ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
عشق بلا خیز
اقبال احمد قریشی صاحب روایت کرتے ہیں ... ایک صاحب نے ، قادری صاحب سے کسی
بات پر اختلاف کیا - موضوع عشق کی کیفیت رہا ہوگا - ان صاحب نے قادری صاحب سے کہا
... آئیں چل کر عظیمی صاحب سے پوچھ لیتے ہیں کہ عشق کیا ہوتا ہے -
قادری صاحب نے منع کرتے ہوئے کہا ... فقیر بات سمجھانے کو ... وہ بات وارد کردیا کرتے
ہیں -
ان کو چین کہاں ، موقع کی تلاش میں رہے - ایک وقت ایسا مل ہی گیا - قادری صاحب بھی بیٹھے
ہوئے تھے کہ انہوں نے عظیمی صاحب سے سوال کردیا ... یہ عشق کیا ہوتا ہے ؟
پیشتر اس کے کہ عظیمی صاحب کوئی جواب دیتے .... قادری صاحب نے سر سے ٹوپی اتاری اور
سر جھکاتے ہوئے آگے کیا اور کہا ... مجھے تو دم کر دیجیۓ - عظیمی صاحب نے ان کے سر پر ہاتھ
رکھا اور کچھ پڑھ کر پھونک دیا -
ان صاحب نے اپنا سوال دہرایا - عظیمی صاحب نے ان کو جواب میں کچھ کہا ... شاید یہ کہا کہ
... جب ہوگا تو پتہ چل جائے گا -
اس کے بعد خدا کا کرنا کیا ہوا ... وہ صاحب عشق بلا خیز میں گرفتار ہوئے - کھانا ، پینا ، سونا اور
جاگنا ... سب ہوش اڑ گئے - کتنے ہی ماہ وہ گرفتار بلا رہے - ایک روز گھر والے پکڑ کر عظیمی
صاحب کے پاس لائے اور بتایا کہ انہیں کچھ ہوگیا ہے -
اچھے بھلے بیٹھے ہوتے ہیں ... کپڑے پھاڑ دیتے ہیں ... گھر سے نکل جاتے ہیں ... ان کے ہوش
ٹھکانے نہیں - بدنام ہورہے ہیں اور کر رہے ہیں - ان پر دم کر دیجیۓ -
عظیمی صاحب نے دم کر دیا ... ہوش ٹھکانے آئے - قادری صاحب کی بذلہ سنجی اور دل لگی
بازی سے کون آگاہ نہیں - بعد میں اکثر انہیں یہ کہہ کر چھیڑا کرتے ... ان سے پوچھیں یہ عشق کر
چکے ہیں - ASAMKH
No comments:
Post a Comment