ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
مکی اور مد نی
اپنے دورۂ انگلینڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک مو قع پر عظیمی صاحب نے فرمایا ...
ایک بار میں انگلینڈ گیا - وہاں مجھے جس ہال میں تقریر کرنا تھی وہاں قریب قریب ہر طبقہ فکر اور
مسلک کے لوگ آئے ہوئے تھے -
ہال میں تین سو افراد کے لئے گنجائش تھی اور وہاں پر کوئی ساڑھے تین سو افراد تھے - کافی لوگ
کھڑے ہوکر تقریر سن رہے تھے - میں نے یہ دیکھ کر کہ ہر مسلک کے لوگ ہیں کہا ... کتنا اچھا ہو
کہ اگر ہم خود کو بریلوی اور دیوبندی وغیرہ کہنے کے بجائے مکی اور مد نی کہنا اور کہلوانا شروع
کردیں -
جب ہمارا قرآن ایک ، دین ایک ، رسول صلی اللّٰه علیہ وآ لهٖ وسلّم ایک ، نماز ایک ہے تو ہمیں
کیا ضرورت ہے کہ ہم خود کو ہندوستانی شہروں کے ناموں سے منسوب کریں - اس سے بہتر ہے
کہ ہم مکی اور مد نی کی نسبت اپنائیں تاکہ ہمیں ویسے ہی انوار بھی منتقل ہوں -
فرمایا ... میرے یہ کہنے کی دیر تھی ہال خالی ہوگیا - اختلافات مٹانے اور اتفاق اور یگانگت پیدا
کرنے کی بات سننا تک گوارا نہیں تھا ان کو - دو منٹ بعد ہی سارا ہال خالی دیکھ کر میں بہت
حیران ہوا - کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اچانک کیا ہوا - پھر بعد میں سمجھ میں آیا کہ یہ وجہ ہوئی کہ میں
اخوت اور یکجہتی کی بات کر بیٹھا - ASAMKH
No comments:
Post a Comment