ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
خوف اور غم
قرآن کریم کی آیت ... الا ان اولیاء اللّٰہ لا خوف علیھم و لا ھم یحزنون ... کی شرح میں
عظیمی صاحب فرماتے ہیں ... یہاں غم سے مراد کسی چیز کے چھن جانے کا غم اور خوف سے
مراد کسی چیز کے چھن جانے کا اندیشہ لاحق ہونا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا اصل
مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی قربت سے سرفراز ہوتے ہیں ان کو کسی چیز کے چھن جانے
کا اندیشہ لاحق نہیں رہتا اور نہ ہی کسی چیز کے چھن جانے پر انہیں کوئی ملال ہی ہوتاہے -
مزید وضاحت فرمائی کہ ... انسان پہلے کسی چیز کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے ... اس
دوران اس کو وسوسے گھیرے رہتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوگا بھی یا نہیں -پھر اللّٰہ تعالیٰ فضل و
کرم کرتے ہیں اور وہ چیز حاصل ہوجاتی ہے -
جب وہ حاصل ہوجاتی ہے تو یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ کہیں یہ چیز چھن نہ جائے -اس ڈر اور
خوف سے زندگی آلودہ تر ہوتے ہوتے جب ایک دن وہ چیز سچ مچ چھن جاتی ہے تو غم لاحق
ہوجاتا ہے -
فرمایا ... اللّٰہ کے دوستوں کو ایسی طرز فکر حاصل ہوتی ہے کہ جب وہ کسی چیز کے حصول کے
لئے تگ و دو کرتے ہیں تو وسوسے اور خدشات ان کو پریشان نہیں کرسکتے اور جب وہ اس کو
حاصل کرلیتے ہیں تو ان کو اس کے چھن جانے کا ڈر اور خوف پریشان نہیں کرتا اور جب وہ چیز
اسباب و علل کے قانون کے تحت استعمال کرلیتے ہیں یا وہ ان کے پاس مزید نہیں رہتی تو وہ
غمگین نہیں ہوتے -
اس کے ہجر میں دبلے نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ دروبست
اللّٰہ کی طرف سے ہورہا ہے اور اسی کی طرف پلٹ رہا ہے -
اگر ہم قرآن حکیم کے ارشاد کے مطابق ان باتوں کو سمجھ لیں اور ایسی طرز فکر حاصل کرلیں
جس میں وسوسے ، اندیشے ، ڈر او رخوف نہیں ہوتا تو ہم لامحالہ غم اور حزن سے محفوظ
ہوجائیں گے اور ہم بھی اللّٰہ کے دوست بن سکیں گے -
فرمایا ... اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی دوستی کی شرا ئط ہی تو بیان فرمائی ہیں - BMMK
No comments:
Post a Comment