونی سمیٹ لایا ہے -
جب ہمارے پاس وسائل کم تھے سکون زیادہ تھا -جب وسائل زیادہ ہوگئے ہیں تو سکون کم
ہوگیا ہے -مادی وسائل چونکہ عارضی ہوتے ہیں اس لئے ان سے حاصل ہونےوالا سکون بھی
ناپائیدار اور عارضی ہوتا ہے - مادیت میں ہر چیز پر ہر لحظہ فنا وارد ہوتی ہے لیکن مادیت کو
سنبھالنے والی چیز پر موت وارد نہیں ہوتی -
انسان اس لئے پریشان نہیں کہ وہ مادی وسائل استعمال کرتا ہے بلکہ اس کی پریشانی کی اصل
وجہ یہ ہے کہ اس نے ان وسائل کو مقصد حیات بنا لیا ہے -
اگر ہم دنیا کو ایک مسافر خانہ ... ایک ہوٹل یا ایک بحری جہاز کی طرح وقت آنے پر چھوڑنے
کے لئے تیار رہیں اور مقصد وسائل کو نہیں بلکہ وسائل بنانے والے کو بنا لیں تو پریشانیاں ہمیں
اپنا نشانہ نہیں بنا سکیں گی -
فرمایا ... وسائل بچے کے پیدا ہونے سے پہلے موجود ہوتے ہیں یعنی یہ دنیا ہمارے لئے بنائی گئی
ہے ... ہمیں دنیا کے لئے نہیں بنایا گیا -ہمیں اس دنیا میں مسافروں کی طرح زندگی گزارنی چاہیئے
اور اس کے لئے ہمیں پیغمبروں کی زندگی کو مثال بنانا ہوگا - ASAMKH
No comments:
Post a Comment